اتوار , 26 مئی 2019

صدر مملکت عارف علوی نے بتا دیا،6 ماہ بعد کیا ہو گا ؟

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا معاشی معاملات پر حکومت اور اپوزیشن کو ایک پیج پر لانے میں کردار ادا کرنے کے سوال کا جواب دیتےہوئے کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں تو ایسا ممکن نہیں ہے تاہم 5 سے 6ماہ کے بعد ایسا ممکن ہو سکتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ضروری چیزوں پر اکھٹی رائے قائم کرے گی . دوران انٹرویو ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ تا کہ قوم کے اندر بھی کچھ چیزوں کے حوالے سے اتفاق رائے پیدا ہو،ایک اور چیز جو میں بہت ضروری سمجھتا ہوں کہ نیشن بلڈنگ پر بھی اتفاق رائے ہونا چاہیئے،پاکستان کی تاریخ میں ہمارے ساتھ بہت مثبت چیزیں بھی ہوئیں .

مجھے لگتا ہے کہ نیشنن بلڈنگ کا کام صرف حکومت کا نہیں ہے . یہ کام میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کا ہے . میں سوشل میڈیا کو بہت اہمیت دیتا ہوں کیونکہ کوئی بھی واقعہ ہو وہ سوشل میڈیا پر پہلے آتا ہے . اس لیے ہمیں سوشل میڈیا کو اہمیت دینے کی ضرورت ہے . . انہوں نے نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پہلے میں سمجھتا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا چاہیے، لیکن معیشت کو بہتر کرنے کیلئے جانا پڑا .

لہذا پہلے بھی ٹھیک کہتے تھے کہ نہیں جانا چاہیے اب جب حالات دیکھ کر گئے تو اب بھی ٹھیک ہے . صدر مملکت نے ایک سوال پر کہا کہ میں نے صدارتی نظام کی کبھی بات نہیں کی . پارلیمانی نظام کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے . پارلیمانی نظام پر سب کا اتفاق ہے، اس کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے . موجود ہ آئین پارلیمانی نظام کا ہے . اگر کوئی آئین کو تبدیل کرنا چاہے گا اس کیلئے دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی . لیکن ابھی کسی کے پاس دوتہائی اکثریت نہیں ہے . لہذا یہ بحث اصل مسائل سے توجہ ہٹا رہی ہے . میں کہوں گا کہ اس ڈبیٹ کو ختم ہونا چاہیے بلکہ چارٹرڈ آف اکانومی لایا جائے، لوگوں کے مسائل حل کیے جائیں . عارف علوی نے کہا کہ بہت تیزی سے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے . آئین میں رہتے ہوئے ماہرین سے مدد لینے میں کوئی حرج نہیں ہے . انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے وسائل طے ہیں، اسی طرح جب آئین کے اندر ترامیم کرسکتے ہیں تو18ویں ترمیم میں بھی ترمیم اور مزید بہتری لا سکتے ہیں، یہ کوئی صحیفہ آسمانی نہیں ہے .

This post has been Liked 1 time(s) & Disliked 0 time(s)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے