0

میں حاملہ ہو گئی مگر ان درندوں کو پھر بھی ترس نہ آیا اور ۔۔۔۔۔۔ تقریبا ً ایک سال داعش کی قید میں رہنے والی جرمنی کی خاتون صحافی نے اپنی سر گزشت بیان کر دی

کہتے ہیں بُرا وقت کبھی کہہ کر نہیں آتا. ایسا ہی ہوا جنینا فنڈائسن کے ساتھ، جب انہوں نے خانہ جنگی کے شکار ملک شام جانے کا فیصلہ کیا تھا.
وجہ کیا تھی؟ صرف اُن دہشت گردوں اور جہادیوں کے بارے میں خصوصی مواد حاصل کرنا جو خانہ جنگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مشہور جرمن میڈیا گروپ ڈوئچے ویلے کی ایک رپورٹ کے مطابق …… اپنا اثر و رسوخ بڑھاتے جا رہے ہیں. ان دہشت گردوں سے لورا نے اِن کا رابطہ کرایا تھا، جو جنینا کی اسکول کی دوست تھی اور ساتھ ہی وہ دہشت گردوں کے ساتھ بھی تھی. لورا بھی دہشت گردوں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے دس سال قبل پاکستانی قبائلی علاقے وزیرستان گئی تھی اور اس کے بعد وہ کبھی واپس جرمنی نہیں پہنچی. جنینا فنڈائسن نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ میری اولین فلم ہوتی، جس میں لورا سے میری دوستی کی کہانی بیان کی جاتی.‘‘ یہ بات 2015ء کے موسم خزاں کی ہے. فنڈائسن لورا کی والدہ کے ساتھ ترکی کے شہر انطاقیہ گئیں. وہاں پر کچھ ایسےاسمگلرز موجود تھے، جن کا کام انہیں لورا کے پاس لے کر جانا تھا. یہ شہر ترکی اور شامی سرحد پر واقع ہے اور یہاں پر حالات انتہائی کشیدہ ہیں. اس موقع پر لورا کی والدہ نے واپس جرمنی آنے کا فیصلہ کیا مگر حاملہ صحافی نے تمام تر انتباہ کے باوجود اپنا سفر جاری رکھنے کی ٹھانی، ’’مجھے تحفظ کی ضمانت دی گئی تھی اور یہ میرے لیے اہم تھی. اگر میں آج کے حوالے سے سوچوں تو میری طرف سے یہ بہت بڑی نادانی تھی. لیکن اس وقت میرے اندازے غلط تھے.‘‘ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو مزید بتایا، ’’مجھے میری دوست کی جانب سے تحفظ کی ضمانت ایک ای میل کے ذریعے بھیجی گئی تھی اور اس وقت اس کے الفاظ میرے لیے کافی تھے.‘‘ اسمگلر جنینا فنڈائسن کو لے کر شمالی شام پہنچے، جہاں ان کی ملاقات لورا سے کرائی گئی. انہوں نے یہاں آٹھ دن گزارے. دہشت گردوں کا ساتھ دینے والی لورا اور جنینا بون کے اسکول میں ساتھ پڑھتی رہی ہیں، ’’وہ ہمیشہ سے میری دوست تھی، ہم ایک دوسرے کو بہت عرصےسے جانتے تھے. ہمیں ایک دوسرے پر اعتماد تھا اور یہی میرے سفر کی وجہ بھی بنی.‘‘ جنینا اور لوار نے بہت سا وقت ایک دوسرے سے ساتھ گزار اور اس دوران جنینا نے النصرہ فرنٹ کے کئی کمانڈروں سے انٹرویو بھی کیے. یہی وہ دہشت گرد گروہ ہے، جس نے بعد ازاں جنینا کو اغوا بھی کیا تھا. اس دوران ان لوگوں نے قریبی علاقوں کے دورے کیے، ’’ہم ادلب گئے اور میں نے گاڑی کے شیشے نیچے کر کے ویڈیو بھی بنائی.‘‘ جب جنینا کے پاس مناسب مواد اکھٹا ہو گیا تو اس نے اپنی دوست سے رخصت لی اور ٹیکسی میں بیٹھ کر ترکی کی سرحد کی جانب روانہ ہوئی. لورا کے گروہ کا ایک جنگجو اس موقع پر جنینا کے ہمراہ تھا. سرحد سے کچھ ہی دور گاڑی رک گئی، ’’مجھے کچھ عجیب سا احساس ہو رہا تھا. کیونکہ ٹیکسی کی رفتار بہت کم ہوتی تو کبھی بہت بڑھ جاتی. پھر متعدد نقاب پوش مسلح مردوں نے ٹیکسی کو روک لیا. انہوں نے ڈرائیور اور ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کو گاڑی سے باہر نکالا اور خود گاڑی میں بیٹھ گئے. ایک جنگجو میرے ساتھ بیٹھ گیا. میں خوفزدہ تھی لیکن پھر بھی پرسکون انداز میں بیٹھی رہی کیونکہ مجھے علم تھا کہ میں کچھ کر نہیں سکتی.‘‘ اغوا کاروں نے جنینا کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور گاڑی چل پڑی. وہ 351 دنوں تک جنگجوں کے قبضے میں رہیں اور ہر چند ماہ میں ان کا ٹھکانہ تبدیل کیا گیا.

کیٹاگری میں : Uncategorized

اپنا تبصرہ بھیجیں