0

نئے پاکستان میں انتہا پسندی کو شکست دینی ہو گی

محمد امان اللہ
maniptv@gmail.com

نئے پاکستان میں انتہا پسندی کو شکست دینی ہو گی
یہ 1978ءکا سال اور نومبر کی برسات تھی‘جب جنوبی امریکہ کے ملک ’گیانا‘ کے گھنے جنگلات میں وقوع پزیر ہوئے ایک واقعے نے پوری دنیا کو ہلا کررکھ دیا۔ گیانا کے شہر جونزٹاﺅن کے کورٹ ہال میں ایک ہزار کے قریب امریکیوں کی گلتی سڑتی لاشیں کئی سوال کر رہی تھیں۔ اس شہر کا نام اس مذہبی جنونی کے نام پر رکھا گیا جس نے مذہبی جذبات کو ابھار کر اپنے مریدوں کو سائنائڈ جیسا خطرناک زہر پینے پر راغب کیا تھا۔
جم جونز امریکی ریاست انڈیانا سے تعلق رکھنے والا عیسائیوں کا ایک راہب تھا جس کے ہزاروں مرید ین تھے۔ اس نے اپنی جعلی کرامات سے اُن کو اندھی عقیدت میں مبتلا کر رکھا تھا۔ اس کا انداز بیاں کما ل تھا جس کے ذریعے وہ نسلی امتیاز کے خلاف لوگوں کے جذبات ابھار کر اپنے پوشیدہ مقاصدکے حصول کی تیاری کر رہا تھا۔ ان دنوں امریکہ میں نسلی تعصب عروج پر تھا۔ جم جونز نے کئی تعلیمی ادارے اور یتیم خانے قائم کیے اور ہزاروں افراد کو اپنی اندھی محبت میں مبتلا کر کے سیاسی ومذہبی اثرورسوخ قائم کیا۔ لیکن ہر عروج کو زوال ہوتا ہے۔ رفتہ رفتہ جونز کا فراڈ آشکار ہونے لگا۔ اخباروں میں اس کی منشیات فروشی، جنسی بے راہ روی اور ڈرگ لارڈز سے تعلقات کی داستانیں رقم ہونے لگیں۔
جونزنے اپنے فراڈ کا پردہ چاک ہونے کے ڈر سے اپنے مریدوں کے ہمراہ راہ فرار اختیار کی اورلاطینی امریکہ کے ملک گیانا کے جنگلات کو اپنا مسکن بنا لیا۔اس نے جونز ٹاﺅن کے نام سے ایک چھوٹا سا شہر بساڈالا۔ اس دوران امریکہ میں اس کے مریدوں کے والدین اور خاندان کے دیگر افراد نے مظاہرے شروع کر دیے ۔ ان مظاہروں نے امریکی کانگریس کو تحقیقات پر مجبور کیا امریکی کانگریس کے رکن’ لیورائن‘ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔ رائن نے علاقے کے دورے کیے اور حقائق کی چھان بین کیے ۔ اُس نے جم جونز سے مذاکرات بھی کیے جو لاحاصل رہے۔ اسی دوران جم جونز کے چاہنے والوں نے رائن کو قتل کر دیا۔ جم جونز جانتا تھا کہ اب امریکی حکومت اسے نہیں چھوڑے گی۔ اس نے گرفتاری سے بچنے کا خوفناک منصوبہ بنایا۔ اس نے اپنے مریدوں کے ساتھ ’سائنائڈ‘ زہر پی کر اپنی اور ہزاروں اندھے عقیدت مندوں کی قیمتی زندگیاں چھین لیں۔
اس واقعے نے امریکہ میں طوفان برپا کر دیا۔ امریکی حکومت نے مذہبی بنیاد پرستوں کے معاملات کی چھان بین شروع کر

دی۔ امریکی حکومت نے واضح کر دیا کہ اس قسم کے کسی گروپ کو برداشت نہیں کیا جائے گا نہ ہی ریاست کے اندر ریاست بنانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ اس بروقت اقدام نے امریکی معاشرے کو کئی عشروں تک تباہی سے بچائے رکھا۔
ایسی ہی ایک شخصیت ترکی کے فتح اللہ گولن کی بھی ہے۔ ترکی کی حکومت نے جولائی 2016کی فوجی بغاوت کے لیے گولن اور اُن کی تنظیم کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ گولن بھی جم جونز کی طرح مذہبی رہنما کے ساتھ ایک مخیر شخصیت کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ کئی تعلیمی و رفاحی ادارے اور یتیم خانے ان کی زیر نگرانی چلتے رہے ہیں۔ ترکی کی اسٹبلشمنٹ اور حکومتی جماعت میں ان کا زبردست اثرورسوخ تھا۔ لیکن جونز کی طرح ان کے اصل مقاصد بھی کچھ اور ہی تھے۔ وہ ریاست کے اندر ایک ریاست چلا رہے تھے۔ وہ اردگان کا تختہ الٹ کر حکومت حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن ناکام رہے۔ ترکی کی حکومت نے عوام کی مدد سے ان کے فریب کا پردہ چاک کر کے ان کی ریاست کو زمیں بوس کر دیا۔
ان تمام واقعات میں مادر وطن پاکستان کے لیے سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔ پاکستان ان مذہبی گروپوں کے حوالے سے شدید تنازعات کر شکار رہا ہے۔ سانحہ لال مسجد کے بعد خود کش حملوں کی لہر نے ملک میں کشت و خون کا ایک بازار گرم کر دیا تھا۔ ان واقعات نے جہاں ماﺅں سے ہزاروں لعل چھینے وہیں ملکی معیشت کو 120ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
لیکن یہاں ایک اور شخصیت کا ذکر کیے بغیر کہانی مکمل نہیں ہو سکتی ‘اور وہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی شخصیت ہے۔ امریکہ کے جم جونز، ترکی کے فتح اللہ گولن اورکنیڈین شہریت کے حامل طاہرالقادری کے اندازمیں حیران کن مماثلت پائی جاتی ہے۔ طاہر القادری کے زیر انتظام بھی کئی سکولز، رفاحی ادارے ، یتیم خانے اورایک یونیورسٹی بھی چل رہی ہے۔ ان کے مریدبھی اُن کی اندھی محبت کا شکار ہیں۔ وہ اُن کے ایک اشارے پر اپنی جان دینے سے گریز نہیں کرتے ۔ طاہرالقادری نے اس محبت کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور دو مرتبہ دارالحکومت اسلام آباد کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ اُن کے حکم پر ان کے مریدوں نے کفن پہن کر اپنی قبریں تک کھود ڈالیں ۔ اس کوشش میں ان کے کئی چاہنے والوں کی جانیں گئیں جسے وہ سال میں ایک مرتبہ کیش کروانے کے لیے پاکستان ضرور آتے ہیں۔
چند سال قبل تحریک لبیک پاکستان کے نام سے ایک اور نئے گروہ نے جنم لیا۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی ممتاز قادری کے
ہاتھوں ہلاکت نے پاکستان کے مذہبی حلقوں میں ممتاز قادری کو ایک مقام عطا کر دیا تھا جس کو تحریک لبیک پاکستان کے خالق مولوی خادم رضوی ، مفتی حنیف قریشی اور ڈاکٹر اشرف جلالی جیسے مذہبی رہنماﺅں نے خوب استعمال کیا۔ ان کی ہاتھ اور زبان سے شائد ہی کوئی محفوظ رہا ہو۔ انہوں نے توہین رسالت ﷺ اور کفر کے فتوے ریوڑیوں کی طرح تقسیم کیے۔ ان کے چاہنے

والے بھی بہت ہیں اور ان سے اندھا عشق کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسلمان صرف وہ ہے جس کے پاس خادم رضوی کا
سرٹیفیکیٹ ہے۔ انہیں مذہبی جذبات کو کیش کروا کر تحریک لبیک پاکستان 2018کے عام انتخابات میں ووٹ کے حوالے سے چوتھی بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ۔ لیکن موجودہ حکومت نے اس خطرے کا بروقت اندازہ لگا کر تحریک لبیک کی قیادت کو گرفتار کر کے کچھ وقت کے لیے نیوٹرلائز کر دیا ہے۔
جماعت الدعوة کے حافظ محمد سعید بھی اس حوالے سے کسی طرح کم اہمیت نہیں رکھتے ۔ ان کے زیر انتظام بے شمار سکول اور مدارس ہیں اور وہ فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کے نام سے ایک فلاحی تنظیم بھی چلاتے ہیں جو قدرتی آفات میں پیش پیش ہوتی ہے۔ اگرچہ ملک کے اندر وہ کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں رہے تاہم وہ کشمیر کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کے حامی ہیں۔ بھارت انہیں 2007ءکے ممبئی حملوں کا براہ راست ذمہ دار گرانتا ہے۔ اقوام متحدہ نے ان کے سر پر انعام مقرر کیا ہے اور امریکہ انہیں عالمی دہشت گرد تصور کرتا ہے۔ یہ کسی وقت بھی ملکی امن و سا لمیت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔
عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف” دو نہیں ایک پاکستا ن “کے نعرے کے ساتھ برسراقتدار آئی تھی۔ تحریک انصاف ہی وہ جماعت ہے جو اس عفریت کا مقابلہ کر سکتی ہے اور یہ صرف یکساں نصاب تشکیل دے کر ہی ممکن ہے۔ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے زیر انتظام چلنے والے مدارس کے نصاب پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس امر کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ مدارس کے طلباءبھی وہی تعلیم حاصل کریں جو سرکاری سکول کے بچے حاصل کر رہے ہیں۔ حکومت کو یتیم خانوں اور فلاحی اداروں پر بھی نطر رکھنی ہو گی جہاں پلنے والے بچے ان رہنماﺅں کا آسان شکار بن سکتے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ مذہب کی ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کی حوصلہ شکی کی جائے اور اس کو ریاست کے خلاف بغاوت تصور کیا جائے۔ ریاست کے اندر ریاست کا تصور ختم کرنا ہو گا، کسی گروپ کو ریاست مخالف سرگرمیوں کی اجازت دینا ملکی سالمیت کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ اگر بروقت اس خطرے کا اعادہ نہ کیا گیا تو گلی گلی اور شہر شہر جم جونز اور فتح اللہ گولن پیدا ہوتے رہیں گے۔

کیٹاگری میں : Uncategorized

اپنا تبصرہ بھیجیں