جمعرات , 23 مئی 2019

گورنمنٹ سیکیورٹی نہیں دیتی تو ہم اپنے قائد کی حفاظت کرنے کے لیے تیار ہیں حامیوں نے اسلحہ اٹھا لیا

حالیہ الیکشن کے نتائج جہاں سبھی اپوزیشن جماعتوں نے ماننے سے انکار کیے وہیں مولانا فضل الرحمان نے تو حکومت کے خلاف دھرنا دینے اور احتجاجی تحریک چلانے کی بھی بھرپور کوشش کی تھی مگر اس معاملے میں اسے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا تھا جس بنا پر وہ کچھ عرصہ تو خاموشی سے بیٹھ گئے مگر نواز شریف کے جیل جانے کے بعد انہوں نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے نمایاں لیڈروں سے رابطے شروع کیے اور ایک مرتبہ پھر حکومت کے خلاف گرینڈ الائنس بنانے کی جدوجہد شروع کر دی جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہو گئے . مولانا فضل الرحمان اپنے جلسوں اور میڈیا گفتگو میں پی ٹی آئی حکومت کوخوب تنقیدکا نشانہ بناتے نظر آئے ہیں .

مولاناصاحب کا بس نہیں چلتا کہ وہ ابھی عمران خان حکومت کا تختہ الٹ دیں . تاہم مولانا کے حکومت خلاف مزاحمتی ردعمل کومدنظر رکھتے ہوئے اب حکومت بھی ایکشن لینے پر اترآئی ہے . اس حوالے سے انہوں نے سب سے پہلا کام یہ کیاکہ مولانا فضل الرحمٰن کی سیکیورٹی ہٹا دی جس پر کافی ردعمل دیکھنے کو ملا . پاکستان میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے پولیس سیکورٹی واپس لینے کے حکومتی فیصلے کے بعد پارٹی کے سینئر رہنماو¿ں نے اسلحہ اٹھا کر اپنے قائد کی حفاظت کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے . منگل کو اسلام آباد ائر پورٹ پر سعودی عرب سے عمرہ کر کے آنے والے مولانا فضل الرحمان کے استقبال کے لیے پارٹی رہنماو¿ں اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی

جبکہ سینئر قیادت نے ہاتھوں میں جدید اسلحہ اٹھا رکھا تھا . مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ان کی پارٹی کے قائد سے سیکورٹی واپس لینے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ خود اپنی حفاظت کا بندوبست کیا جائے گا . جمعیت علمائے اسلام کے کارکنوں نے مولانا فضل الرحمان کے حق میں جبکہ حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی

This post has been Liked 1 time(s) & Disliked 0 time(s)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے