کتابیں قومی ترقی کی بنیاد…!

کتابیں قومی ترقی کی بنیاد!

تحریر : آمنہ سعید

امریکی صدر کینڈی کا کہنا تھا کہ میں اپنے اور دوسرے انسانو ں کے درمیا ن فرق کا اندازہ مطالعے سے لگاتا ہو ں۔ سلطا ن صلاح دین ایوبی کا کہنا تھا کہ اگر میں مطالعہ نہ کرتا تو شا ئد مجھے ایک بھی جنگ جیتنا نصیب نہ ہو تی۔

اگر یہ کہا جاۓ کہ مطالعہ ہی کسی قو م کی ترقی کی بنیا د بنتا ہے تو غلط نہ ہو گا۔ معیاری کتب پڑھنے سے انسا ن پر شعو رو ادراک، فہم و فراست ، اور سوجھ بوجھ کے نئے در کھلتے ہیں۔ اپنے آباؤ اجداد کے با رے میں جا ننے کا موقع ملتا ہے، بہت سے مسا ئل کا حل ملتا ہے، مطا لعے سے علم میں اضافہ ہو تا ہے،کتا بیں ہمیں گھر بیٹھے سا ری دنیا کی سیر کروا تی ہیں اور تنہاہی کی بہترین سا تھی ہو تی ہیں۔
پاکستان میں کتب بینی سے دوری حصول علم کیلئے موبائل، انٹرنیٹ، الیکٹرو نک میڈیا کا بھڑتا ہوا استعمال ، اچھی کتابوں کاکم ہوتا رجحان ،ناخواندگی، غربت، حکو مت کی عدم پرستی اور لائبریریو ں کیلیئے وسائل کی عدم فرا ہمی کے علا وہ خا ندان اور تعلیمی اداروں میں کتب بینی کے فرو غ کی کوششوں کا نہ ہو نا شا مل ہے۔ ہمارے ہاں ہزاروں روپے ہو ٹلنگ، شاپنگ، آؤٹنگ اور بہت سی دوسری فضولیات پرضا ئع کر دیے جاتے ہیں لیکن کتابیں خریدنے کیلیئے ہمارے پا س پیسے کم پڑ جا تے ہیں۔ نوجوان صرف کورس کی کتابیں ہی پڑ ھتے ہیں اسکے علا وہ انکو کچھ معلو م نہیں ہو تا کہ ادب کی دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ دنیا میں کونسی نئی ایجادات ہو رہی ہیں، کونسی نئی ریسرچیز ہو رہی ہیں، ملک کا بجٹ کس نہج پر جا رہا ہے یہا ں تک کہ ہم دین اسلا م کے بھی صحیح مطالعے سے واقف نہیں۔
ہمارے ہا ں بک فیئرز بھی ہو تے ہیں اور کتابو ں کی نما ئش کے سٹالز بھی لگتے ہیں مگر افسوس! لو گ کتابیں خریدنے نہیں بلکہ ان فیئرز کی رونقیں دیکھنے آتے ہیں۔ آجکل کے دور میں مطالعے کی جتنی ذیادہ ضرورت ہے ا تنی ہی نو جوان نسل اس سے دور ہے۔ آج سے پندرہ، بیس سا ل پہلے لوگ ٹرین میں سفر کر رہے ہو تے یا شجر کے نیچے بیٹھے ہو تے مطا لعہ کرتے دکھائی دیتے تھے۔ لیکن آجکل کی نوجوان نسل کو بک نے نہیں بلکہ فیس بک نے مصرو ف کر رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارا ملک ستر سال گزرنے کے بادجود ترقی پذیر مما لک کی صف میں شا مل ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے