اپنے حصے کی شمع!

اپنے حصے کی شمع!

تحریر : آمنہ سعید

گلی، کو چو ں، گزرگا ہوں، اور سڑکوں پر پھیلا کوڑا کرکٹ اور اس کوڑے میں بہتا گندا پانی۔ اس گندگی سے اٹھتی بدبو اور ان میں افزائش پاتے مکھیاں و مچھرصفائی اور کوڑا کرکٹ کی اس صورتحال سے پھیلتی بیماریاں اور اس معاملے میں بھی حکومتی اداروں کی حدوں کو چھو تی لاپرواہی۔

میونسپل کا رپوریشن کی طرف سے لگا ئے گئے کوڑا کرکٹ کے لب لباب بھرے ڈرمزمگر ان کو خالی کرنے والا کوئی نہیں ۔ اسے حکو مت کی بے حسی کہیں یا نا اہلی کہ جہا ں بہت سی دوسری جگہوں پر مثالی کردار نبھا نے سے قاصر وہا ں ان کیلیے صفائی کا مسئلہ تو بلکل غور کے قابل ہی نہیں۔

لیکن ہم نے بھی خالص پا کستانی قوم ہو نے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے گھروں کی صفائی کر کے کوڑا گلی کو چوں اور راستوں میں پھینکنا شروع کر دیا ہے اوپر سے صنعتی، تجارتی، اور زرعی فضلے کے اخراج کا بھی مناسب انتظام نہ ہو نے پر اسے غیر محفو ظ طریقے سے ٹھکانے لگا یا جا رہا ہے۔

جس سے ملک میں صفائی کی حالت روز بروز نازک ہو تی جا رہی ہے۔ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی ہم نے ملک کے ہر کونے میں اتنا کوڑا بھر دیا ہے کہ کو ئی جگہ صاف دکھا ئی نہیں دیتی ۔خود ہی کوڑا پھیلا کر خود ہی بہت سے مسائل کا شکا رہیں۔ہم نے تو دریا ؤں اور سمندروں میں بھی کوڑا پھینک کر انہیں بھی آلودہ کر دیا ہے۔ جس سے بہت سی آبی مخلوق مناسب آکسیجن نہ ملنے پر مر جا تی ہے۔

جہا ں ہمیں یہ پتہ ہے کہ حکو مت اس مسئلے کے حل کیلیے بھی کچھ نہیں کرے گی وہیں ہم بھی اپنی ذمہ داری بھو ل گئے ہیں کہ بحیثیتِ پا کستان کا حصہ ہو نے کے ہم پر بھی کچھ ذمہ داریا ں عائد ہو تی ہیں، عوام کا بھی ملک کی ترقی و خوشحالی میں اتنا ہی ہا تھ ہو تا ہے جتنا کہ حکو مت کا۔ ہر چیز کیلیے وسائل کی ضرورت نہیں ہو تی بہت سی جگہوں پر صرف نیت اور ہمت کی ضرورت ہو تی ہے۔

ذیادہ نہیں تو ہم اپنے ملک کو گندگی سےتو پا ک کر ہی سکتے ہیں نا ہم میں سے بہت سے لوگ جو ہماری طرح کے ہی عام پاکستانی ہیں۔انہوں نے اپنے طور پہ ملک کی صفائی کا کام شروع کیا ہے۔ ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی ان کی صفائی مہم میں بہت سے دوسرے لوگ بھی شا مل ہو چکے ہیں۔لیکن با قی عوام کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ ہر ممکن حد تک کم کوڑا پھیلائیں اور پاکستان کی خو بصورتی لو ٹانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے