ایک شام ۔۔۔۔۔شام کے نام

ایک شام ۔۔۔۔۔شام کے نام
تحریر وزیر ابرار حسین

اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ کیا دمشق کے مشرق میں واقع مشرقی غوطہ میں کوئی تباہ کن حادثہ رونما ہو رہا ہے تو میں یقینی طور پر "ہاں” کہوں گا لیکن وہ ایسا ڈیزاسٹر نہیں جس کا پروپیگنڈہ مغربی میڈیا میں کیا جا رہا ہے بلکہ اس میڈیا میں بیان ہونے والی چیز اور حقیقت میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے۔ شام میں سکیورٹی بحران کے آغاز سے ہی دارالحکومت دمشق سے قریب ترین علاقہ سب سے زیادہ خطرناک اور بے رحم دہشت گرد عناصر کے قبضے میں چلا گیا۔ شام ائیرفورس کے ہوائی حملوں میں ان دہشت گرد عناصر کا مرکزی کمانڈر زہران علوش ہلاک ہو گیا جس کے بعد ان عناصر کی سرگرمیاں کم ہو گئیں۔ آستانہ امن مذاکرات میں یہ علاقہ قومی مصالحتی منصوبے میں شامل کر لیا گیا اور فائربندی کا معاہدہ طے پایا۔

اگرچہ شام حکومت سمجھتی تھی کہ مشرقی غوطہ میں سرگرم دہشت گرد عناصر بیگناہ انسانوں کو قید کر کے انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود قومی مصالحتی منصوبے کے تحت ان سے امن مذاکرات پر آمادہ ہو گئی تاکہ اس طرح مدمقابل کے پاس بدامنی کا کوئی بہانہ باقی نہ رہے۔ لیکن گذشتہ ایک ہفتے کے دوران اس علاقے میں موجود تکفیری دہشت گرد گروہوں جیسے النصرہ فرنٹ اور القاعدہ نے دمشق کو راکٹ حملوں اور مارٹر شینلگ کا نشانہ بنانا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت بڑی تعداد میں بیگناہ شہری شہید اور زخمی ہو گئے۔ لہذا شام آرمی نے اس علاقے میں وسیع فوجی آپریشن کرنے کا فیصلہ کر لیا اور جہاز کے ذریعے پھینکے گئے اعلامیوں میں عام شہریوں سے علاقہ چھوڑ کر چلے جانے کی درخواست کی گئی۔ موصولہ رپورٹس کے مطابق تکفیری دہشت گرد عناصر کی جانب سے دمشق اور اس کے نواح میں 400 مارٹر گولے پھینکے گئے جس کے نیتجے میں دو سو عام شہری شہید یا زخمی ہو گئے۔

دارالحکومت دمشق پر حملہ ور ہو کر قبضے کا منصوبہ ایک عرصے سے شام میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے ایجنڈے میں شامل رہا ہے۔ یہ منصوبہ زہران علوش کی ہلاکت کے بعد کچھ عرصے کیلئے ان کے ایجنڈے سے خارج ہو گیا تھا لیکن اب شمالی شام میں ترکی کی فوجی جارحیت اور شام کے مغربی حصوں میں غاصب صہیونی رژیم کے جارحانہ اقدامات کے بعد دوبارہ دہشت گردوں کے زیر غور آ چکا تھا۔ اکثر فوجی ماہرین کی نظر میں شام کے دارالحکومت دمشق اور وہاں کے باشندوں کیلئے سب سے بڑا خطرہ مشرقی غوطہ میں سرگرم دہشت گرد عناصر جیسے جیش الاسلام، فیلق الرحمان، النصرہ فرنٹ اور احرار الشام جانے جاتے ہیں۔ شام کے شمالی شہروں جیسے ادلب اور عفرین میں شام آرمی کا مشغول ہو جانے کے سبب یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ کہیں جنوب میں واقع دہشت گرد عناصر سے غفلت نہ ہو جائے۔ اگرچہ شام آرمی کی ففتھ کور اسی مقصد کیلئے تشکیل دی گئی ہے لیکن اردن میں موجود لبریشن آرمی کے ممکنہ حملے کے تناظر میں یہ خطرہ موجود تھا کہ دارالحکومت کے قریب موجود دہشت گرد عناصر قومی سلامتی کیلئے شدید خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

شام مخالف حکومتوں نے پہلے سے ایک منصوبہ تیار کر رکھا تھا جس کے تحت شام آرمی کی جانب سے مشرقی غوطہ میں فوجی آپریشن کے آغاز کی صورت میں بڑے پیمانے پر عالمی سطح پر یہ پروپیگنڈہ کیا جانا تھا کہ اس علاقے میں انسانی سانحہ رونما ہو رہا ہے۔ اس کے بعد اچانک کیمیکل ہتھیاروں کا استعمال کئے جانے اور اس کا الزام شام حکومت پر عائد کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے تاکہ اس طرح امریکہ یا فرانس کو شام میں براہ راست فوجی مداخلت کا بہانہ فراہم کیا جا سکے۔ اس سے پہلے بھی غاصب صہیونی رژیم یہ اعلان کر چکی تھی کہ شام حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیار استعمال کئے جانے کی صورت میں یقینی طور پر شام کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا جائے گا۔ اس منصوبے کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے بنانے میں کئی مہینوں کا عرصہ لگایا گیا ہے۔ شام مخالف حکومتوں کا اصل مقصد دمشق کے اردگرد نو فلائی زون کا قیام ہے تاکہ اس طرح دہشت گرد عناصر کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

مشرقی غوطہ میں موجود تکفیری دہشت گرد عناصر انتہائی خطرناک اقدامات میں ملوث ہیں۔ ان کی جانب سے نہ صرف دمشق میں مقیم شہریوں کو راکٹ حملوں اور مارٹر شیلنگ کا خطرہ درپیش ہے بلکہ خود مشرقی غوطہ میں انہوں نے بڑی تعداد میں بیگناہ شہریوں کو قیدی بنا رکھا ہے اور انہیں شام آرمی کے خلاف انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ دہشت گرد گروہ شام میں خانہ جنگی کے آغاز سے ہی عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے آئے ہیں۔ اب تک اس علاقے میں چار سو عام شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں ایک رپورٹ موصول ہوئی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ترکی سے زہریلی گیس کلورین کے حامل ٹینکرز مشرقی غوطہ پہنچائے گئے ہیں۔ یہ اقدام مغربی منصوبے کو عملی شکل دینے کی کوشش قرار دی گئی ہے۔

روس کی مدد سے شام آرمی کا مشرقی غوطہ میں داخل ہو جانا درحقیقت دمشق کی سکیورٹی یقینی بنانے اور بھرپور عالمی جنگ کی روک تھام کی جانب ایک اہم قدم شمار ہوتا ہے۔ اگر شام آرمی مشرقی غوطہ کو اپنے کنٹرول میں نہیں لیتی اور دہشت گرد عناصر دارالحکومت کے نواحی علاقوں میں باقی رہتے ہیں تو اس کا نتیجہ عام شہریوں کی ہلاکت میں اضافے کے ساتھ ساتھ شام پر عالمی سطح پر فوجی جارحیت کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ دوسری طرف غوطہ کے علاقے میں برقرار ہونے والی فائر بندی کی خلاف ورزی کا آغاز بھی دہشت گرد عناصر کی جانب سے کیا گیا ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو ہر گز فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ مشرقی غوطہ میں شام آرمی کی موجودگی اس علاقے کا شام سے ملحق ہو جانے، سکیورٹی کی بحالی، اقتصادی مسائل کے خاتمے اور انسانی بحرانوں کے خاتمے کے مترادف ہو گی۔ شام آرمی کو بیرونی قوتوں کے پٹھو دہشت گرد عناصر کی نابودی کے ذریعے دمشق کو سرنگونی سے بچانے کا بہترین موقع میسر ہوا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے