یو اے ای میں نئے قانون کے نفاذ سے پاکستانیوں کو روزگار ملنا مشکل

لاہور: متحدہ عرب امارات کی طرف سے نئے قانون کے نفاذ کے بعد پاکستانیوں کیلیے یو اے ای میں روزگارکا حصول مشکل ہو گیا۔

وزارت خارجہ کے دفاتر میں ویزہ حاصل کرنے والے کی خود پیش ہونے کی شرط نے اوورسیز لیبر پروموٹرز کو مشکلات سے دوچار کر دیا۔ یو اے ای کے ان اقدامات سے پاکستانیوں کیلیے روزگار کے مواقع کم ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کو زرمبادلہ کی مد میں بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

رواں برس متحدہ عرب امارات نے ایک نیا قانوں نافذ کیا ،جس میں وہاں جانے والی پاکستانی افرادی قوت کیلیے لازم قراردیا گیا کہ ویزہ کے حصول کیلیے امیدوار اپنا پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرکے اسے پاکستانی وزارت خارجہ اورمتحدہ عرب امارات کے سفارتخانے سے تصدیق کرواکر دستاویزات کے ساتھ منسلک کریں دوسری صورت میں انہیں ویزہ جاری نہیں کیا جائے گا۔ ان کڑی شرائط کے بعد ملازمت کیلیے یواے ای جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ اوورسیز پروموٹرز بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

پاکستان بیورو آف امیگریشن ایند اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے اعدادو کے مطابق ان اقدامات سے یواے ای ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانیوں کی تعدادمیں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

اس حوالے سے اوورسیز پروموٹرزکا مطالبہ ہے کہ حکومت پاکستان اگر یواے ای کی حکومت پر یہ قانون واپس لینے کیلئے دباؤ نہیں ڈال سکتی تو کم ازکم اپنے ملک میں تو ویزہ تصدیق کا عمل آسان بنائے۔ یواے ای لیبر بھیجنے والے پروموٹرزکو یہ استثنی دیا جائے کہ وہ اجتماعی طور پرخود وزارت خارجہ سے پولیس سرٹیفکیٹ کی تصدیق کروا سکیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے