جمعرات , 13 دسمبر 2018

تجاویز ملنے کے باوجود نئی تجارتی پالیسی کی تیاری سست روی کا شکار

اسلام آباد: وزارت تجارت کی جانب سے نئی 5 سالہ تجارتی پالیسی کی تیاری پر کام سست روی کا شکار ہو گیا ہے اور شراکت داروں کی جانب سے دی جانے والی تجاویز موصول ہونے کے باوجود تاحال مرتب نہیں کی جاسکی ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزارت تجارت کی جانب سے نئی 5سالہ تجارتی پالیسی کی تیاری کے سلسلے میں تمام شراکت داروں کی جانب سے ملنے والی تجاویز کو ابھی تک مرتب نہیں کیا جا سکا ہے اورکئی ماہ گزرنے کے بعد بھی ابھی تک تجاویز پر مبنی ابتدائی ڈرافٹ تیار نہیں کیا جا سکا ہے۔

وزارت تجارت کی جانب سے نئی تجارتی پالیسی کے سلسلے میں تجاویز مرتب کرکے فروری کے اختتام تک ابتدائی مسودہ تیار کیا جانا تھا تاہم ابھی تک اس سلسلے میںکوئی واضح پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ تجارتی پالیسی کے لیے شراکت داروں کی تجاویز کی جانچ پڑتال کے بعد ابتدائی مسودہ تیار کرکے متعلقہ وزارتوں سے مشاورت شروع کی جائے گی۔ وزارتوں سے مشاورت کے بعد ان کی قابل عمل تجاویز کو ابتدائی مسودے میں شامل کیاجائیگا۔

ابتدائی مسودہ تیار کرکے منظوری کیلیے سیکریٹری تجارت کو بھجوایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق نئی 5 سالہ تجارتی پالیسی میں دنیا بھر میں قائم تجارتی مشنز سے بھی برآمدات کے فروغ اور پیدواری شعبے کو ترقی دینے کے حوالے سے تجاویز موصول ہوگئی ہیں اور ان تجاویز کی روشنی میں ترجیحی اور آزاد تجارت کے معاہدوں کے حوالے سے اقدمات تجویز کیے جائیں گے۔

ذرائع نے مزید بتایاکہ اسٹرٹیجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک میں برآمدات کے فروغ کیلیے مختصردرمیانی اور طویل مدتی اقدامات تجویز کیے جار ہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مختصراقدامات میں مصنوعات کی مسابقت کو بڑھا کر گزشتہ برسوں میں برآمدات میں ہونے والی کمی کے نقصان کو پورا کر نا ہے۔ درمیانی مدت کے اقدامات کے تحت ملک کے پیداوری شعبوں کی طاقت کو بڑھانا اور مصنوعات میں جدت لاکر مختلف منڈیوں میں ان کی خریداری کے لیے سازگار فضا قائم کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایکو سسٹم کو بہتر بنا کر برآمدات پر مبنی سرمایہ کاری کو بڑھانا ہے۔ طویل مدتی اقدام کے تحت مصنوعات کو متنوع بنا کر جدت پر مبنی شعبے بنانے کے لیے ڈھانچہ جاتی اقدمات شامل ہیں۔ مصنوعات کی بیرونی دنیا میں مارکیٹنگ کے لیے بھی اقدامات اس نئی پالیسی کا حصہ ہوں گے۔

اسٹرٹیجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک 2018-23 میںٹریڈ پروموشن اور برانڈنگ تجارتی سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرنے اور منڈیوں تک رسائی اور علاقائی روابط کے فروغ کے لیے اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔ وزارت تجارت کے مختلف اداروں کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے اقدمات سمیت مصنوعات کی ڈیولپمنٹ اور مطابقت کے حوالے سے امور بھی آئندہ پالیسی کا حصہ ہوں گے۔

ذرائع کا کہناہے اس بات کی پیش گوئی کی جارہی ہے کہ نئی تجارتی پالیسی کے تحت برآمدات کو 36 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اسٹرٹیجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک میں ٹیرف ریشنلائزیشن پر توجہ دی جارہی ہے تاکہ پیداواری شعبے کی ترقی کے لیے خام مال پر ٹیرف کی زد میں نہ آئے۔

اس سلسلے میں ایکسپریس کی جانب سے رابطہ کرنے پر وزارت تجارت کے ترجمان نے بتایاکہ نئی تجارتی پالیسی کی تیاری کے سلسلے میں روزوشب کام جاری ہے اور تجاویز موصول ہوئی ہیں مگر انھیں مرتب کرنے کا کام جاری ہے۔ انھوں نے بتایاکہ پالیسی کے ابتدائی مسودے کی تیاری کی کوئی تاریخ نہیں دی جاسکتی تاہم اس سلسلے میں کام جاری ہے اور مسودہ جلد از جلد تیار کر لیاجائیگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے