روس کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے بین الاقوامی ماہرین کو شام کے شہر دوما میں کیمیائی حملے کے مقام پرجانے کی اجازت دی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق روسی فوج کا کہنا ہے کہ 18 اپریل کو کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی خود مختار تنظیم او پی ڈبلیو سی کے ماہرین کو کیمائی حملے مقام پرجانے کی اجازت ہوگی۔

او پی ڈبلیو سی کی 9 رکنی ٹیم شامی دارالحکومت دمشق کے قریب اجازت ملنے کا انتظار کررہی ہے۔

دوسری جانب امریکہ ، برطانیہ اور فرانس نے روس پرالزام عائد کیا کہ وہ کیمائی حملے کے مقام پرشواہد سے چھیڑ چھاڑ کررہا ہے اورعالمی ماہرین کو دوما میں حملے کے مقام پرجانے سے روکنے کی کوشش کررہا ہے۔

روس نے مغربی ممالک کے الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ اس مقام پرشواہد میں ردوبدل کررہا ہے جہاں پرکیمیائی حملہ ہوا تھا۔

خیال رہے کہ دو روز قبل امریکی صدر نے بشارالاسد کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر شام نے دوبارہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو امریکہ اس پردوبارہ حملے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

یاد رہے کہ 14 اپریل کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شام پرکیے گئے فضائی حملے پر روس نے سخت یادردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کی کارروائی کا حساب دینا ہوگا۔

واضح رہے کہ 13 اور 14 اپریل کی درمیانی شب امریکہ نے برطانیہ اور فرانس کے تعاون کے ساتھ شام میں کیمیائی تنصیبات پر میزائل حملے کیے تھے، جس کے نتیجے میں شامی دارالحکومت دمشق دھماکوں کی آوازوں سے گونج اٹھا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے