کے الیکڑیک کے نخرے

یہ سیدھی سیدھی بلیک ملیلنگ نییں تو اور کیا ہے کہ گرمیوں نے پہلی دھلک دکھائی اور کراچی میں بدترین لوڈ شیڈیگ شروع۔۔۔۔مقصد یہی ہے کہ کس طرح بل ادا کیے بغیر گیس حاصل کی جائے اور صارفین سے اربون روپے کے بل بٹورے جائیں۔ کے الیکڑک کی یہ چال نئی نہیں۔ ماضی میں وہ سستے فرنس آئل کے لیےاطرح کے حربے کامیابی سے استعمال کر چکی ہے۔ میڈیا اپورٹس کے مطابق کے الیکڑک پر سوئی سدرن گیس کمپنی کے 29 ارب روپے کے واجبات ہیں جنہیں ادا کیے بغیر مزید گیس لیینے کے لیےکے الیکٹرک میلنگ پر اتر آئی ہے۔

صارفین اگر ایک ماہ بل ادا نہ کریں تو اگلے مہینے اضافی سرچارج کے ساتھ

نوٹس بھیج دیا جاتا اور تیسرے مہینے بجلی کاٹ دی جاتی ہے۔ مگر خود کے الیکٹرک اپنا نل بھرنے کو تیار نہیں اور کوئی اسے کچھ کہنے والا بھی نہیں۔

ایک تو یہ بات ہی بڑی مضحکہ خیزہےکہ ہم اہک توانائی کو جالا کر دوسری توانائی پیدا کرتے ہیں۔ فرنس آہل اور گیس کے بدلے بجلی حاصل کرنا کہاں کی عقلمنری یے؟ ساری دنیا پانی، ہوا اور سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ لگا رہی ہے مگر ہم نواجوں کی طرح قیمتی فرنس آہل اور گیس پھونک ریے ہیں۔

کے الیکٹرک اور کراچی کی ٹرانسپورٹ ایک ہی ڈگر کے مسافر ہیں۔ کراچی کی تمام بسیں، ویکنیں اور رکشے سی این جی پر چلتے ہیں مگر کرایہ پیٹرول اور ڈیزل کا چارج کیا جاتا ہے۔ کے الیکٹرک کا بھی یہی حال ہے کہ وہ بجلی تو گیس سے بنائی ہے مگر بل فرنس آئل کے وصول کرتی ہے۔ کوئی بولنے والا نہیں۔ کیوں؟ شاید اسی لیے کہ کے الیکٹرک کسی کی لاڈلی ہے۔

کراچی میں حالیہ دنوں اتنا بڑا بجلی کا بحران چل رہا ہے۔ سب کو پتا ہے کہ کے الیکٹرک نے گیس کمپنی کو ادائیگی نہیں کی، مگر ہمارے وزیراعلیٰ دو بار وزیراعظم کو خط لکھ کر الٹا سوئی سدرن کی شکایت کرچکے ہیں مگر کے الیکٹرک کو کچھ نہیں کہا۔ چند روز قبل انہوں نے کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کے نمائندوں کو وزیراعلیٰ ہاؤس طلب کیا مگر اس دوران ان کی ساری ہمدردیاں کے الیکٹرک کے ساتھ ہی نظر آئیں۔ انہوں نے سوئی سدرن کو تو گیس فراہم کرنے کےلیے کہا مگر کے الیکٹرک سے یہ پوچھنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی کہ اتنی مہنگی بجلی بیچتے ہو تو گیس نہ ملنے پر فرنس آئل سے بجلی کیوں پیدا نہیں کرتے؟ کمشنر کراچی بھی سوئی سدرن پر برس پڑے۔ ایم ڈی کو خط لکھ کر فوری گیس بحالی کی ہدایت جاری کردی۔ مگر کے الیکٹرک سے باز پرس نہیں کی۔ کیوں؟ شاید اس لیے کہ کے الیکٹرک…

کیا ہمارے ملک میں کوئی ایسا ادارہ نہیں جو کے الیکٹرک اور گیس کمپنی کو آمنے سامنے بٹھا کر پتا لگائے کہ اصل قصور کس کا ہے؟ کون کراچی کے اندھیروں کا ذمہ دار ہے اور کون اپنے مفاد کےلیے سارا الزام دوسرے کے سر تھوپ رہا ہے۔ نیپرا کی ٹیم کراچی آئی اور جائزہ لے کر چلی گئی۔ یقین رکھیے کہ اس کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ہوگا وہی جو کے الیکٹر ک چاہے گی۔ کیوں؟ شاید اس لیے کہ کے الیکٹرک کسی کی لاڈلی ہے۔

 

 

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے