کشمیر کی آصفہ پر ظلم اور پریا کا کرب

یوں تو کہا جاتا ہے کہ دیسی معاشرہ اپنے انحطاط کی جانب گامزن ہے لیکن اب بھی بہت سی قدریں ایسی ہیں جو اسے بچائے ہوئے ہیں۔ محلے والوں کو خون کے رشتوں سے بڑھ کر جاننا ان میں سے ایک ہے۔

یہاں یہ اعتراف بھی کرتے چلیں کہ ہم پاکستان میں رہتے ہوئے انہی اقدار سے باغی تھے۔ گھر والوں سے بچ کر گلی میں کھیلنے کو بھاگتے تو پڑوس والی عصمت خالہ دروازے سے ہی آواز لگاتیں کہ گھر کو بھاگو۔ ہم کسمساتے ہوئے گھر کو واپس دوڑتے اور ملک سے باہر جانے کے خواب دیکھتے۔

کچھ سالوں بعد ہم وطن سے میلوں دور آ بسے۔ نہ کوئی روک ٹوک نہ پوچھ گچھ۔ یہاں ہم نے زیادہ لوگوں سے راہ رسم بھی نہ رکھی۔ اسی سے تو تنگ آ کر بھاگے تھے صاحب! لیکن وہ کیا ہے کہ کچھ چیزیں انسان کی پروگرامنگ کا حصہ ہوتی ہیں۔ لاکھ جان چھڑائے لیکن رگوں میں دوڑتا خون اُن کا دامن چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ ابھی بھی کڑھی چاول بنائیں تو فورا اپنی ہمسائی پریا کا خیال آتا ہے۔ پریا اول تو گھر میں پکاتی نہیں۔ اگر پکا لے تو فورا ہمارے گھر کی گھنٹی بجائے گی۔ جانتی ہے کہ اس کی مچھلی کا سالن ہماری کمزوری ہے۔

یہ ماڈرن دوستی ہے۔ ہم دخل اندازی سے ہر ممکن اجتناب برتتے ہیں، لیکن ایک دوسرے کی فکر کرنے سے باز نہیں آتے۔ ہم دونوں کی ماؤں کو سمجھ نہیں آتی کہ دشمن ملکوں سے ہونے کے باوجود ہم میں اتنا اتفاق کیسے ممکن ہے۔

کل کچھ عجیب سی بات ہوئی۔ رات ساڑھے گیارہ بجے پریا کا میسج آیا کہ فوراً میرے گھر آؤ۔ وہ بہت رو رہی تھی۔ گھر بھی بکھرا پڑا تھا، بالکل پریا کے بالوں کی طرح۔ ہم نے پوچھا تو فون آگے کر دیا جس پر انڈیا ٹائمز کا ایک آرٹیکل کھلا ہوا تھا۔ ننھی آصفہ کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی تھی۔ پورا پڑھا تو ہمارے دل کی حالت بھی غیر ہوگئی۔

کشمیر کے بنجاروں کی یہ 8 سالہ گڑیا چراگاہ میں مویشی چرانے گئی اور پھر زندہ حالت میں واپس نہ آئی۔ مندر کے پنڈت صاحب کی ایما پر کی گئی یہ زیادتی درندگی کی وہ مثال تھی کہ اسے بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ملتے۔ کئی بھیڑیے تین دن تک اس معصوم بچی کو بے ہوش کرکے بھنبھوڑتے رہے۔ قوم کے جان و مال کے محافظ پولیس والے بھی اس فعل کا حصہ تھے۔ ایک آدمی تو خاص میرٹھ سے بلایا گیا کہ ‘مال مفت’ سے مستفید ہوسکے۔ تین دن کے بعد جب اس ننھی پری کو مارنے کا وقت آیا تو ایک وحشی نے کہا ‘ابھی نہیں’۔ کیا اس کو ترس آ گیا تھا؟ جی نہیں۔۔۔ اس کی حوس ابھی بجھی نہ تھی۔

لاش کس کام آتی بھلا۔ آخرکار پنڈت صاحب کے بھتیجے نے اس ادھ موئی ننھی آصفہ پر پتھر کے دو کاری وار کرکے اس کا قصہ ختم کیا۔

پریا کی طرح ہماری آنکھیں اور دل بھی رو رہے تھے۔ لیکن بات یہاں کہاں تمام ہوئی۔ اس کے آگے کی کتھا تو اس سے بھی زیادہ دلدوز نکلی۔ پورے ہندوستان میں اس واقعے نے مذہبی منافرت کا رنگ اختیار کر لیا۔ زیادتی کرنے والوں کی حمایت میں ریلیاں نکلنے لگیں۔ حکومتی عہدیدار بھی اس کا حصہ تھے۔ کہاں ہم پریا کو چپ کرانے گئے تھے اور پھر اپنے ہی دل کی دنیا اتھل پتھل کر آئے۔

پریا رندھی ہوئی آواز میں بولی، ‘سعدیہ بات زیادتی سے بھی آگے کی ہے۔ یہ ریلیاں دیکھو، میرے دیش کا ضمیر اس قدر سو گیا ہے کہ مجرموں کے سہولت کار بھی کھلے عام بیٹھے ہیں، بات انسان کی نہیں رہی، بات مذہب کی ہوگئی’۔

ہمیں بھی قصور کی زینب یاد آگئی۔ اس کے زخم ابھی بھرے ہی کہاں تھے کہ کشمیر کی آصفہ ہمارے دل کی دنیا بدل گئی۔ خیر زینب کے مجرم کی حمایت میں کوئی نہیں بولا تھا۔

بیٹیاں تو سانجھی ہوا کرتی تھیں، یہ کیا ہوا کہ مذہب سب قدروں پر حاوی ہو گیا؟ کاش کہ ہم پریا کے دیش کے نیتاؤں کو یہ سمجھا سکتے کہ مذہبی منافرت کی جس ڈگر پر آپ چل پڑے ہیں، اس سے واپسی مشکل ہی نہیں، ناممکن ہوگی۔

سرحدیں اپنی جگہ، جنگیں اپنی جگہ، نفرتیں اپنی جگہ لیکن پریا کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو ہمارے بھی ہیں۔ آصفہ اور زینب دونوں ہماری ہی ہیں۔ پریا اپنے دیش کے لیے جس کرب میں مبتلا ہے اس سے ہم بخوبی واقف ہیں۔ خدا دشمن پر بھی یہ وقت نہ لائے۔ ہم بس دعا ہی دے سکتے ہیں۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں یہ یقین دلا سکتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ جب دل گھبرائے میسج کر دینا۔ مل کر رو لیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے