نا اہلیت کا وار

خواجہ آصف کی نا اہلی کے فیصلے پر مریم نواز صاحبہ کا ردِ عمل سامنے آیا ہے کہ اب لوگ خواجہ آصف کے سائے کو بھی ووٹ دے کر کامیاب کریں گے جبکہ نوازشریف صاحب نے ایک بار پھر ووٹ کی عزت بحال کرنے کا عزم دہرایا ہے۔

ہمارے دیہی علاقوں یا پسماندہ قصبوں اور شہروں میں سائے کے حوالے سے بہت ساری کہانیاں جڑی ہیں جس میں مرکزی کردار کسی ماورائی مخلوق کا ہوتا ہے جو کسی کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔

عدالت عالیہ کے انقلابی فیصلوں کے بعد نا اہل سامنے آنے لگے ہیں۔ زیادہ امکان تو یہی لگتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ اپنی نا اہلیت کے ساتھ اپنا وجود کھو بیٹھیں گے اور انکے نئی نسل اور نئے جانشین سیاست کے میدان عمل میں نظر آئیں گے۔

مگر وہ جو اپنا سایہ چھوڑ جائیں گے، وہ وطن عزیز کو کس طرح کھوکھلا کریں گے، کس طرح نقصان پہنچائیں گے، اس پر کوئی تبصرہ قبل از وقت ہوگا۔

ایک عرصے سے نا اہل لوگ اپنے اجسام کے ساتھ ہم پر حکمران رہے ہیں۔ ان سب کی نا اہلی کی وجہ یہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں، ایماندار نہیں ہیں اور پاک وطن کی دھرتی سے مخلص نہیں ہیں۔

اسکا اندازہ صرف اس بات سے لگا لیں کہ وزیرِ خارجہ کے حساس عہدے پر فائز خواجہ آصف صاحب دوسرے ملک کے لیبر کوٹے پر اقامہ ہولڈر نکلے ہیں۔ وہ وہاں سے باقاعدہ تنخواہ حاصل کرتے رہے ہیں۔ اگر کبھی صیح معنوں میں تحقیق ہوجائے تو پتہ چل جائے کہ کون کتنا، کس کے لیئے اور کہاں کہاں بکتا رہا ہے۔

اب بات معصوم عوام کو سائے سے ڈرانے کی آگئی ہے۔ ہم ضعیف العتقاد قوم ہیں۔ سائے سے ویسے بھی دور بھاگتے ہیں مگر یہ بد نصیبی اور رہی کہ بقول شاعر۔

ساری بات کردار کی ہوتی ہے عارف
ورنہ قد میں سایہ بھی انسان سے بڑا ہوتا ہے

سایہ یا پرچھائی کی ایک قسم میں مریض کو سوکھے کی بیماری لگ جاتی ہے اور اسکی نارمل نشوونما رک جاتی ہے جو بالآخر اس کی موت پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔

ہاں اگر علاج کرنے والا طبیب مرض کی بروقت تشخیص کر لے تو مریض صحت مند زندگی کی طرف واپس بھی لوٹ آتا ہے۔

مملکتِ خدادا اپنی آزادی کے پہلے دن سے ہی سایوں کی زد میں رہی ہے۔ کبھی آمریت کے کے سائے میں جمہوریت ڈھونڈی گئی تو کبھی جمہوری لوگ بڑے آمر بن کر سامنے آئے۔ کبھی بھٹو شہید اور بی بی شہید کا نا حق خون اور خوف و دہشت کے سائے پھیلائے گئے تو کبھی طالبانی داعشی اور لسانی سائے اس قوم کا مقدر بنے۔

کہیں فرقہ واریت کے سائے ہیں تو کہیں ملاوٹ کے سائے تو کہیں رشوت خوری کے سائے تو کہیں معصوم کلیوں کو کچلتے مسلتے سائے تو کہیں کسان کا استحصال کرنے والے جاگیرداری سائے تو کہیں مزدور کا دم نکالتے سرمائے پر گھمنڈ کرنے والے سائے منڈلا رہے ہیں۔

غرض کہ ہر شعبہ زندگی میں یہ سائے لپٹتے گئے اور لوگ زندہ درگور ہوتے گئے۔ سسکتے بلکتے لوگ منتظر ہیں کہ وہ دم کون پڑھے گا جو ان نا دیدہ سایوں کی روح قبض کرے گا۔

قوم کو امن پیار محبت کے جس سائے کی حقیقی معنوں میں تلاش تھی اسکو تو نفرت کا سورج اپنی زہریلی دھوپ سے نگل گیا

اس دشت سخن میں کوئ پھول کھلائے کیا
چمکنے لگی جو دھوپ تو جلنے لگے سائے

اب وقت آگیا ہے کے وطن عزیز کے طبیب بھی فیصلہ کر لیں کے ہر قسم کے شیطانی سائے سے مظلوم بے کس عوام کو مکمّل نجات دلانی ہے اسکے لیئ چاہے سایوں کو جلانا پڑے یا لٹکانا پڑے۔

اگر نا اہلیت کے سائے بھی ہم مستقبل میں مسلط رہے تو تاریک اندھیرے شیطانی سایوں کی صورت میں اہلیت کے چراغوں کو نگل جائیں گے اور ہمارا وہی حال ہوگا کہ

منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہےکہ
گردش تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے