چہل قدمی کے دوران کی جانے والی غلطیاں جو فٹنس بہتر کرنے کی یہ کاوش سود مند ثابت نہیں ہوتی۔

چہل قدمی اچھی صحت او رموٹاپے سے نجات کے لیے بے حد ضروری ہے مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ کچھ لوگ واک کرتے ہوئے معمولی چیزوں کا اکثر خیال نہیں رکھتے جس کے باعث اُن کی یہ کاوش سود مند ثابت نہیں ہوتی۔

تفصیلات کے مطابق طبی ماہرین اچھی صحت کے لیے روزانہ چہل قدمی کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ کسی بھی شخص کی فٹنس بہتر رہے اور  انسان چاک و چوبند رہے، بالخصوص موٹاپے سے عاجز افراد کو بھی ڈاکٹرز روزانہ واک کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔

چہل قدمی کے دوران ہم کچھ ایسی معمولی غلطیاں کرتے ہیں جس کی وجہ سے واک کے اثرات ہمارے جسم پر اثر انداز ہوتے نظر نہیں آتے اور موٹاپہ جیسا کا تیسا ہی رہتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق چہل قدمی کے دوران عام طور پر چار چیزوں کا خیال رکھے جانا بے حد ضروری ہے۔

پہلی غلطی: ہاتھوں کا حرکت نہ کرنا

اکثر لوگ چہل قدمی کرنے کے دوران اپنے ہاتھوں کو مصروف رکھتے ہیں، جب تک واک کرنے کے دوران  دونوں ہاتھ اور پیر حرکت نہ کرے تو اس کا اثر صحت پر بالکل نہیں پڑتا۔ ڈاکٹرز کا کہنا  ہے کہ چہل قدمی کے دوران ہاتھوں کی کوہنیوں  کا 90 ڈگری زاویے تک حرکت کرنا ضروری ہے۔

دوسری غلطی: چھوٹے قدموں سے چہل قدمی

چہل قدمی کے دوران بہت زیادہ رفتار  اچھی نہیں کیونکہ ماہرین کے مطابق ایسا کرنے سے قدم چھوٹے اٹھتے ہیں، اگر آپ تیز واک کرنے کے عادی ہے تو قدموں کے درمیان فاصلے کا خیال ضرور رکھیں۔

تیسری غلطی: قدم جما کر نہ چلنا

بعض اوقات چہل قدمی کے دوران کچھ لوگ قدم رگڑھ رگڑھ کر چلتے دکھائے دیتے ہیں جو اچھی عادت نہیں، عام طور پر اس کی وجہ بڑے جوتے، سستی ہوتی ہے، اسی طرح اگر قدم جما کر زمین پر نہ رکھے جائیں تو چہل قدمی بے اثر ہی رہتی ہے۔

چوتھی غلطی: کپڑوں اور جوتے کا خیال نہ رکھنا

چہل قدمی کے دوران ڈھیلے ڈھالے کپڑوں کے ساتھ آرام دہ جوتوں کا پہننا بھی بہت ضروری ہے، اگر آپ چست کپڑوں میں واک کریں گے تو خون کی تیز روانی متاثر ہوگی جس کے باعث پٹھوں اور اعصاب پر اس کے مضر اثرات پڑتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے