پی سی بی میڈیکل پینل کی موجودگی کے باوجود کھلاڑی بیرون ملک علاج کرانے لگے

محدود اوورز کی کرکٹ میں پاکستان ٹیم کے مستقل رکن رومان رئیس اور عماد وسیم کی انجری سے صحتیابی کی جانب پیش رفت زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہے اور دونوں کی آئندہ ماہ اسکاٹ لینڈ کے خلاف دو میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شرکت مشکوک ہے۔

سلیکٹرز زمبابوے کی سیریز کے لیے کھلاڑیوں کی فہرست کو حتمی شکل دے رہے ہیں اور انہیں دونوں کھلاڑیوں کی حتمی فٹنس رپورٹ کا انتظار ہے تاہم حددرجہ مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ رومان رئیس اور عماد وسیم اپنے طور پر کراچی میں علاج کرارہے ہیں۔

عماد وسیم بیرون ملک جا چکے ہیں اور رومان رئیس کا پی سی بی کے ڈاکٹروں سے کوئی رابطہ نہیں ہے وہ اپنے ڈپارٹمنٹ یو بی ایل کے ڈاکٹر کے پاس زیر علاج ہیں حالانکہ دونوں کھلاڑی بورڈ کے سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل ہیں۔

شائد اب یہ فیشن بن گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل پینل کی موجودگی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے اکثر کھلاڑی اپنے طور پر بیرون ملک علاج کرارہے ہیں جس سے میڈیکل پینل کی ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں حالانکہ پی سی بی کے پاس بہترین ڈاکٹرز کی ٹیم ہے جس نے کئی کھلاڑیوں کو فٹ کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

حددرجہ مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کئی کھلاڑی حالیہ مہینوں میں ان فٹ ہونے کے بعد لندن گئے جہاں انہوں نے برطانیہ میں پاکستانی ڈاکٹر ظفر سے اپنا علاج کرایا۔

ڈاکٹر ظفر اچھی ساکھ کے حامل ڈاکٹر ہیں جو مشہور برطانوی کلب کرسٹل پیلس سے بھی وابستہ ہیں۔ ڈاکٹر ظفر دو سال قبل پاکستانی ڈومیسٹک سرکٹ میں دکھائی دیے۔

پھر پاکستان سپرلیگ کے دوران ان کی خدمات پشاور زلمی نے حاصل کی۔ ڈاکٹر ظفر نے سب سے پہلے عمر امین کی گروئن انجری کا علاج کیا تھا پھر محمد حفیظ نے ان سے اپنا علاج کرایا جس کے بعد وہ پاکستانی کرکٹرز میں مقبول ہوگئے۔

ڈاکٹر ظفر اسپورٹس میڈیسن کے حوالے سے کوالی فائیڈ ڈاکٹر ہیں تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کے سینیئر اور کوالی فائیڈ ڈاکٹروں کے ساکھ پر سوال اٹھ رہا ہے۔

پی سی بی کا میڈیکل پینل اس وقت لیگ اسپنر یاسر شاہ کو فٹ کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن کئی پاکستانی کرکٹرز مستقل اپنی انجری کا علاج کرانے برطانیہ کا رخ کرتے ہیں۔

اس وقت پاکستان کے آل راؤنڈر عماد وسیم اپنے گھٹنے کا علاج کرانے انگلینڈ میں ہیں جبکہ ٹیسٹ اوپنر شان مسعود بھی ڈاکٹر ظفر سے اپنے گھٹنے کا علاج کرواکر واپس آئے ہیں۔

گذشتہ سال سری لنکا کی ٹیسٹ سیریز کے بعد اسٹار بیٹسمین اظہر علی بھی ڈاکٹر ظفر کے پاس زیر علاج رہے، وہ اب گھٹنے کی تکلیف سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں لیکن مکمل فٹ نہیں ہیں اس لیے آئر لینڈ اور انگلینڈ میں بولنگ نہیں کرائیں گے۔

فاسٹ رومان رئیس کراچی میں ہیں اور ابھی تک گھٹنے کی انجری سے لڑ رہے ہیں۔ عماد وسیم لندن میں ری ہیبلی ٹیشن کے عمل سے گزر رہے ہیں لیکن دونوں کی فوری طور پر فٹنس کا کوئی امکان نہیں ہے۔

اگر دونوں فٹ قرار دے بھی دیے گئے تو انہیں پاکستانی ٹیم میں آنے کے لئے فٹنس ٹیسٹ دینا ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی میڈیکل پینل کو نظر انداز کرکے کچھ کھلاڑی بورڈ کے افسران کی اجازت سے بیرون ملک علاج کرالیتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کرکٹرز بیرون ملک غیر ملکی ڈاکٹروں سے علاج کرائیں گے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل پینل کی اہمیت کیا رہ جائے گی؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل پینل کے سربراہ ڈاکٹر سہیل سلیم ہیں جوہیلتھ میڈیکل اور اسپورٹس سائنسزمیں قومی اکیڈمی میں سینیئر جنرل منیجر ہیں۔

ڈاکٹر سہیل سلیم پاکستان کی مختلف ٹیموں کے ساتھ کئی دورے کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر ریاض احمد ریزیڈنٹ اسپورٹس فزیشن ہیں۔

جنوبی افریقا سے تعلق رکھنے والے کلف ڈی کون پاکستانی کرکٹ ٹیم کے نئے فزیو تھراپسٹ ہیں جو فرسٹ کلاس کرکٹر رہ چکے ہیں۔ ماضی کے فاسٹ بولر نے پاکستانی ٹیم کا چارج سنبھالتے ہی ان فٹ کھلاڑیوں کو فٹ کرنا شروع کردیا ہے۔

کلف ڈی کون نے ڈبلن ٹیسٹ کے تیسرے دن ان فٹ ہونے والے محمد عامر کو فٹ کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور وہ اچھی ساکھ کے حامل فزیو ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے