آم کی پیداوار میں کمی، برآمدات بڑھنے کی امید

کراچی:  پاکستان سے رواں سیزن میں آم کی برآمدات کاآغاز 20مئی سے کیا جائے گا جبکہ ایکسپورٹ کا ہدف 1لاکھ ٹن مقرر کیا گیا ہے۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ اور ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر وحید احمد کے مطابق پانی کی قلت اور موسمی تبدیلی کے اثرات کی وجہ سے آم کی پیداوار 35فیصد تک کم رہنے کا خدشہ ہے،اس مرتبہ پہلی بار اقتصادی راہداری کے ذریعے چین کو زمینی راستے سے بھی آم ایکسپورٹ کیا جائے گا۔

وحید احمد کے مطابق رواں سیزن آم کی ایکسپورٹ کا 1 لاکھ ٹن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس سے 95سے 100ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوگا۔ رمضان کے دوران آم کی آمد کی وجہ سے برآمدات کو بھی فائدہ ہوگا اور دنیا بھر میں پاکستانی آم روزے داروں کے دسترخوان کی زینت بنیں گے، رمضان کے ساتھ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی سے بھی برآمدی مالیت میں اضافہ ہوگا، پیداوار میں 50فیصد تک کمی کی وجہ سے گزشتہ سیزن کے لیے 1لاکھ ٹن کا ہدف پورا نہیں ہوسکا تھا اور برآمدات 81ہزار ٹن تک محدود رہی تھیں۔

ایف پی سی سی آئی کے نائب صدرنے کہا کہ رواں سیزن بھی خلیجی ممالک، متحدہ عرب امارات اور یورپی ممالک پاکستانی آم کے بڑے خریدار رہیں گے تاہم چین کے امپورٹرز کی جانب سے بھی پاکستانی آم کی امپورٹ میں گہری دلچسپی ظاہر کی جارہی ہے اور بڑی تعداد میں چین کو پاکستانی آم کی ایکسپورٹ انکوائریزموصول ہورہی ہیں۔

وحید احمد نے کہا کہ پاکستان سے پہلی مرتبہ اقتصادی راہداری کے ذریعے آم کی ایکسپورٹ کی جائے گی۔ چین کو 500سے 2000 ٹن تک آم برآمد کیے جانے کی توقع ہے جبکہ چین کی مارکیٹ پوری طرح ڈیولپ ہونے کی صورت میں چین پاکستان کی بڑی منڈی بن سکتا ہے جہاں سالانہ 20ہزار ٹن تک آم ایکسپورٹ کیا جاسکے گاجبکہ جاپان کو بھی 100سے 150ٹن آم برآمد کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اس سال چین، مالدیپ اور یورپی ملکوں میں پاکستانی آم کی تشہیری سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی۔ ایران بھی پاکستان آم کا اہم خریدار ہے تاہم ایرانی کرنسی کی قدر میں غیرمعمولی کمی کی وجہ سے برآمد کنندگان کو اچھی قیمت ملنے کی توقع نہیں ہے، موسمی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ پاکستان میں آم کی پیداوار کے لیے بڑا خطرہ بن رہی ہے، گزشتہ سال بھی آم کی مجموعی پیداوار 50فیصد تک کم رہی تھی جبکہ رواں سیزن بھی 35فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔

وحید احمد نے بتایا کہ سندھ میں آم کی پیداوار کے علاقوں حیدرآباد ڈسٹرکٹ، ٹنڈوالہ یار، میرپور خاص میں آم کے باغات پانی کی قلت سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، پنجاب میں آم کی مجموعی پیداوار 35سے 40فیصد تک کم رہنے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مظفر گڑھ، ملتان، رحیم یار خان اور شجاع آباد آم کے علاقوں میں بھی آم کی پیداوار 30سے 50فیصد تک کم رہنے کا خدشہ ہے، آم کی پیداوار میں کمی کے ساتھ آم کا سائز بھی چھوٹا رہا ہے، طلب کے مقابلے میں رسد بڑھنے سے اس سال آم کی تھوک قیمت بھی 2400سے بڑھ کر 3000روپے تک رہنے کا امکان ہے۔

وحید احمد نے کہا کہ مختلف پیداواری علاقوں میں سردیوں کا موسم دیر تک رہنے سے بھی آم کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، دوسری جانب ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے نئی نئی بیماریوں کے حملوں کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے آم کی پیداوار خدشات کا شکار ہے۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن گزشتہ کئی سال سے کلائمٹ چینج کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سرگرمیوں کے فروغ کا مطالبہ کرتی رہی ہے، زراعت کی بہتری کی ذمے داری اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو منتقل ہونے کی وجہ سے مربوط کوششوں کا فقدان ہے۔

وحید احمد نے کہا کہ آم کی ایکسپورٹ کا ہدف پورا کرنے کے لیے ملک میں سیاسی استحکام، امن و امان کی صورتحال بہتر رہنے کے ساتھ ایئرلائنز، شپنگ کمپنیوں، کسٹمز، پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کا تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے ایئرلائنز پر زور دیا کہ پاکستان کے توازن ادائیگی کے بحران کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے موزوں اور مناسب ایئرفریٹ مقرر کیا جائے تاکہ بڑھتی ہوئی کاروباری لاگت کی وجہ سے دشوار ہوتی مسابقت کو آسان بنایا جاسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے