خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک بڑھنے کا خدشہ

 لندن: خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار ہے اور نرخ ایک بار پھر 80ڈالر فی بیرل کے قریب بڑھ رہے ہیں جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سپلائی سے متعلق خدشات کی وجہ سے قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔

گزشتہ روز لندن میں برینٹ نارتھ سی خام تیل کی مستقبل میں فراہمی کے لیے قیمت 41 سینٹ بڑھ کر 79.71 ڈالر فی بیرل ہو گئی جبکہ امریکی آئل ڈبلیوٹی آئی کے سودے 18 سینٹ کے اضافے سے 71.67 ڈالر فی بیرل میں طے پائے۔

رواں سال تیل کی قیمتوں میں 33 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جس کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جوہری ڈیل سے علیحدگی اختیار کرنے پر تہران سخت پابندیاں عائد کرنے کا انتباہ ہے جس کے نتیجے میں ایرانی سپلائی محدود ہو سکتی ہے، اس کے علاوہ وینزویلا کی پیداوار بھی سیاسی واقتصادی بحران کی وجہ سے گھٹ گئی جبکہ اوپیک و روس سمیت دیگر پروڈیوسرز کی جانب سے ایک معاہدے کے تحت سپلائی میں جنوری 2017 سے مسلسل کٹوتی بھی قیمتوں میںاضافے کی وجہ بن رہی ہے۔

بعض تجزی کاروں کا خیال ہے کہ قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ امریکی بینک مارگن اسٹینلے نے پیش گوئی کی ہے کہ نرخ 2020 تک 90 ڈالر فی بیرل ہو جائیں گے۔فرانسیسی تیل کمپنی ٹوٹل کے چیف ایگزیکٹو پیڑتک پوئے یانے نے کہاکہ آنے والے مہینوں میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل ہو گئی تو یہ حیران کن نہیں ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے