محمود عامر پیرس میں ادبی تنظیموں کا بانی

محمود عامر پیرس میں ادبی تنظیموں کا بانی
……………………………………………………….
تحریر :ایاز محمود ایاز

2003 میں جب میں پیرس آیا تو میں نے یہاں کے ادبی حلقوں کے بارے میں اگاہی شروع کی کچھ دوست جو یہاں کافی عرصے سے مقیم تھے اور ادب سے لگاؤ رکھتے تھے ان سے ملا تو پتا چلا کہ یہاں پر ایک تنظیم حلقہ ادب و ثقافت کے نام سے کام کر رہی ہے اور کافی منظم ہے جس کے کرتا دھرتا معروف شاعر میاں محمود عامر ہیں جن کا تعلق ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل گوجرہ سے ہے ۔۔
آخر کار ان سے ملاقات ہوئی محمود عامر باکمال شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نہایت اعلیٰ اور خوبصورت شخصیت کے مالک بھی ہیں ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا اسی دوران انہوں نے مختلف ادبی نشستوں سمیت عالمی مشاعروں کا بھی انعقاد کروایا یوں کہنا غلط نہیں ہو گا کہ محمود عامر، فرانس میں ادبی تنظیموں کے بانی ہیں
اب تک ان کے تین شعری مجموعے منظر عام پر، آ چکے ہیں جن میں ” چاند سے خالی راتیں ” کبھی دیکھنے کو آ ” سر مقتل ” تیسرا مجموعہ کلام انکی سیاسی وابستگی کی بنیاد اور سیاسی ناانصافیوں، کرپشن، اور وطن میں ظلم و زیادتی کے حوالے سے ہے
انکے چند اشعار.
محبتوں سے یہ دل بھر کے لانا چاہتا ہوں
میں پتھروں کے زمانے میں جانا چاہتا ہوں

یونہی خلاف نہیں میرے دیس کا حاکم
میں اقتدار پہ مخلص، گھرانہ چاہتا ہوں

سخت دشمن ہوں یزیدوں کا میں محمود عامر
میرے سچ، کی مرے اشعار سے خوشبو آئے

ہمارے گھر سے اڑ کر اور جائیں بھی کہاں چڑیاں
کہ ان کے گھر ہمارے گھر کے روشندان ہوتے ہیں

ایک محبوب بھی ضروری ہے
گھر میں کھڑکی تو ہو ہوا کے لیے

رت خزاؤں کی تمہیں یوں تو نہ ڈستی عا مر
چند چڑیاں ھی جو دالان میں رھنے دیتے

آ س جھوٹی دل ویران میں رھنے دیتے
یہ تھا نقصان تو نقصان میں رھنے دیتے

پسپا ھو کر بھی خود کو میدان میں رکھا
شہر نے اسی لیے مجھکو پہچان میں رکھا

جا نے کتنی د ستار وں سے بھا ر ی نکلا
حاکم نے جب میرا سر میزان میں رکھا

مجھ سے ملنے وہ اگر عید پہ آ جاتا ھے
شہر کا شہر ھی تنقید پہ آ جاتا ھے

وقت کے شاہ سے دستار عطا ھوتے ھی
میرا دشمن مری تقلید پہ آ جاتا ھے

یقیں کرو کبھی مر نے کے ڈ ر نہ اترے تھے
کہ خواہشوں پہ مری جب یہ پر نہ اترے تھے

بڑا غرور تھا ھم کو بھی خو بر و ئی کا
کہ جب تلک یہاں آئنہ گر نہ ا ترے تھے

یہ بارشوں میں کدھر پھر نکل گیا عا مر
ابھی تو پاؤں سے پچھلے سفر نہ اترے تھے

بانٹنے کے لیے خیرات کو آیا ھوا ھے
چاند . تاروں سے ملاقات کو آیا ھوا ھے

جو محبت کے سرابوں میں پڑے رھتے ھیں
عمر ساری وہ عزابوں میں پڑے رھتے ھیں

ھم وہ گل ھیں جو سجائے نہیں جاتے گھر میں
ھم سدا بند کتابوں میں پڑے رھتے ھیں

محمود عامر کی شاعری کمالات کی حدوں کو چھوتی ہوئی نظر آتی ہے مجھے سب سے خاص بات ان کی شاعری میں یہ لگی کہ انہوں نے حسینی پرچم تھاما ہوا ہے اور وقت کے یزیدیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہوا ہے
سولی پہ چڑھایا ہے اس رنج پہ عامر
اک پل بھی یزیدوں سے نہ مرعوب رہا ہوں
محمود عامر ایک ایسا سچا اور کھرا شاعر ہے جو دیکھتا ہے وہی لکھتا ہے وہی بولتا ہے معاشرے کو آئینہ دکھاتا ہے اسے اس سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی اسکی بات کو سن بھی رہا ہے کہ نہیں بس وہ جسے سچ سمجھتا ہے اسے بار بار دہراتا رہتا ہے اس امید کے ساتھ کہ کبھی تو اس کی شنوائی بھی ہو گی