احتساب عدالت نے شریف خاندان کیخلاف جس قانون کے تحت سزائیں دیں وہ کب کا ختم ہو چکا، فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران ایسا انکشاف سامنے آگیا کہ ساری بازی ہی پلٹ گئی

 

لاہور ( نیوز ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کی نقل ساتھ لگانے کی ہدایت کردی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف لائیرز فائونڈیشن فارجسٹس کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزار وکیل اے کے ڈوگر نے کہا کہ کہ قومی احتساب بیورو (نیب )کا قانون 18ویں ترمیم کے بعد ختم ہوچکا ہے۔

درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ ملک کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے شخص کو اس قانون کے تحت سزادی گئی جو کہ ختم ہو چکا ہے۔درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن صفدر کو مردہ قانون کے تحت دی گئی سزا غیر قانونی ہے لہٰذا عدالت نیب کے مردہ قانون کے تحت دی گئی سزا کالعدم قرار دے۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ احتساب عدالت نواز شریف اور دیگر کو سزائیں دینے کی اہل ہے۔اس پر جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ آپ جس فیصلے کو معطل کروانا چاہ رہے ہیں وہ فیصلہ کہاں ہے؟۔جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ دیکھنا پڑے گا کہ کیا فیصلہ نیب آرڈیننس کے دائرہ کار میں آتا بھی ہے یا نہیں، فیصلے کی نقل میرے سامنے ہوگی تو دیکھ سکوں گا کہ آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کی نقل ساتھ لگانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔خیال رہے کہ 6جولائی کو شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب ) کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو 10سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7سال جبکہ داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔ نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کی نقل ساتھ لگانے کی ہدایت کردی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف لائیرز فائونڈیشن فارجسٹس کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزار وکیل اے کے ڈوگر نے کہا کہ کہ قومی احتساب بیورو (نیب )کا قانون 18ویں ترمیم کے بعد ختم ہوچکا ہے۔

درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ ملک کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے شخص کو اس قانون کے تحت سزادی گئی جو کہ ختم ہو چکا ہے۔درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن صفدر کو مردہ قانون کے تحت دی گئی سزا غیر قانونی ہے لہٰذا عدالت نیب کے مردہ قانون کے تحت دی گئی سزا کالعدم قرار دے۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ احتساب عدالت نواز شریف اور دیگر کو سزائیں دینے کی اہل ہے۔اس پر جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ آپ جس فیصلے کو معطل کروانا چاہ رہے ہیں وہ فیصلہ کہاں ہے؟۔جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ دیکھنا پڑے گا کہ کیا فیصلہ نیب آرڈیننس کے دائرہ کار میں آتا بھی ہے یا نہیں، فیصلے کی نقل میرے سامنے ہوگی تو دیکھ سکوں گا کہ آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کی نقل ساتھ لگانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔خیال رہے کہ 6جولائی کو شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب ) کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو 10سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7سال جبکہ داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے