اسرائیلی فورسز کی فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ، 15 سالہ نوجوان شہید

غزہ : اسرائیلی سرحد کے قریب احتجاج کرنے والے نہتے فلسطینیوں پر صیہونی افواج کی بے دریغ فائرنگ کے نتیجے میں 15 سالہ فلسطینی بچہ شہید، جبکہ درجنوں شہری زخمی ہوگئے

جمعے کے روز فلسطین کے مقبوضہ علاقے غزہ میں اسرائیلی سرحد کے قریب غاصب ریاست اسرائیل کی افواج کے ظلم و بربریت کے خلاف احتجاج کرنے والے نہتے فلسطینوں پر اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ایک نوجوان شہید ہوگیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مشرقی غزہ میں اسرائیلی سرحد کے قریب اپنے حقوق اور صیہونیوں کے مظالم کے خلاف مظاہرہ کرنے والے نہتے فلسطینوں پر اسرائیلی فوجیوں نے بے دریغ آنسو گیس کے شیل اور گولیاں برسائی ہیں۔

فلسطین کی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف کا کہنا تھا کہ صیہونی افواج کی فائرنگ کے نتیجے میں گولیاں 15 سالہ فلسطینی بچے عثمان الرامی کے سینے میں لگی جو اس کی شہادت کا باعث بنی۔ جبکہ فائرنگ اور شیلنگ سے درجنوں فلسطینی شہری زخمی ہیں۔

یاد رہے کہ 6 جولائی کو اسرائیلی مظالم کے خلاف مظاہرہ کرنے والے نہتے فلسطینیوں پر صیہونی فورسز کی فائرنگ اور شیلنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان شہید جبکہ 400 سے زائد شہری زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گذشتہ ماہ 29 جون کو مقبوضہ فلسطین کے شہر غزہ کے علاقے خان یونس میں جمعے کے روز ہونے والے احتجاجی مظاہروں پر صیہونی فوجیوں کی بے دریغ فائرنگ اور شیلنگ سے 13 برس کے بچے سمیت سے دو فلسطینی شہری شہید اور 3 سو سے زائد زخمی ہوگئے۔

خیال رہے دو ماہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیا گیا تھا، جس کے بعد 30 مارچ سے فلسطینی عوام وقتاً فوقتاً اسرائیل اور امریکا کے خلاف مظاہرے کررہی ہے، جس کو دبانے کے لیے اسرائیلی فورسز مسلسل طاقت کا استعمال کررہی ہے، جس میں 150 کے قریب فلسطینی شہری شہید جبکہ 15 ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے