بینکوں کے بیرون ملک آپریشن کیلئے اسٹیٹ بینک کے نئے اقدامات

کراچی: امریکا میں قائم ملک کے دو بڑے نجی بینکوں کی ریگولیٹری اتھارٹیز کے مابین جھڑپ کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں کے بیرونِ ملک کاروبار کے لیے ایک تفصیلی نظام وضع کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں ۔

اسٹیٹ بینک نے منگل کو جاری اعلامیے میں کہا کہ نیا نظام حالیہ عالمی ماحول کے تناظر میں متعارف کروایا جارہا ہے جس کا مقصد گورننس، رسک مینیجمنٹ اور بینکوں کے بیرون ملک کاروبار کے طریقوں کو مضبوط بنانا ہے۔

مذکورہ انتظامی ڈھانچہ پاکستان کے تمام بینکوں کی بیرون ملک کارروائیوں کی نگرانی کرے گا جن میں جنرل آپریشنز، منافع کی رقوم کی وطن واپسی، بینکوں کی بیرون ملک شاخوں کی کارکردگی کی نگرانی شامل ہے۔ گزشتہ سال حبیب بینک لمیٹڈ کی جانب سے جرمانہ عائد کیے جانے کے بعد یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل) نےامریکی قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کے لیے نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک کے ساتھ ایک ماہ قبل معاہدہ طے کیا ہے۔

اسٹیٹ بینک ہاؤسنگ فنانس کو فروغ دینے کے لیے سرگرم فیڈرل ریزرو بینک کے ساتھ معاہدے کے مطابق یو بی ایل نیویارک برانچ میں رسک مینیجمنٹ اور فیڈرل اور اسٹیٹ فریم ورک میں موجود کمی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کررہا ہے جن میں اینٹی منی لانڈرنگ قواعد و ضوابط اور بینک پرائیویسی ایکٹ بھی شامل ہے۔

اسٹیٹ بینک کا انتظامی ڈھانچہ اس امر کو یقینی بنائے گا کہ بیرون ملک قائم بینکوں کے بورڈز اور سینئر مینیجمنٹ بیرون ملک کی متعلقہ قانونی حدود کے اہم قواعد و ضوابط سے اچھی طرح واقف ہوں ۔ یہ فریم ورک بینکوں کو اس بات کا حکم دیتا ہے کہ برانچ میں ہونے والے منافع کا 50 فیصد حصہ پاکستان میں موجود بینک ہیڈ آفس میں سالانہ وطن واپس بھیجا جائے۔ اس نئے نظام کے تحت بینک اس بات کے پابند ہیں کہ بعد از ٹیکس منافع یا مجموعی کیپٹل منصفانہ طور پر ملک واپس بھجوائیں۔ اس سرکلر میں مزید کہا گیا کہ وہ بیرون ملک برانچ جو لگاتار 2 سال تک اس معیار پر اترنے میں ناکام رہتی ہیں انہیں اسٹیٹ بینک کو نقصان کی وجوہات اور اس کے ازالے کے طریقہ کار پرمبنی ایک ایکشن پلان جمع کروانا ہوگا ۔

بیرون ملک کاروبار سے منسلک تمام مقامی بینکوں کو اگلے تین ماہ میں ایک ایسا طریقہ کا ترتیب دینا ہوگا جس کے تحت بینکوں کے متعلقہ بورڈ اپنی بیرون ملک شاخوں کی مالی اور عملی کارکردگی کی نگرانی کرسکیں۔ فریم ورک کے تحت اگلے 6 ماہ میں تمام بینکوں کو اپنے بیرون ملک کاروبار کے لیے رسک گورنسس کا نظام ترتیب دینا ہوگا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق اس کے علاوہ 1 ارب ڈالر سے زائد بیرون ملک اثاثوں کے مالک بینکوں کو اپنے غیرملکی آپریشن کی نگرانی کے لیے ایک علیحدہ ذیلی کمیٹی قائم کرنی ہوگی۔ اسٹیٹ بینک نے تجویز دی ہے۔

بیرون ملک آپریشن کے لیے بینک اپنے صدر کی زیر نگرانی ایک مینیجمنٹ کمیٹی بھی ترتیب دے سکتے ہیں۔ مزید برآں اس نئے نظام کے تحت بینکوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی تمام لین دین، غیر ملکی برانچوں کے ساتھ معاہدےاور مشترکہ منصوبات کو بورڈ کی منظور شدہ پالیسی کے تحت شفاف طریقے سے سرانجام دیں۔ اسٹیٹ بینک کا کرپٹو کرنسی کے استعمال پر سخت اقدامات اٹھانے کا انتباہ بینکوں کو ان علاقوں میں اپنا کاروبار بڑھانے کی اجازت نہیں ہوگی جہاں اسٹیٹ بینک بذات خو د یا کسی تیسرے فریق کے ذریعے میزبان ملک کے قواعد وضوابط کے باعث بینک کی کارکردگی کی خبر نہیں رکھ سکتا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق جن علاقوں میں ایسی کوئی رکاوٹ نہیں ہے وہاں اگر اسٹیٹ بینک کسی تیسرے فریق کے ذریعے بینکوں بیرون ملک کارکردگی کا معائنہ کرنا چاہے تو اس کے تمام اخراجات بینک کو برداشت کرنا ہوں گے۔ یہ پالیسی بہت جلد نافذ کردی جائے گی، جس کے تحت اسٹیٹ بینک کے نامزد کردہ بینکوں کو نئے انتظام کے تحت اپنے بیرون ملک نیٹ ورک کی کارکردگی جاری رکھنے کی اطلاع متعین کردہ مدت میں ایک خط کے ذریعے یقینی بنانا ہوگی۔ اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ’ریگولیٹری کی عدم تعمیل کے سلسلے میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ ‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے