ضبط شدہ کرنسی چھوڑنے پر کسٹمز افسران کیخلاف تحقیقات شروع

اسلام آباد:  فیڈرل بورڈآف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹرائل جج کسٹمز سے این او سی لیے بغیر ضبط شدہ لاکھوں ڈالر اورچینی کرنسی چھوڑنے والے کسٹمز افسران کے خلاف عدالتی حکم پر 7 سال بعد تحقیقات شروع کردی۔

چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کے حکم پر ایف بی آرکی جانب سے ڈائریکٹر جنرل پوسٹ کلیئرنس آڈٹ (پی سی اے) کسٹمز ہائوس اسلام آباد ڈاکٹر واصف میمن کی سربراہی میں قائم کردہ 4 رکنی انکوائری کمیٹی نے 16 اگست کو متعلقہ افسران کو طلب کرلیا ہے۔

’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب دستاویز کے مطابق کسٹمز ڈیپارٹمنٹ نے ایئر پورٹ پر اللہ باش نامی شخص سے 2009 میں ایئر پورٹ پر ایک لاکھ ایک ہزار ایک سو ڈالر اور2800 یوآن(چائنیز کرنسی) پکڑے تھے جس کے خلاف باقاعدہ کسٹمز اسپیشل جج کے پاس کیس چلا

اور یہ کرنسی ضبط کرلی گئی تاہم اسپیشل جج کسٹمز کے فیصلے کے بعد اس وقت کے ایڈیشنل کلکٹر (اے ایف یو) بلڈنگ اسلام آباد ایئر پورٹ عبدالرزاق نے متاثرہ شخص اللہ باش ولد ابو خان کی اپیل پر کیس کی سماعت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے