بندگی کی چاہ میں…

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہم سب کو اپنا بندہ بنا کر بھیجا ہے اور یہ وہ اعزاز ہے کہ جس کا نعم البدل ممکن نہیں۔ بندگی وہ عروج ہے جو نفس کے زوال سے شروع ہوتی ہے۔ یہ وہ کمال ہے جو انہیں نصیب ہوتا ہے جو ایک در کے سوا کہیں کے نہیں رہتے، اور یہ ایسی معراج ہے جو اپنے آپ کو پامال کر دینے سے ملتی ہے۔

جیسے ہمارے دور میں سر، گورنر، فیلڈ مارشل، عالم فاضل کا یا کوئی اور خطاب یا تمغہ ملتا ہے، بالکل اسی طرح بندگی وہ نشانِ حیدر ہے جو اللہ والوں کے حصے میں آتا ہے۔

بندہ بننا باقی کیریئر پروفیشن کی طرح ہر وقت دماغ میں رہنا چاہیے۔ جیسے ہمیں ڈاکٹر، انجینئر یا پائلٹ بننے کی دھن سوار رہتی ہے بالکل اسی طرح بندہ بننے کی بھی کوشش جاری رہنی چاہیے۔

ڈرائیونگ، تیراکی اور شوٹنگ کی طرح بندگی وہ یونیورسل اِسکل ہے جو ہر موقع پر کام آتی ہے۔

انسان بڑا چالباز واقع ہوا ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بندگی کی چادر میں چھید کرتا رہتا ہے اور ان سوراخوں سے پھر نفاق چھن چھن کر آتا ہے۔ سوراخوں والی چادروں کی اتنی بہتات ہوگئی ہے کہ اگر کوئی سالم چادر لے کر آجائے تو اجنبی لگتا ہے؛

اور لوگ اُسے ہی طعنے دینے لگتے ہیں۔ ویسے آپس کی بات ہے کہ عشق میں جب تک طعنے نہ ملیں، اس پر رنگ نہیں چڑھتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے