پاکستان کے ماحولیاتی تغیرات اور پلاسٹک آلودگی کے بڑھتے خطرات

‘جرمن واچ’ دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں پر تحقیق کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ یہ تھنک ٹینک ہر سال گلوبل کلائیمٹ رِسک انڈیکس کے نام سے ایک رپورٹ شائع کرتا ہے۔

اس کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان، دنیا کے اُن 10 ممالک میں ساتویں نمبر پر ہے، جنہیں سخت ماحولیاتی تغیرات کا سامنا ہے۔ بات یہاں پر رُکی نہیں بلکہ پاکستان کی زمینی، سمندی اور فضائی آلودگی نے پورے ایکوسسٹم کو متاثر کیا ہے اور ہمارا ملک دنیا کے اُن بارہ ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے جہاں پورے ایکو سسٹم کو سخت خطرات لاحق ہیں۔

پاکستان گزشتہ کافی عرصے سے موسمی تغیرات کی لپیٹ میں ہے۔ ایک طرف تو مون سون بارشوں اور سیلابوں کی تباہ کاریاں ہیں تو دوسری طرف سخت موس۔موں کی پیشین گوئیاں، کبھی صدیوں سے قائم گلیشیئرز پگھلنے کی وارننگز ہیں تو کبھی ہیٹ وویو اور اسموگ جیسے مسائل کا سامنا۔کراچی کے شہریوں نے تو موسمی تغیر کی واضح مثال ہیٹ ویوو کی شکل میں دیکھی ہے، جب کئی ہزار شہری حبس اور لُو برداشت نہیں کرسکے اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے

پاکستان کو صنوبر مینگروز کے جنگلات کی کٹائی کا بھی سامنا ہے اور دوسری طرف ہمارے سمندر اور دریا بھی زہریلے پانیوں میں بدل رہے ہیں۔

لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ٹنوں کے حساب سے پیدا ہونے والا پلاسٹک کا کچرا اس ماحولیاتی آلودگی کی ایک اہم اور بڑی وجہ ہے۔ 60 کی دہائی سے عام ہونے والا پلاسٹک بڑھتے بڑھتے 300 ملین تک جا پہنچا ہے، ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں اس کا استعمال ہر سال 3 گنا اضافے کے ساتھ بڑھ رہا ہے، لیکن پاکستان پلاسٹک مینوفیکچر ایسوسی ایشن کے مطابق ہمارے ہاں ہر سال 7 سے 9 فیصد کے حساب سے پلاسٹک کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے۔

ایک عام پاکستانی کی زندگی میں پلاسٹک کا استعمال 80 کی دہائی میں آیا اور اب باقی دنیا کی طرح پاکستان میں بھی پلاسٹک سستا، ہلکا اور پائیدار ہونے کی وجہ سے لازمی جز بن چکا ہے۔

دو دہائیوں پہلے تک ہمارے ہاں کپڑے کے تھیلوں کا رواج عام تھا اور ڈسپوزیبل چیزوں کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا، لیکن اب گھروں سے لے کر دفاتر تک ہر جگہ پلاسٹک کی اشیاء ضرور ملیں گی، چاہے وہ فائل کور ہو یا پین، ہاتھ میں پکڑا موبائل کور ہو یا لنچ باکس۔ یہ ہی نہیں بلکہ ہمارے باورچی خانوں کا 70 سے 80 فیصد سامان پلاسٹک کا ہے، جن میں مصالحوں کے ڈبے، پانی کے جگ اور گلاس، کھانے کی پلیٹیں اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے