خواندگی کا معیار

پاکستان میں گزشتہ 71 سال میں شعبہ تعلیم پر وہ توجہ نہ دی گئی جیسا کہ توجہ دینے کی ضرورت تھی۔ جب پاکستان نیا نیا بنا تب اس وقت پاکستان میں وسائل کی کمی اور بنیادی سہولیات کا ڈھانچہ اتنا مضبوط نہ تھا۔ ترقی کا راستہ تعلیم ہے، لیکن ہم نے عمارتیں بنانے کو ترقی سمجھا اور اسی پر زور دیتے رہے، اسی وجہ سے اب تک ہماری شرح خواندگی میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا ہے۔

دنیا میں بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں شرح خواندگی 100 فیصد تک ہے۔ فن لینڈ، گرین لینڈ، ویٹیکین سٹی اور ناروے جیسے ممالک میں شرح خواندگی 100 فیصد ہے جبکہ امریکا، برطانیہ اور جاپان میں 99 فیصد۔ اور تو اور، شمالی کوریا میں بھی (جس پر امریکا کی طرف سے پابندیاں عائد ہیں) شرح خواندگی 100 فیصد ہے؛ جبکہ جنوبی کوریا اگرچہ اس سے زیادہ ترقی یافتہ ہے مگر اس کی شرح خواندگی 99.2 فیصد ہے۔

پاکستان کی بات کی جائے تو ہمارے قومی بجٹ کا تعلیم پر بمشکل تمام 2 سے تین فیصد خرچ کیا جاتا ہے، تو شرح خواندگی بھی اسی حساب سے رہی ہے۔ 71 سال کے عرصے میں یہ خدا خدا کرکے 58 فیصد پر پہنچ پائی ہے۔ ایسے ہی اگر جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کی شرح خواندگی کا جائزہ لیا جائے تو مالدیپ جیسا چھوٹا سا ملک، جس کے اتنے زیادہ وسائل بھی نہیں، وہاں بھی شرح خواندگی 99 فیصد ہے۔ سری لنکا 92 فیصد، بنگلہ دیش 72 فیصد، بھارت 70 فیصد، نیپال 63 فیصد، بھوٹان 59 فیصد اور افغانستان میں شرح خواندگی 30 فیصد ہے.ان تمام ممالک میں پاکستان کا نمبر صرف افغانستان سے زیادہ ہے، یعنی پاکستان ان ممالک کی فہرست میں آخری سے دوسرے نمبر پر ہے۔

ملک میں چودہ برس یا اس سے کم عمر کے افراد کی تعداد کل آبادی کا 35 فیصد بنتی ہے۔ اس 35 فیصد میں سے 2 کروڑ 25 لاکھ سے زیادہ بچے اس وقت اسکولوں سے باہر ہیں، جن میں سے ایک کروڑ بچے پنجاب میں جبکہ بلوچستان میں 27 لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے۔ بلوچستان میں صرف 8 لاکھ بچے ہی اسکول جاتے ہیں جن میں سے 74 فیصد بچے سرکاری اسکولوں میں، 19 فیصد پرائیویٹ اسکولوں میں جبکہ 5 فیصد مدرسوں میں زیر تعلیم ہیں۔

اسی طرح پورے ملک میں 53 فیصد بچے پرائیویٹ اسکولوں میں اور 47 فیصد سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔ ملک میں شرح خواندگی بڑھانے کےلیے کئی مرتبہ اہداف سامنے رکھے گئے۔ مثلاً 1992 میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ 2002 تک ملک میں شرح خواندگی 70 فیصد تک کردی جائے گی؛ اور 1998 میں اس تعلیمی پالیسی کے اطلاق کی حتمی تاریخ 2002 سے بڑھا کر 2010 کردی گئی۔ مگر 2010 سے پہلے، یعنی 2009 میں ایک پھر دعویٰ کیا گیا کہ 2015 تک ملک میں شرح خواندگی 86 فیصد تک لے جائیں گے۔ لیکن 2015 بھی گزر گیا اور 86 فیصد تو دور، اسے 60 فیصد تک بھی نہ لایا جاسکا۔

پاکستان میں سابق حکومتیں شرح خواندگی میں اضافہ کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہیں۔ اب موجودہ حکومت پاکستان تحریک انصاف کی ہے جس کے منشور میں تعلیم کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ الیکشن سے پہلے عمران خان کا کہنا تھا وہ اسکولوں سے باہر دو کروڑ بچوں کو اسکولوں میں لے آئیں گے۔ اسی حوالے سے وفاقی کابینہ کا ایک اجلاس 5 ستمبر کو ہوا جس کی صدارت وزیراعظم عمران خان نے خود کی۔ اس اجلاس میں یہ منظوری دی گئی کہ ملک میں آئندہ یکساں نظام تعلیم رائج کیا جائے گا۔ اس نظام کے تحت ملک میں مدرسوں کے نصاب کو سرکاری اسکولوں کے تعلیمی نصاب کے ہم پلہ بنا دیا جائے گا۔ اس اجلاس میں وزیر اعظم نے تسلیم کیا کہ اس ہدف کے حصول میں مشکلات ہیں، اور اگرچہ آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی معاملہ ہے تاہم وفاقی حکومت تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت اور اشتراک عمل سے یہ ہدف حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔

یہ تو ہوئی اعداد و شمار کی بات، لیکن پاکستان میں ’’معیارِ تعلیم‘‘ کا تذکرہ کیے بغیر بات مکمل نہیں ہوسکتی۔

ہمیں یہ تو بتایا جاتا ہے کہ پاکستان میں شرح خواندگی 58 فیصد ہے لیکن اس خواندگی کا معیار کیا ہے؟ اس کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ جو لوگ مشکل سے اپنا نام لکھ سکتے ہیں،انہیں بھی ’’خواندہ‘‘ تصور کیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان میں حقیقی شرح خواندگی 27 فیصد کے قریب ہے۔

پاکستان میں تعلیم کےلیے مختص کیا جانے والا بجٹ دو طرح کا ہوتا ہے: ایک قسم کا بجٹ نئے تعلیمی منصوبوں پر خرچ ہوتا ہے، جبکہ دوسرا پرانے اور جاری منصوبوں کو چلانے کےلیے استعمال ہوتا ہے۔

پاکستان میں تعلیمی بجٹ کا 70 فیصد حصہ تنخواہوں کی ادائیگی پر صرف ہوجاتا ہے، اور جو باقی بچتا ہے، اس سے نئے منصوبے شروع کیے جاتے ہیں۔ نئے منصوبوں کےلیے مختص، اس 30 فیصد بجٹ کا آدھا حصہ کرپشن کی نذر ہوجاتا ہے۔ پنجاب میں ایک ہی جماعت نے مسلسل دس سال حکومت کی، لیکن اس حکومت نے دکھاوے کے منصوبوں پر زور دیے رکھا۔ اب وہی حکومت چلانے والے ’’دانش اسکولوں‘‘ کو اپنا بہترین پروجیکٹ کہتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دانش اسکولوں میں معیاری تعلیم کے ساتھ بہترین سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں، لیکن اگر دانش اسکول سسٹم کا بھی بہ نظرِ غائر جائزہ لیا جائے تو پتا چلے گا کہ پنجاب میں زیر تعلیم بچوں کی صرف 10 فیصد تعداد ہی ان دانش اسکولوں میں ہے، جبکہ اسی 10 فیصد تعداد پر پنجاب کے تعلیمی بجٹ کا 45 فیصد خرچ کیا جارہا ہے۔ اب آپ خود ہی بتائیے کہ 90 فیصد بچوں کا آدھا بجٹ صرف دس فیصد پر خرچ کرکے شرح خواندگی میں اضافہ کیونکر ممکن ہے؟

شرح خواندگی میں اضافے کےلیے پورے ملک میں یکساں تعلیمی نظام رائج کیا جائے (جیسا کہ حکومت 5 ستمبر کو فیصلے کا اعلان کرچکی ہے)۔ اسی طرح سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ اسکولوں کو دی جانے والی سہولیات میں بھی اضافہ کیا جائے۔ دور دراز سفر کرکے پڑھانے جانے والے اساتذہ کو فاصلے کے مطابق اضافی تنخواہ اور مراعات دی جائیں۔

گلیوں، ورکشاپس اور بس اڈوں پر کام کرنے والے بچوں کو اسکولوں میں لانے کےلیے ایک تو ان کے والدین کی مالی حالت بہتر بنانے پر توجہ دی جائے، جبکہ دوسری جانب ملک میں ایسا قانون منظور کیا جائے کہ جو کوئی اپنے بچوں کو اسکول میں داخل نہ  کروائے، ان پر جرمانہ کیا جائے؛ تب جاکر ملک میں خواندگی کی شرح میں اضافہ ممکن ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے