ہاکی سے وابستہ شخصیات ایک ماہ تک قومی ٹیم کی بھرپور حمایت کرے، طاہر زمان

لاہور۔اولمپئن طاہر زمان نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ہاکی کمیونٹی کو ایک ماہ تک قومی ٹیم کی بھرپور حمایت کرنے کی اپیل کردی۔

قومی ٹیم کے کیمپ کے دورے پر بات کرتے ہوئے ایف آئی ایچ کوالیفائیڈ کوچ اور تجربہ کار اولمپئن نے اعتراف کیا کہ قومی کھیل کے زوال میں مجھ سمیت ہم سب کا کچھ نہ کچھ ضرور کردار رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ ہر ایک کے ٹارگٹ ہوتے ہیں، کسی نہ کسی شکل میں ہر ایک کو کام کرنے کا موقع ملا ہے، ہمیں ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینے کی سوچ کو بدل کر حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔

سابق اولمپئن کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم ورلڈکپ کی تیاری میں مصروف ہے، ہم سب کو تنقید کرنے کے بجائے اب کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرنا چاہیے۔ ایک ماہ تک صبر کرلیں، ورلڈکپ ختم ہونے پر جتنی چاہیں تنقید کریں، فی الحال بھارت جاکر پاکستان کا نام روشن کرنے کی تیاریوں میں مصروف کھلاڑیوں کو موٹی ویٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

طاہر زمان نے کہا کہ دنیا کے جن ممالک نے اسپورٹس میں ترقی کی ہے، وہاں بھی ایشوز ہوتے ہیں لیکن اس طرح منفی چیزوں کو اچھالا نہیں جاتا جو ہم کررہے ہیں، جب سیٹ اپ کا حصہ ہوں تو سب اچھا کہتے ہیں لیکن جب باہر ہوں تو ہر چیز میں کیڑے نکالنا شروع کردیتے ہیں۔ اب عوام بھی سمجھ گئے ہیں کہ ان لوگوں کے کیا مقاصد ہیں۔ ہمیں اب خود کو سمجھنا ہے کہ مثبت سوچ کے ساتھ قومی مفاد کو سب سے پہلے رکھنا چاہیے۔

سابق اولمپئن کا کہنا تھا کہ 1994 کے ورلڈکپ پر جانے سے پہلے بھی ایسا ہی ماحول بن گیا تھا، اس وقت ہمارے ٹیکنوکریٹس اور نام نہاد ماہرین یہ کہہ رہے تھے کہ یہ ٹیم چائے کا کپ نہیں جیت سکتی، ورلڈ کپ کیا جیتے گی۔ ہم نے ان تمام باتوں کا غصہ ورلڈ کپ میں دکھایا اور شاندار پرفارمنس سے ورلڈ کپ جیت کر دکھایا۔ موجودہ کھلاڑیوں کو بھی اسی سوچ کے ساتھ میدان میں کھیلنا چاہیے کہ وہ اپنی شاندار کارکردگی سے سب کو خاموش کراسکتے ہیں۔

طاہر زمان نے کہا کہ پی ایچ ایف کا ٹیم مینجمنٹ میں توقیر ڈار کو لانا اچھا فیصلہ ہے، مجھے یقین ہے کہ وہ کھلاڑیوں کو مورال بلند کرنے میں کامیاب رہیں گے اور تمام تر ایشوز کے باوجود لڑکوں سے اچھی پرفارمنس لینے میں کامیاب ہوں گے۔ مجھے اس ٹیم پر اعتماد ہے کہ یہ ورلڈ کپ میں اچھی حکمت عملی، مثبت سوچ اور مدمقابل ٹیموں کی کمزوریوں کو سامنے رکھ کر جوش اور جذبے سے کھیلے تو یہ ٹیم سر پرائز نتائج دے سکتی ہے۔

ایف آئی ایچ کوالیفائیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ بھارت میں جاکر کھیلنے کا پریشرسب سے زیادہ ہوتا ہے،اسی پریشر کو پازیٹو لے کر میدان میں اتر نا ہوگا اور سوچ کے ساتھ کھیلیں کہ یہاں سے جیت کر پاکستان جاناہے تو اچھے نتائج مل سکتےہیں۔ یہ ٹیم ہماری ہے اگر جیتے گی تو تمام ہاکی فیملی اور سب کی عزت اور نیک نامی میں اضافہ ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے