فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کیس 16 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے نومبر 2017 میں فیض آباد دھرنے کے معاملے پر لیا گیا از خود نوٹس سماعت کے لیے مقرر کردیا۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ 16 نومبر کو کیس کی سماعت کرے گا جب کہ بینچ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی شامل ہیں۔

ازخود نوٹس کی سماعت کے لیے اٹارنی جنرل، سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری دفاع، آئی جی اسلام آباد اور پیمرا کو نوٹسز جاری کردیے گئے جب کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے ٹی ایل پی کی بطور سیاسی جماعت رجسٹریشن کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔

گزشتہ سماعت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے تھے کہ تحریک لبیک کو سیاسی جماعت کے طور پر کس طرح رجسٹرڈ کیا گیا جبکہ یہ پر تشدد واقعات میں ملوث ہے۔

یاد رہے کہ آئینی ترمیم الیکشن بل 2017 میں حلف نامے کے الفاظ کو تبدیل کیے جانے پر تحریک لبیک کی جانب سے فیض آباد کے مقام پر 22 روز تک دھرنا دیا گیا، مظاہرین کے خلاف ایک ناکام آپریشن بھی کیا گیا جس کے بعد ایک معاہدے کے بعد دھرنا اختتام پذیر ہوا۔

مظاہرین کے مطالبے کے بعد اُس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد کو عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔

فیض آباد دھرنے میں اسلام آباد پولیس کا کُل خرچہ 19 کروڑ 55 لاکھ روپے آیا جبکہ میٹرو اسٹیشن کی توڑ پھوڑ اور بندش کے باعث قومی خزانے کو 6 کروڑ 60 لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے