آپ کی جلد اور موسمِ سرما

موسم نے کروٹ بدلی ہے اور سردی کے ساتھ ہی آپ کو اپنی جلد کی فکر ہوگئی ہے۔

یقیناً خشک اور کھردری ہوجانے کے ساتھ اس موسم میں اکثر خواتین جلد پھٹنے کی شکایت بھی کرتی ہیں۔ اس کا سبب ہوا میں نمی کا تناسب کم ہونا ہے، لیکن سرد موسم میں خود پر تھوڑی سی توجہ دیں اور احتیاط کریں تو آپ اپنی جلد کی خوب صورتی اور صحت برقرار رکھ سکتی ہیں۔

سردیوں میں گرم پانی کا استعمال عام بات ہے۔ آپ اپنے کچن میں روزمرہ کے کام انجام دے رہی ہوں یا غسل کرنا ہو، ہر ایسی ضرورت کے لیے گرم پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق زیادہ دیر تک گرم پانی سے نہانا بھی جلد کو خشک کردیتا ہے۔ اس لیے سرد موسم میں ضرورت سے زیادہ گرم پانی جسم پر نہ ڈالیں۔

جلد کی حفاظت کے لیے نہانے سے پہلے پانی میں بے بی آئل یا کوئی اچھا تیل لے کر اس کے چند قطرے پانی میں ڈال لیں۔ اسی طرح سرسوں یا کھوپرے کے تیل سے جسم کی مالش کریں تو آپ کی جلد تروتازہ اور شاداب رہنے کے ساتھ خشک بھی نہیں رہے گی۔

یاد رہے کہ نہانے کے بعد بدن کو اچھی طرح خشک کریں اور باڈی لوشن کا استعمال یقینی بنائیں۔ سوتے وقت جلد پر کولڈ کریم مَلنا بھی خشکی اور کھردراہٹ سے بچا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق چہرے کی صفائی کے لیے بیسن کا لیپ بہترین ثابت ہوتا ہے۔ اس سے چہرہ چکنائی سے پاک اور فریش ہوجاتا ہے۔ بعض خواتین کی جلد قدرتی طور پر خشک ہوتی ہے اور صرف موسم سرما ہی ان کے لیے مسئلہ نہیں بنتا بلکہ عام دنوں میں بھی وہ خشکی اور جلد پھٹنے کی شکایت کرتی ہیں۔ ان کے لیے لوشن اور موسچرائز کلینر کا استعمال فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

سردیوں میں ایک مسئلہ ہاتھوں کی جلد اترنے کا بھی سامنے آتا ہے۔ یہ عام بات ہے۔ تاہم خواتین اس معاملے میں بہت حساس ہوتی ہیں اور ان کو اپنی خوب صورتی اور دل کشی متاثر ہونے کا ڈر رہتا ہے۔ اس کا ایک عام حل یہ ہے کہ گلاب کے عرق میں دو چمچے گلیسرین، ایک بڑے لیموں کا رس ملا کر کسی بوتل میں محفوظ کرلیں۔ رات کو سوتے وقت اس محلول سے مساج کریں اور صبح دھو لیں تو ایسی شکایت نہیں ہو گی۔

سردیوں میں معیاری کولڈ کریم اور موسچرائزر کا استعمال جلد میں ضروری نمی برقرار رکھتا ہے اور یوں آپ موسم کے اثرات سے اپنی جلد کو محفوظ رکھ سکتی ہیں۔ ماہرینِ صحت کے مطابق  سرد موسم میں جلد کو تروتازہ رکھنے کے لیے زیادہ پانی پینا چاہیے جب کہ گرم مشروبات کا استعمال بہت کم کرنا چاہیے۔ یہ جسم سے پانی کے اخراج کا سبب بنتے ہیں اور جلد کی نمی کا توازن بگڑ جاتا ہے جس سے خشکی بڑھ جاتی ہے۔

سردیوں میں مالٹے، سنگترے، گاجر، مولی اور دیگر موسمی پھلوں سے بھی جسم میں پانی کی کمی پوری کی جاسکتی ہے اور پانی پینے سے ہم اپنی جلد کے لیے ضروری نمی حاصل کرسکتے ہیں۔  اس کے علاوہ ماہرینِ صحت و امراض کے نزدیک خشک میوہ جات اپنے اندر تمام ضروری غذائیت رکھتے ہیں، ان میں وٹامن ای، کیلیشیم، فاسفورس، فولاد اور میگنیشیم موجود ہوتا ہے جب کہ زنک، تانبا بھی مناسب مقدار میں پایا جاتا ہے، جو جلد کی خشکی دور کرکے نمی کو برقرار رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ شکر قندی کا ایک جزو بیٹا کروٹین جسم میں جاکر وٹامن اے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

اس وٹامن کی کمی کا نتیجہ اکثر خشک جلد کی شکل میں نکلتا ہے۔ صحت مند جلد کے لیے غذا میں بیٹا کروٹین کی مقدار شامل کرنا ضروری ہے جو کہ شکر قندی سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

زیتون کا تیل حسن و خوب صورتی قائم رکھنے میں زمانۂ قدیم ہی اہمیت رکھتا ہے۔ چہرے اور بدن پر اس کی مالش سے جسم میں توانائی و طاقت آتی ہے جب کہ جلد میں چمک پیدا ہو تی ہے اور یہ اس کو نکھار دیتا ہے، زیتون کے تیل میں وٹامن ای اور اومیگا 3 فیٹی ایسڈ بڑی مقدار میں ہوتے ہیں ، جو جِلد کی خشکی بھی دور کرتا ہے، زیتون کا تیل قدرتی موئسچرائزر کا کام دیتا ہے۔ قدرتی غذاؤں میں کھیرے کا استعمال بھی جلد کے لیے مفید ہے۔ اس میں میگنیشیم، پوٹاشیم اور سیلیکون کی مقدار موجود ہوتی ہے جو انسانی جلد کو صاف اور چمک دار رکھنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے