بچوں کو نفسیاتی امراض سے کیسے بچایا جائے؟

انسان اشرف المخلوقات ہے اور خالقِ کائنات کا بہترین شاہکار ہے، جو شے انسان کو باقی مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے وہ انسان کا دماغ ہے۔ انسانی جسم میں دماغ کی اہمیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ دماغ کے مختلف حصے مختلف افعال سر انجام دیتے ہیں۔

دماغ کا عمل دخل شعوری اعمال سے کہیں زیادہ ہے۔ کچھ لوگوں کو شاید یہ سن کر حیرانی ہو کہ دل کی دھڑکن سے لے کر سوتے ہوئے نظام انہضام اور نیند سب کسی نہ کسی حد تک دماغ کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ دماغ کے خاص خلیے باہمی پیغام رسانی کے لیے کچھ خاص کیمیائی اجزا کا استعمال کرتا ہے جنہیں سائنسی زبان میں نیروٹرانسمٹرز کہتے ہیں۔

انسان کے اندر کیا کیسا محسوس کیا جارہا ہے، یہ سب نیروٹرانسمٹرز فیصلہ کرتے ہیں۔ نفسیاتی امراض کی بڑی وجہ ان نیروٹرانسمٹرز کی کمی بیشی ہوتی ہے۔ بچوں کو نفسیاتی امراض نہیں ہوتیں، یہ ایک عام غلط فہمی ہے۔ بچے نفسیاتی امراض کا شکار جلدی ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ نازک طبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔

پاکستان کے نفسیاتی امراض میں مبتلا افراد کے صحیح اعدادوشمار تو شاید نہیں معلوم تاہم ایک سروے کے مطابق تقریباً 16 فیصد پاکستانی مختلف نفسیاتی امراض کا شکار ہیں جن میں خواتین اور خصوصاً 12 سے 18 سال کی عمر کی بچیوں کی کثیر تعداد ہے۔ نفسیاتی امراض میں مبتلا بچے عموماً تب تک ہسپتال نہیں لائے جاتے جب تک  ان کی حالت زیادہ خراب نہ ہوجائے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ان امراض کی تشخیص اور علاج کے لیے مناسب مقدار میں خصوصی میڈیکل سنٹرز بہت ہی کم ہیں جس کی وجہ سے بہت سے بچے اور بڑے تشخیص اور علاج کی سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صحت کے پہلے سے معمولی حجم والے بجٹ کا صرف 0.4 فیصد حصہ دماغی، ذہنی اور نفسیاتی امراض کے علاج کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ بچوں میں نفسیاتی امراض کی ایک اہم وجہ گھر کا اندرونی ماحول اور والدین کا آپس میں اور بچوں کے ساتھ برتاؤ ہے۔ دوسری اہم جگہ بچے کے سکول کا ماحول ہے۔ والدین کے معاشی حالات، بچوں کے ساتھ گالم گلوچ، مارپیٹ وغیرہ بچوں کی نفسیاتی صحت کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق نفسیاتی امراض میں مبتلا بچوں میں 32 فیصد کا تعلق گھر کے اندرونی ماحول کے ساتھ ہوتا ہے۔

بچوں میں نفسیاتی امراض کی علامات بہت مختلف طریقوں سے ظاہر ہو سکتی ہیں۔ مندرجہ ذیل علامات کی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بچے کا خواہ مخواہ چڑچڑا ہونا، نافرمانی کرنا، طبیعت میں تیزی آ جانا یا بالکل خاموش ہو جانا۔ کلاس میں اور گھر پر کوئی دوست نہ بنانا، کسی بھی کام پر توجہ مرکوز نہ کر سکنا، لڑاکا رجحانات وغیرہ وغیرہ۔

بعض بچوں کا وزن بہت کم یا زیادہ ہو جاتا ہے

نفسیاتی امراض کے بچے اپنے قد کے مقابلے میں ذہنی نشوونما میں اپنی عمر کے بچوں سے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں نفسیاتی امراض کو ایک’’ سماجی داغ‘‘ سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ بالکل غلط بات ہے۔ کسی بھی بیماری کی طرح یہ بھی ایک بیماری ہے اور اس کا علاج ممکن ہے۔ بہت سے لوگ اسے ناقابل علاج سمجھ کر مایوسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اگر کسی بچے میں مندرجہ بالا علامات ہوں تو فوراً بچوں کے قریبی نفسیاتی مرکز میں معا ئنہ کرائیں۔ بچے ملک و قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ موجودہ نظام زندگی بچوں کو بہت تنگی   اور مشکلات سے دوچار کر رہا ہے۔ لہذا کسی بھی قسم کی غیر معمولی تبدیلی کو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

حتی الوسع کوشش کریں کہ بچوں کی باتوں کو غور سے سنیں، یہ باتیں اور سوالات شاید بڑوں کے لیے اہمیت کے حامل نہ ہوں لیکن بچے کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں۔ اس کی باتوں کو توجہ سے سنیں اور انہیں اہمیت دیں۔ بچے کو یقین دلائیں کہ وہ اہم ہے اور اس کے سوالات پر غور کیا جا تا ہے۔

بچوں پر بے جا سختی سے گریز کریں۔سونے کا نوالہ کھلائیں اور شیر کی آنکھ سے دیکھیں، یہ ضرب المثل ہمارے معاشرے کی عمومی سوچ کی عکاس ہے جو شاید مناسب نہیں ہے۔ بچوں کے سکول کے کام میں ان کی مدد کریں اور اس کی مشکلات کو غور سے سنیں۔ بچوں پر سکول میں تشدد بھی بچوں کی ذہنی اور نفسیاتی صحت کو متاثر کرتا ہے۔ بچوں کو نہ نظر آنے والی مافوق الفطرت مخلوق جیسے جنات وغیرہ سے مت ڈرائیں۔ انہیں یقین دلائیں کہ انسان ہی اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی بہترین اور طاقتور مخلوق اور اللہ کا نائب ہے۔

بچوں کے بارے میں کوئی فیصلہ کرتے ہوئے بچوں کی رائے ضرور لیں۔ غلطی کرنے پر پیار سے سمجھائیں۔ کچھ بھی سمجھاتے ہوئے یہ بات ضرور ذہن نشین رکھیں کہ بچے کے دماغ اور آپ کی دماغی حیثیت اوراہلیت میں بہت فرق ہے۔

بچوں کا مذاق مت اڑائیں۔ بچے والدین اور اساتذہ سے بہت متاثر ہوتے ہیں لہذا والدین اور اساتذہ کرام پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اقوال و افعال کو آئیڈیل بنائیں۔عادات و اطوار کی غیرمعمولی تبدیلی محسوس ہونے پرفوراً بچوں کے  معالج اور بچوں کے ماہر نفسیات سے مشورہ کریں۔ نفسیاتی مسائل کو کسی بھی دوسری عام بیماری کی طرح بیماری ہی تصور کریں اور علاج کریں۔ جنات کا سایہ ، بھوت، سایہ وغیرہ سب قابلِ علاج بیماریوں کے غلط اور جاہلانہ نام ہیں۔ کسی بھی بیماری کی صورت میں مستند معالج سے رابطہ کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو ہر طرح کی بیماریوں سے محفوظ رکھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے