جمعرات , 21 مارچ 2019

دورانِ ورزش جسم سے خارج ہونے والا ہارمون الزائیمر سے بچاتا ہے

ریو ڈی جنیریو: دورانِ کسرت جسم ایک ایسا ہارمون خارج کرتا ہے جو کئی دماغی بیماریوں کی جڑ بیماری الزائیمر کو لاحق ہونے سے روکتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ دنیا کوئی غذا یا دوا ورزش کی جگہ نہیں لے سکتی اور اب ماہرین نے ورزش کی ایک اور زبردست اہمیت بیان کردی ہے کہ دورانِ کسرت جسم ایک ایسا ہارمون خارج کرتا ہے جو کئی دماغی بیماریوں کی جڑ بیماری الزائیمر کو لاحق ہونے سے روکتا ہے۔

برازیل میں واقع فیڈرل یونیورسٹی آف ریو ڈی جنیرو سے وابستہ فرنینا ڈی فیلِکا کے مطابق جب جب ہم باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں تو جسم ایک ہارمون ’آئریسن‘ کا افراز کرتا ہے جو پٹھوں کے عضلات سے خارج ہوکر خون میں شامل ہوتا رہتا ہے۔ ورزش کرنے والے مردوخواتین میں یہ ہارمون زیادہ جبکہ ورزش سے جی چرانے والوں میں کم پایا جاتا ہے۔

ماہرین نے اس ہارمون کو چوہوں پر آزمانے کی کوشش کی تو حیرت انگیز انکشافات ہوئے۔ جیسے ہی چوہوں میں آئریسن کی کمی کی گئی ان کی یادداشت متاثر ہوئی اور وہ سیکھنے اور سمجھنے میں بھی مشکلات محسوس کرنے لگے۔ اگلے مرحلےمیں ان کے اندر آئریسن کی مقدار بحال کی گئی تو چوہوں کی منفی کیفیت جاتی رہی۔ اگلے مرحلے میں ورزش کرنے والے چوہوں میں الزائیمر کی  کیفیت پیدا کی گئی مگر آئریسن کے سگنل کو آگے بڑھنے سے روک دیا گیا اور نتیجے میں ان کے دماغ کو ورزش سے ہونے والے فائدے بھی غائب ہوگئے۔

برطانیہ میں الزائیمر کی ماہر ڈاکٹر روزا سانچو نے کہا کہ خصوصاً عمر رسیدہ افراد میں جسمانی مشقت اور ورزش دماغ کو بہتر بناتی ہے اور اس تحقیق سے ورزش کے حیاتیاتی اثرات واضح ہوئے ہیں۔

ماہرین نے کہا ہے کہ باقاعدگی سے ورزش آپ کو مستقبل میں کئی دماغی عارضوں سے بچاسکتی ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ الزائیمر کے مریضوں کو ایسی دوائیں دی جاتی ہیں جو جسم میں آئریسن کی پیداوار اور فراہمی بڑھاتی ہیں۔

اگرچہ یہ تحقیق چوہوں پر کی گئی ہے تاہم انسانوں میں جسمانی ورزش اور دماغی فوائد کے ناقابلِ تردید ثبوت سامنے آچکے ہیں اور اسی بنا پر ماہرین ورزش کا مشورہ دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے