اتوار , 20 جنوری 2019

شریف خاندان کے لئے اچھی خبر

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا معطلی کے خلاف نیب کی اپیل خارج کردی۔

چيف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے ايون فيلڈ ريفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی سزا کالعدم قرار دینے کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی اپيل پر سماعت کی۔

نواز شریف کے وکیل عدالت نے موقف اختیار کیا کہ معاملہ لارجر بینچ کو بھجوایا تھا، معاملے کا جائزہ لینے کے لیے 17 نکات بنائے گئے تھے، چیف جسٹس نے نیب وکیل سے مکالمے کے دوران استفسار کیا کہ ہائی کورٹ نے ضمانت دینے کا اپنا اختیار استعمال کیا، ہو سکتا ہے ہائی کورٹ کا ضمانت دینے کا اصول غلط ہو، وہ کونسے پیرا میٹر ہیں جن پر ضمانت خارج ہو سکتی ہے، اب یہ بتا دیں کس بنیاد پر ضمانت خارج کریں۔ نیب کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سزا معطلی یا ضمانت کی درخواست میں کیس کے میرٹ پر نہیں جایا جاتا، ہائی کورٹ نے نامساعد حالات کے بغیر ضمانت دے دی۔
جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ نیب کا قانون خصوصی قانون ہے، خصوصی حالات میں ضمانت ہو سکتی ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ ضمانت کا حکم عبوری ہے، ہائی کورٹ کا سزا معطلی کا فیصلہ طویل ہے۔ اسے مختصر بھی لکھا جا سکتا تھا، ہائی کورٹ نے اپنی آبزرویشن کو خود عبوری نوعیت کی قرار دیا، کیا نواز شریف کو رہا کر دیا گیا ہے، نیب کا ضمانت سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بدقسمتی سے ملزم پھر جیل میں ہے، جو شخص آزاد نہیں اس کی ضمانت کیوں منسوخ کرانا چاہتے ہیں۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد سپریہم کورٹ نے نوازشریف ،مریم نوازاور کیپٹن (ر)صفدر کی سزا معطلی اور ضمانت کے خلاف نیب کی اپیل خارج کردی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے