ہفتہ , 23 فروری 2019

پاکستان میں ویسٹ نائل وائرس کی موجودگی کا انکشاف

اسلام آباد: پاکستان میں پہلی مرتبہ ویسٹ نائل وائرس (ڈبلیواین وی) کا انکشاف ہوا ہے۔ اس کی موجودگی کے بعد ماہرین نے فوری طور پر اس پر مزید تحقیق اور توجہ کا مشورہ دیا ہے۔ ایک مچھر سے پھیلنے والا یہ وائرس کئی طرح کےدماغی و اعصابی امراض کی وجہ بنتے ہوئے مریض کی جان بھی لے سکتا ہے۔

مچھروں سے پھیلنے والے وائرس سے متاثر ہونے کے بعد 20 فیصد واقعات میں بخار، دردِ سر اور قے آتی ہے تاہم ایک فیصد سے کم واقعات میں دماغ متاثر ہوتا ہے اور مریض ہلاک بھی ہوسکتا ہے۔ ویسٹ نائل وائرس سے دماغی سوزش (اینسیفلائٹس)، دماغی بافتوں کی سوجن اور گردن توڑ بخار بھی ہوسکتا ہے۔

یہ تحقیق گزشتہ ماہ انٹرنیشنل جرنل آف انفیکشئس ڈیزیز میں شائع ہوئی ہے۔ صوبہ پنجاب میں 2016 سے 2018 تک خون کا عطیہ دینے والے 1,070 افراد کے خون کے نمونوں کی آزمائش کی گئی۔ لیکن نب ڈاکٹروں نے 2016 سے 2017 تک 4500 مچھروں کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ ویسٹ نائل وائرس ایک مختلف انداز سے زیرِ گردش ہے۔
اس پر تحقیق کرنے والے سینیئر ماہر محمد ثاقب فیصل آباد یونیورسٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مصنف ہونے کی بنا پر انہوں نے بتایا کہ بنیادی طور پر یہ وائرس مچھروں کے کاٹنے سےپھیلتا ہے لیکن پاسکتان میں یہ خون کی منتقلی سے پھیل رہا ہے جو ایک بہت سنجیدہ مظہر ہے۔

ڈاکٹر محمد ثاقب اور اس پر تحقیق کرنے والے چینی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستانی عوام اس وائرس کی زد میں ہیں اور فوری طورپر نگرانی، اسکریننگ اور رپورٹنگ و علاج کی سہولیات فراہم نہ کرنے سے معاملہ مزید گھمبیر ہوسکتا ہے۔

1990 کے بعد سے اب تک ویسٹ نائل وائرس کے ایسی وبائیں تیزی سے پھوٹی ہیں جو دماغی امراض کی وجہ بنیں اور اس طرح عوام کے لیے خطرہ ثابت ہوتی رہی ہیں۔ تاہم جینیاتی تجزیوں سے اس کی کئی اقسام یا لینیج سامنے آئی ہیں۔ ان میں خاص طور پر 1999 میں نیویارک میں سامنے آنے والی لینیج ون مشہور ہے جو دماغی امراض کی وجہ بن سکتی ہے۔

اسی لحاظ سے پاکستان میں پایا جانے والا وائرس بھی ڈبلیو این وی کی لینیج ون سے تعلق رکھتا ہے۔ وائرس کی یہ قسم بھارت، روس، آسٹریلیا اور دیگر مقامات پر وبا کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ اس ضمن میں آغا خان یونیورسٹی میں خردحیاتیات کی ماہر اِرم خان نے بتایا کہ پاکستان میں مچھروں سے فروغ پانے والے امراض کی شدت، کیفیت اور پھیلاؤ کو اب تک سمجھا ہی نہیں گیا ۔ اس کی وجہ نگرانی اور رپورٹنگ کے باقاعدہ نظام کا نہ ہونا بھی ہے۔

ارم خان نے بتایا کہ اس ضمن میں ان کا ادارہ یونیورسٹی آف فلوریڈا میں نئے جراثیم اور وبائیات کے مرکز سے رابطے میں ہے اور پورے ملک میں ویسٹ نائل وائرس کی نشاندہی، رپورٹنگ اور نگرانی کا ایک باقاعدہ نظام بنایا جارہا ہے۔ اگلے مرحلے میں ان کی روشنی میں حکومت کو سفارشات بھی بھیجی جائیں گی۔

یہ رپورٹ سائنس فار ڈویلپمنٹ نیٹ ورک میں شائع ہوئی ہے جس کے مصنف سلیم شیخ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے