جمعرات , 21 مارچ 2019

1600 ایکڑ زمین کی خرید و فروخت کی دستاویزات پیش کرنے کا حکم

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے 1600 ایکڑ زمین سے متعلق درخواست گزار کو زمین کی خریدو فروخت کی دستاویزات عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں جسٹس عمر سیال پر دو رکنی بینچ کے روبرو 1600 ایکڑ زمین کی جعل سازی سے متعلق ولید سعد خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت ہوئی، درخواست گزار کے وکیل خواجہ نوید نے موقف اختیار کیا کہ نیب نے سپر ہائی وے کی زمینوں کے معاملے پر کال اپ نوٹس جاری کیا ہے، اندیشہ ہے گرفتار کرلیا جائے گا ضمانت منظور کی جائے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ زمین کہاں اور کتنی ہے، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ 1600 ایکڑ زمین سپر ہائی وے پر واقع ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ آپ کتنی زمین بتارہے ہیں، اندازہ ہے آپ کو؟ کیا اس زمین کا تعلق بھی بحریہ ٹاؤن سے ہے؟
عدالت نے خواجہ نوید ایڈووکیٹ سے مکالمے میں کہا کہ یہ کیس بحریہ ٹاؤن سے بھی بڑا لگتا ہے، درخواست گزار کہاں ہے، کیا کرتا ہے، اس کے پاس اتنی زمین کیسے آئی؟ کمرہ عدالت میں موجود درخواست گزار ولید سعد خان نے بتایا کہ یہ زمین نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کی زمین کے بدلے میں ملی ہے، عدالت نے استفسار کیا نارتھ ناظم آباد ٹاؤن میں زمین کیسے حاصل کی تھی۔

درخواست گزار نے بتایا کہ 1962 میں دادا نے خاسطی گوٹھ میں زمین خریدی تھی، عدالت نے ریمارکس دیے خاسطی گوٹھ تو اب بھی موجود ہے کیا اس زمین کا بحریہ ٹاؤن سے بھی کوئی تعلق ہے۔

درخواست گزار نے بتایا کہ نہیں اس زمین کا بحریہ ٹاؤن سے کوئی تعلق نہیں، عدالت نے ہدایت کی کہ ہمیں پہلے زمین کی خریدوفروخت کی دستاویزات عدالت میں پیش کی جائے عدالت نے مزید سماعت 9 مارچ کے لیے ملتوی کردی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے