ہفتہ , 21 ستمبر 2019

تیونس کے وزیر اعظم نے سیکیورٹی کے پیشِ نظرسرکاری دفاتر میں نقاب پہننے پر پابندی عائد کردی

تیونس کے وزیر اعظم يوسف الشاہد نے سیکیورٹی کے پیشِ نظرسرکاری دفاتر میں نقاب پہننے پر پابندی عائد کردی۔پابندی کے احکامات ملک کے دارالحکومت تیونس میں ایک ہفتے میں ہونے والے تین خودکش دھماکوں کے بعد جاری کیے گئے۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس پابندی کے عارضی ہونے کی یقین دہانی کرائیں۔
تیونس پر طویل عرضے تک حکمرانی کرنے والے زین العابدین بن علی نے بھی سرکاری عمارتوں میں حجاب پر پابندی لگائی تھی تاہم سنہ 2011 میں ان کی حکومت گرنے کے بعد اس پابندی کو ختم کر دیا گیا تھا۔جمعہ کووزیراعظم کےدفتر سے جاری کیے گئےاعلامیے کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنیادپرانتظامیہ اوراداروں (کے دفاتر) میں چہراڈھانپنے پر پابندی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم کے کارکن جمیل مُصلم نے بتایا کہ ہم اپنی مرضی کے کپڑے پہننے کے حق کے ساتھ ہیں لیکن آج کی صورتحال اور تیونس اور خطے میں پھیلے دہشتگردی کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اس فیصلے کے جواز ملتے ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیکیورٹی حالات نارمل ہوتے ہی اس پابندی کو ختم کر دیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے