ہفتہ , 21 ستمبر 2019

اصل چور

اصل چور
تحریر: محمدامان اللہ
برکینا فاسو افریقہ کا ایک چھوٹا سا ملک ہے، کل رقبہ صرف 2 لاکھ 74 ہزار 200 مربع کلومیٹر ہے، اس کے مقابل پاکستان کا رقبہ 8 لاکھ 81 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ برکینا فاسو کا پرانا نام جمہوریہ اپر وولٹا تھا، یہ فرانس کے قبضے میں تھا مگر پھر 1960 میں اس ملک کو آزادی کی نعمت مل گئی، آزادی حاصل کر لینے کے بعد اس کا نام جمہوریہ اپر وولٹا سے بدل کر برکینا فاسو رکھ دیا گیا، برکینا فاسو کا مطلب ہے ایماندار لوگوں کی سرزمین۔ برکینا فاسو پر فوجی بغاوت کے سائے بھی رہے، یہ ایک عرصہ تک عسکری طاقت کے زیر سایہ رہا مگر پھر دنیا کے اس چھوٹے سے ملک میں دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ عبوری حکومت کے خلاف 2015 میں بغاوت کی کوشش کی منصوبہ بندی کرنے اور غداری کے الزام میں 2 فوجی جرنیلوں کو 20 اور 10 سال قید کی سزا سنا دی گئی ۔ جنرل گلبرٹ ڈینڈیئر کو قتل اور ریاستی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزام میں 20 سال قید اور جنرل ڈیجبریل باسل کو غداری کے الزام میں 10 سال قید بھگتنا ہو گی۔
یہ برکینا فاسو جیسے چھوٹے سے ملک کا بڑا اقدام ہے، اس کے مقابلے میں اسلامی "جمہوریہ” پاکستان کی تاریخ ہے، اس اسلامی جمہوریہ کہلانے والے ملک میں 21 وزرائے اعظم نے کل 16 ہزار 218 دن اور عسکری قوتوں نے 12 ہزار 116 دن حکومت کی۔ پھر کہا جاتا ہے سیاستدانوں نے اس ملک کیلئے کیا ہی کیا ہے؟ یہ چور ہیں، یہ ڈاکو ہیں، یہ بدعنوان ہیں، یہ غدار ہیں، یہ بے ایمان ہیں اور یہ نااہل ہیں۔ مورخ کل بھی لکھ رہا تھا اور مورخ آج بھی لکھ رہا ہے اس ملک کو جتنا نقصان مارشل لائوں اور مارشل لازدہ جمہوریت نے پہنچایا ہے کسی اور نے نہیں۔مثلاً جنرل ایوب کے دور کو ترقی کا دور کہا جاتا ہے لیکن کوئی یہ نہیں بتانے یا ماننے کو تیار نہیں پاکستان کے دریا کس نے بیچے تھے، اسی جنرل ایوب خان نے۔ تاریخ جنرل یحیی جیسے اوباش جرنیل کے کارناموں پر بھی خاموش نہیں، تاریخ بول رہی ہے ملک کو دولخت بھی کسی سیاستدان نے نہیں انہی محب الوطن جرنیلوں نے کیا، ازلی دشمن کے سامنے ہتھیار بھی بھٹو صاحب نے نہیں پھینکے تھے، جنرل نیازی کا یہ کارنامہ تھا اور وہ جنرل نیازی جس نے 90 ہزار فوجی بھارتی بنیے کے حوالے کر دئیے ان کو واپس نکال لانا والا ایک سیاستدان بھٹو ہی تھا مگر تاریخ کا جبر ملاحظہ ہو کہ وہ بھٹو تو پھانسی گھاٹ چڑھ گیا مگر ملک کے دو حصے کرنے والے جنرل نیازی کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا۔ بعد ازاں جنرل ضیاء الحق سے جنرل مشرف تک کیا کیا گل نہیں کھلائے گئے، جمہوری حکومتوں کو کس بے دردی سے کچلا گیا اور منتخب وزرائے اعظموں کو کبھی کرپشن، کبھی بدعنوانی اور کبھی چور کہہ کر نہ صرف بدنام کیا گیا بلکہ انہیں ملک بدر تک کر دیا گیا۔ "مرد مومن ” کے اسلام نے چار دہائیوں تک اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجائے رکھی تو مشرف کی روشن خیالی نے اسلام کے چہرے کو مسخ کر کے امریکن سے ڈالر وصول کئے۔ فوجی اڈے کسی سیاستدان نے امریکا کے حوالے نہیں کئے تھے، نیٹوافواج کو افغانستان میں سپلائی کیلئے روٹ کی اجازت کسی سیاستدان نے نہیں دی تھی، ڈرون حملوں سے اپنے ملک اور اپنے ہی شہریوں کا بھرکس بھی کسی سیاستدان کے دور میں نہیں نکالا گیا، قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی بھی جمہوری دور میں غیروں نے گرفتار نہیں کی، یہ سب عسکری سایوں کے نیچے ہوا۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے اس ملک کا بیڑا مارشل لائوں نے غرق کیا ہے۔ گزشتہ دو برسوں سے قوم چور چور اور ڈاکو ڈاکو کی ایک گردان سن رہی ہے، کیا یہ واقعی سچائی ہے، کیا صرف سیاستدان ہی چور اور ڈاکو ہیں، چلیں دو منٹ کیلئے مان لیجئے سیاستدان ہی چور اور ڈاکو ہیں تو پھر اس ملک کی مہنگی ترین زمینوں پر قبضہ کس کا ہے، ایک مثال ہی کافی ہو گی، طاہر القادری کے پہلے دھرنے کے بعد حکومت نے زیروپوائنٹ اور فیض آباد کے درمیان ایک خالی جگہ کو ڈیموکریسی گرائونڈ کیلئے مختص کیا، میرے خیال سے چودھری نثار علی خان نے جلسہ جلوس اور لانگ مارچ کو ریڈ زون تک آنے سے روکنے کیلئے اس گرائونڈ کا اہتمام کیا کہ لانگ مارچز اور دھرنوں اور جلوسوں سے ڈپلومیٹنک انکلیو متاثر ہوتا ہے جس سے پورے ملک کا امیج خراب ہوتا ہے۔ یہ ڈیموکریسی گرائونڈ عوام اور سیاسی پارٹیوں کیلئے احتجاج کی جگہ تھی لیکن آج یہ جمہوری گرائونڈ عسکری پریڈ گرائونڈ کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔ ملک بھر میں جتنی بڑی ہائوسنگ سوسائٹیز ہیں ان پر عسکریت کا دست شفقت ہے، مثلاً بحریہ ٹائون کو گھوم پھر کر دیکھ لیں، ڈی ایچ اے کو دیکھ لیں۔ بڑے بڑے پلازوں کے پیچھے جرنیلی طاقت دکھائی دے گی، بڑے بڑے پٹرول پمپس کے پیچھے بریگیڈ کھڑی ہو گی اور عسکری بینکوں سے لے کر فوجی سیمنٹ تک کس کس پر ہاتھ صاف نہیں ہو رہے مگر مجال ہے کوئی سوال بھی کر سکے، کوئی انگلی بھی اٹھا سکے۔ پرویز مشرف پر سنگین غداری کا مقدمہ چل رہا ہے، گیارہ برس ہو چلے کسی مائی کے لعل میں جرات ہے جو مشرف کو کٹہرے میں لا کھڑا کر سکے، کہاں گیا وہ کامران کیانی، کہاں گئی جنرل اسد درانی کی کتاب، کہاں گئے غداری کے فتوے اور کیا ہوا اس کیس کا۔ یہی اسد درانی اصغر خان کیس میں ملزم تھے، جنرل اسلم بیگ کا نام بھی اسی مقدمے میں درج تھا، کیا بنا، کیا نتیجہ نکلا؟ جناب والا یہ شجر ممنوع ہے جسے کوئی چھو بھی نہیں سکتا۔
سوال یہ ہے جمہوریت، سیاست اور سیاستدانوں کو آخر کب تک گندا کرتے رہو گے۔ اس ملک کا ایک آئین ہے اور آئین نے تمام اداروں کی حدود کا تعین کر دیا ہے، ملک کا چیف ایگزیکٹو وزیراعظم ہے تو اسے اختیارات بھی آئین نے تجویز کئے، آرمی چیف کی آئین میں اوقات ڈیفنس سیکرٹری کو جوابدہی ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ جب کوئی بھی سیاستدان غلطیوں سے سیکھ کر عقل کی آنکھ کھولتا ہے تو وہ یا تو پھانسی گھاٹ چڑھ جاتا ہے یا پھر جیلوں میں سڑتا ہے۔ نوازشریف کا جرم کیا ہے، پانامہ میں 480 لوگوں کے نام شامل تھے، باقیوں کا احتساب کب اور کون کرے گا؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ مدعا صرف یہ تھا کہ نوازشریف کو راہوں سے ہٹانا تھا، وہ سویلین بالادستی کی بات کرتا تھا، وہ آئین کے مطابق اختیارات مانگتا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے