منگل , 22 اکتوبر 2019

نیب آج کے بعد ٹیکس کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا، چئیرمین نیب

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ تاجروں کے تحفظات بلاجواز ہیں، بلا جواز تنقید کا جواب دینا ضروری ہے۔جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ آرمی چیف اور وزیراعظم کے سامنے رکھے گئے تحفظات پر بات کرنا چاہوں گا، نیب ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گا جس سے بزنس کمیونٹی کا مورال نیچا ہو، ہر ایک کی عزت نفس کا خیال ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا نیب کی خواہش نہیں کہ سعودی عرب جیسے اختیارات دئیے جائیں
۔چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نیب مادرپدر آزاد نہیں، نیب کے امیج کو بہتر بنانے کی دیانتداری سے کوشش کی، نیب وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات کررہا ہے، ملکی پالیسیاں بنانے میں نیب کا کوئی کردار نہیں البتہ بیروزگاری کا خاتمہ صرف حکومت کا کام نہیں ہے۔ تاہم کوئی شخص یا ادارہ عقل قل نہیں، ادارے ہوں یا انسان خامیاں سب میں ہوتی ہیں۔چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ پاکستان آزاد ملک ہے آئین اور قانون کی حکمرانی ہے، کسی بھی ملک کے زوال میں بدعنوانی اہم کردار ادا کرتا ہے، قائداعظم نے کہا تھا بدعنوانی اور اقرباپروری پاکستان کے دوبڑے مسئلے ہیں جب کہ معیشت ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے، نجی سیکٹر کردار ادا کرے تو ملکی معیشت بہتر ہوسکتی ہے، معیشت مضبوط ہونے تک ملک اور اس کا دفاع مضبوط نہیں ہوسکتا۔چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نیب آج کے بعد ٹیکس کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا، ٹیکس سے متعلق تمام ریفرنس واپس لینے کا فیصلہ کرلیا ہے، بزنس مین کو نیب کی جانب سے نوٹس بھیجا جائے گا، بینک ڈیفالٹ کے معاملات نیب نہیں دیکھے گا، متعلقہ بنک کی جانب سے درخواست کے بغیر نیب بینک ڈیفالٹ کیسز نہیں لے گا، کوئی نیب افسر کسی بھی بزنس مین کو ٹیلی فون کال نہیں کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے