اتوار , 17 نومبر 2019

باجوہ سٹیٹ

باجوہ سٹیٹ
محمد امان اللہ
maniptv@gmail.com

نام ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان، بظاہر ملک میں ایک منتخب اور جمہوری حکومت کا قیام بھی ہے، پارلیمان میں متحرک ہے، پچاس کے قریب وزراء بھی ہیں، ایوان بالا بھی ہے جس میں سب جماعتوں کی نمائندگی بھی ہے، قائمہ کمیٹیاں بھی ہیں، ان کے سربراہان بھی ہیں اور کراچی سے کشمیر تک انتظامیہ بھی حکومت کے ماتحت ہے لیکن عملا یہ جمہوری ملک باجوہ سٹیٹ کا روپ دھار چکا ہے۔
روبہ زوال معیشت کس کے ہاتھ میں ہے، بے حال تاجر بھی جانتے ہیں معاملہ کا حل منتخب وزیراعظم کے پاس نہیں آرمی چیف کے پاس ہے، عوام کی دہائیاں بھی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں منتخب حکومت کے ہاتھ میں کچھ نہیں، معیشت کے اشاریے اوپر نیچے ہونے کی وجہ کیا ہے، جب اکانومی جیسا مغز مار قسم کا شعبہ سرحدین محافظین کے ہاتھوں میں آئے گا تو نتیجہ وہی ہو گا جو بندر کے ہاتھ میں استرا دینے سے ہوتا ہے۔ داخلی معاملات کلی طور پر بڑی سرکار کے ہاتھ میں ہے کیونکہ ملک کا وزیر داخلہ وہ شخص ہے جس کی ایک تاریخی عسکری حیثیت ہے، وزیر قانون کس کا چہیتا ہے، مشیر قانون کس کا عزیز ہے، وزیراطلاعات کس کی پرچی ہیں، سٹیٹ بینک کا گورنر کس کے کہنے پر پاکستان آیا، مشیر خزانہ کو لانے والا کون ہے، بلوچستان میں اچانک اپنا "باپ” کس نے بنایا، جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کی تشکیل کس نے کی، چیئرمین سینٹ کس کی مرضی سے آیا، دوبارہ کی ووٹنگ میں نون لیگ اور پیپلزپارٹی سے ہاتھ کیسے ہوا، کون نہیں جانتا۔ سب جانتے ہیں، سب دیکھتے ہیں اور سب سمجھتے ہیں مگر بولے کون؟ کہ لب کھلنے سے پہلے احتساب کی چلتی چکی کے دوپاٹوں میں سر دھنسا دیا جائے گا، پندرہ پندرہ کلو ہیروئن کے جعلی کیسز بنا کر اندر کر دیا جائے گا، جرات اظہار پر ناکردہ گناہوں کا کفارا دینا پڑے گا، غداری کے فتوے لگا دئیے جائیں گے، ختم نبوت جیسے حساس موضوع کو چھیڑ کر آپ کو توہین رسالت کا مرتکب ٹھہرا دیا جائے گا یا پھر 436 پانامہ مجرموں میں سے ایک میاں کو تاحیات نااہل کروا کر باقیوں کو بخشیش دے دی جائے گی۔ نام نہاد اس جمہوریت میں میڈیا پر مسلسل دبائو ہے، جو عسکری اداروں کے خلاف بات کرے وہ دوبارہ چینل پر نہیں بیٹھ سکتا، بیٹھ بھی جائے تو چینلز اسے نشر نہیں کر سکتے، میڈیا کو کنٹرول کرنے والا ادارہ پیمرا ربڑ سٹمپ کا کردار ادا کر رہا ہے، اس جرم کی پاداش میں پہلے مریم نواز کو میڈیا سے بلیک لسٹ کیا گیا، پھر میڈیا میں حق بات کرنے والوں کا گلہ گھونٹا گیا، طلعت حسین، مطیع اللہ جان اور نصرت جاوید جیسے بڑے اور نامور صحافیوں کو ٹی وی سکرین سے غائب کروا دیا گیا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اب مولانا فضل الرحمان حکومت کے خلاف میدان عمل میں اترنے والے ہیں لیکن ان کی لائیو پریس کانفرنس پر پابندی ہے، جے یو آئی ایف کے مفتی کفایت اللہ کو جرات مندانہ اظہار پر میڈیا سے بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے اور دو جے یو آئی کارکنان کا بینرز لگانا اتنا سنگین جرم بن گیا ہے کہ ان پر نہ صرف مقدمہ درج ہوا بلکہ ان کو گرفتار بھی کر لیاگیا ہے۔ اطلاعات یہ ہیں تیس اکتوبر تک ملک کے درجنوں شہروں کو جوڑنے والی جی ٹی روڈ اور موٹروے تیس اکتوبر کو بند کر دی جائے گی، وہ کنٹینرز جو ڈی چوک میں حکومت نے مولانا کو تحفہ پیش کرنا تھے وہ اب اٹک کے پل پر پہنچ چکے ہیں اور مولانا کو نظر بند کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ سوال صرف یہ ہے اگر یہ جمہوری حکومت ہے تو پھر اس میں آزادی اظہار پر قدغن کیوں؟ اس میں سیاسی تحریک پر پابندی کیوں؟ اس میں سوال اٹھانے پر مقدمات کیوں؟ سچ تو یہ ہے کہ یہ جمہوریت نہیں، ملک میں عملاً مارشل لاء نافذ ہے اور جمہوری اسٹیٹ اس وقت باجوہ سٹیٹ بن چکی ہے۔ خدا خیر کرے، حالات ایسے خدشات کا پتہ دے ہیں کہ کہیں 29 نومبر سے پہلے پہلے اس عملاً مارشل لاء کا باضابطہ اعلان ہی نہ ہو جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے