اتوار , 17 نومبر 2019

حرام دھرنا

حرام دھرنا
Muhammad Amanullah
Maniptv@gmail.com

مجھے بتایا گیا ہے کہ تمام سٹاف بشمول پروڈیوسر، کیمرہ مین اور انجینئر 14 اگست سے اگلے احکامات ملنے تک چھٹی نہیں کر سکتے کیونکہ آزادی مارچ کا اعلان ہو چُکا تھا اور ہم نشریات کو براہ راست عوام تک پہچانا تھا۔ یہ سوموار 11 اگست کی شام تھی اور میں نے آزادی مارچ کے متعلق اپنی نشریات اور اس سے جُڑی تمام تر تکینکی ضروریات کو بخوبی سرانجام دینا تھا۔ راولپنڈی سے اسلام آباد کی جانب آنے والی تما م سڑکوں کو بڑے بڑے کنٹینر رکھ کر بند کرنے کی تیاری جاری تھی اور نظر یہ آرہا تھا کہ کسی بڑی جنگ کی تیاری اپنے آخری مراحل میں پہنچ گئی ہے۔ پولیس نے اسلام آباد اور راولپنڈی کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔ اور ہر طرح کی گاڑیوں کی آمدمحدود ہوتی جا رہی تھی۔ روزانہ کی بنیاد پر سرکاری دفاتر اور کاربار کے لیے اسلام آباد آنے والے لوگوں اور سکول جانے ولے بچوں کے والدین میںتشویش بھڑتی جا رہی تھی کہ خدا جانے کیا ہونے جا رہا ہے۔
میں نے ایڈمنسٹر یشن سے درخواست کر کے اپنے آفس کے نزدیک آبپارہ کے ایک ہوٹل میں کچھ کمرے اپنے سٹاف کے لیے مختص کروا لئے تاکہ راستے بند ہونے کی صورت میں سٹاف کو وہاں قیام کروایا جا سکے کیونکہ آزادی مارچ کے اختتام کے بارے کوئی آگاہ نہیں تھا ما سوائے” ہمارے پڑوسی ادارے کے“پی ٹی آئی کے سیاسی ورکرز کی گرفتاریاںعروج پر تھی لیکن ورکز پر عزم تھے کہ اسلام آباد کو فتح کرنا ہے۔
آخر وہ دن آن پہنچا جب دو تہائی اکثریت لینے والی نواز شریف کی حکومت کو اسکے معتقداور پرانے حریف چاروںشانے چت کروانے کیلئے پوری طرح صف آرا ہو گئے اور عوام کا جمع غفیر اسلام آباد کو اپنے باپ کی جائیداد سمجھ کر کچلنے کے لیے آگیا ۔مجھے یاد ہے کہ وہ شام کا وقت تھا جب لے پالک انوکھا لاڈلا اپنے سیاسی والدین کی پشت پناہی لیتے اور ان سے آشیر باد وصول کرتے ہوئے اسلام آباد پر چڑھ دوڑا۔ یاد رہے کہ 2013 کے الیکشن کے بعد میاں نواز شریف کی حکومت وجود میں آئی اور پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان نے نتائج کو تسلیم نہ کرتے ہوئے دھاندلی کا الزام عائد کیا اور حکومت کی چار حلقے کھولنے یا اسکے ووٹوں کو دوبارہ گننے کا راگ آلاپتے ہوئے آزادی کی تحریک کاا علان کیا حکومت کی سرتوڑ کوشش کے باوجود مذاکرات ناکام رہے اور عمران خان نے حکومت اور نواز شریف کو استعفا دینے کا مطالبہ کر دیا۔ حقیقت میں اس مطالبے کو عسکری حلقوں کی پشت پناہی حاصل تھی اور پی ٹی آئی / عمران خان محض ایک چہرے کا کردار ادا کر رہے تھے ۔ یہ وہی جماعت اور وہی عمران خان تھے جنہوں نے سول نا فرمانی کی تحریک کا اعلان بھی کیا اور نا حق سرکاری و نجی املاک کو اربوں کا نقصان ہوا ، اسٹاک مارکیٹ کو اربوں روپے کا خسارہ ہوا اور چین کے صدر کا دورہ بھی منسوخ ہوا۔ معصوم عوام کو مارا پیٹا گیا۔ پولیس پر تشدد ہوا اور یمبولینسز میں کئی جانیں ضائع ہوئی۔126 دن تک سکول، کالج ، کاروبار اور نظام زندگی معطل رہی۔
پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے کپڑے دھوئے گئے اور سرکاری دفاتر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ سرکاری ٹی وی کی نشریات کو بند کروادیا گیا اور اس کھیل میں پاکستان کا ایک معتبر ادارہ شاباش شاباش کرواتا رہا۔ نواز شریف اور اسکے اتحادی دھرنے کو غیر آئینی قرار دیتے رہے لیکن ایک شُتر بے مہار اپنے ناخداﺅں کی دلی تسکین کے لیے انتہائی قدم اٹھانے سے گریز نہیں کر رہا تھا اور اس کے پیچھے وہی لوگ تھے جنہوں نے 2013 میں مینار پاکستان کا جلسہ کروا کے پیغام دیا تھا کہ اگر ہمارے آگے سر تسلیم خم نہ کیا تو ہم تم کو نشانہ عبرت بنا کر چھوڑینگے۔
دن گزرتے گئے اور پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے حوصلے پست ہوتے گئے اور ایک مقام پہ عوامی تحریک کے سربراہ نے چھپی طاقتوں کے کہنے پر پی ٹی آئی سے اپنے راستے جدا کر لیے اور اب عمران خان تھے اور سامنے خالی کرسیاں اور چند سیکورٹی کے ادارے ۔ اب جھاگ بیٹھ رہی تھی اور اس دھرنے سے جان چھڑانے کے بہانے دھونڈے جا رہے تھے۔ بدقسمتی دیکھیں آرمی پبلک اسکول میں 250 بچوں کی قربانی کروا کے ہمیں دھرنے کے انتشار سے نجات پانے کا بہانہ ملا۔
مقافات عمل کے ٹھیک پانچ سال بعد ایک بظاہر منتخب حکومت کو وہی کچھ دیکھنا اور سننا پڑھ رہا ہے جو اس وقت کی منتخب حکومت نے سنا ، عمران خان کو منتخب کروانے والوں کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ جو بیجا جاتا ہے وہی انسا ن کاٹتا ہے خیر جن ادارں نے افغان رو س جنگ سے طالبان کو پیدا کرتے ہوئے نہیں سوچا وہ نواز شریف کو دیوار کے ساتھ لگاتے ہوئے یہ بھول گئے کہ ایک دن ا پنے کئے کا بدلہ چُکانا پڑے گا۔
وہ دن آن پہنچا جب عمران خان کے دھرنے کوحلال بنانے والے مولانا فضل الرحمن اور اس کے اتحادیوں کے دھرنے کو حرام گردانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانے پر تیار ہیں۔ اور اس آئینی احتجاج کو کچلنے کیلئے ہر طرح کے حربے آزما رہے ہیں۔ نادانوں کو حکومت کی ایک سال کی کارکردگی بھی ضرور نظر آرہی ہوگی۔ سیاسی ، معاشی اور سفارتی سطح پر پی ٹی آئی کی حکومت مکمل طور پر ناکام نظر آرہی ہے اور تبدیلی کا بھانڈہ بیچ سڑک پھوٹنے کے قریب ہے کیونکہ ایک سال میں غر یب عوام دو وقت کی روٹی کو ترستے جا رہے ہیںجس کی ذمہ دار حکومت وقت ہے ۔ جسکو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ مہرہ بننے اور انتقام کی سیاست کی بجائے عوام کا معیار زندگی بہتر کرتے تو آج عوام دھرنے کی سیاست کو دفن کرنے D-Choke پہنچ چکے ہوتے۔
پاکستان کے مقتدرا دارے اور بالخصوص عسکری قیادت کو اپنے آپ کو عملی سیاست سے کنارہ کرنا ہو گا اور اپنا کردار صرف اور صرف آئینی پاکستان کے تابع کرنا ہو گا۔ ورنہ وہ وقت دور نہیں جب مشرقی پاکستان جیسا کوئی سانحہ جنم لیتے دیر نہیں لگے گی۔ حاکم وقت کو پورے پاکستان کو بنیادی انسانی حقوق ، روزگار، تعلیم ا ور صحت کے متوازی مواقع دینا ہونگے تاکہ عوام ہی اپنے حقیقی نمائندوں کی حقیقی طاقت بنیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے