اتوار , 17 نومبر 2019

یہ وطن تمھارا ہے

یہ وطن تمھارا ہے
Muhammad Amanullah
Maniptv@gmail.com

پاک فوج دنیا کی نمبر ون آرمی ہے!!
تفصیلات پڑھ کے نعرہ لگائیں
پاک فوج ذندہ باد ، پاکستان پائندہ باد

پاکستانی فوج دنیا کی واحد فوج ہے جس کی ملکی معیشت کے اندر اپنی الگ معاشی سلطنت قائم ہے اور ملک کی کم و بیش %60 معیشت میں حصہ دار ہے
اس سلطنت کے 4 حصے ہیں:
‏01۔ آرمی ویلفئیر ٹرسٹ
02۔ فوجی فاؤنڈیشن
03۔ شاہین فاؤنڈیشن
04۔ بحریہ فاؤنڈیشن

فوج ان 4 ناموں سے کاروبار کررہی ہے
یہ سارا کاروبار وزارت دفاع کے ماتحت کیا جاتا ہے
اس کاروبار کو مزید 3حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے

نیشنل لاجسٹک سیل NLC ٹرانسپورٹ
یہ ملک کی سب سے بڑی ٹرانسپورٹ کمپنی ہے
‏جس کا 1698سے زائد گاڑیوں کا کارواں ہے
اس میں کل 7279 افراد کام کرتے ہیں
جس میں سے 2549حاضر سروس فوجی ہیں اور باقی ریٹائرڈ فوجی ہیں

فرنٹیئر ورکس آرگنائیزیشن (FWO):
ملک کا سب سےبڑا ٹھیکیدار ادارہ ہے
اور اس وقت حکومت کے سارے اہم Constructional Tenders جیسے روڈ وغیرہ ان کے حوالے ہیں۔
‏اس کےساتھ ساتھ کئی شاہراہوں پر ٹول ٹیکس لینے کیلئے بھی اس ادارے کو رکھا گیا ہے

ایس سی او SCO:
اس ادارے کو پاکستان کے جموں کشمیر، فاٹا اور Northern Areas میں کمیونیکیشن کا کام سونپا گیاہے

مشرف سرکار نے ریٹائرمنٹ کےبعد (4-5)ہزار افسروں کو مختلف اداروں میں اہم عہدوں پر فائز کیا ہے۔
‏اس وقت ملک میں 56ہزار سول عہدوں پر فوجی افسر متعین ہیں
جن میں 1600کارپوریشنز میں ہیں

پاکستان رینجرز بھی اسی طرح کاروبار میں بڑھ کر حصہ لےرہی ہے
جس میں سمندری علاقےکی 1800کلومیٹر لمبی سندھ بلوچستان کےساحل پر موجود جھیلوں پر رسائی ہے
اس وقت سندھ کی 20جھیلوں پر رینجرز کی عملداری ہے۔
‏اس ادارے کے پاس فلور ملز، پیٹرول پمپس اور اہم ہوٹلز بھی ہیں۔ یادش بخیر پچھلی حکومت میں سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے زمین پر قبضے کے کیس میں رینجرز کو عدالت میں بلا کر لتاڑا تھا کہ آپ کا کام پیٹرول پمپ چلانا یا فلورملز چلانا ہے یا بارڈرز کے حفاظت کرنا؟ اس واقعے کے ایک ہفتے بعد جج صاحب کے صاحبزادے اغوا ہوگئے۔تین ماہ تک جج صاحب روتے کرلاتے اور در در ٹھوکریں کھاتے رہے کچھ معتمدین درمیان ڈالے گئے مذاکرات کامیاب ہوئے بچہ اغوا کنندگان سے بازیاب ہوا اور اگلے دن جج صاحب اپنے عہدے سے استعفٰی دے گئے۔ اغوا کنندگان کا نام کبھی منظرعام پر نہ آ سکا۔ لیکن میڈیا نے باقی کا واقعہ باقاعدہ رپورٹ کیا ہوا ہے۔
بہرحال، واپس آتے ہیں بزنس ایمپائر کی طرف۔۔
اس ضمن میں اہم بات یہ ہےکہ FWO کو شاہراہوں پر بل بورڈ لگانے کے بھی پیسے وصول کرنے کا حق حاصل ہے۔

15فروری 2005 میں سینیٹ میں رپورٹ پیش کی گئی تھی
جس کے مطابق فوج کے کئی ادارے اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ بھی نہیں ہیں
اور ان کی یہ سرمایہ کاری ‏کسی بھی صورت میں عالمی سرمایہ کاری سے الگ بھی نہیں ہے۔

مندرجہ ذیل لسٹ سے باآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہےکہ افواج پاکستان کیسے اس سرمایہ کاری میں مصروف ہیں

آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کے پروجکٹس:

01۔ آرمی ویلفیئر نظام پور سیمنٹ پروجیکٹ
02۔ آرمی ويلفيئر فارماسيوٹيکل
03۔ عسکری سيمينٹ لمٹيڈ
‏05۔ عسکری جنرل انشورنس کمپنی لمیٹڈ
06۔ عسکری ليزنگ لميٹڈ
07۔ عسکری لبريکنٹس لميٹڈ
08۔ آرمی شوگرملز بدين
09۔ آرمی ويلفيئرشو پروجيکٹ
10۔ آرمی ويلفيئر وولن ملز لاہور
11۔ آرمی ويلفيئر ہوزری پروجيکٹ
12۔ آرمی ويلفیئر رائس لاہور
13۔ آرمی اسٹينڈفارم پروبائباد
14۔ آرمی اسٹينڈفارم بائل گنج
‏15۔آرمی فارم رکبائکنتھ
16۔آرمی فارم کھوسکی بدين
17۔رئيل اسٹيٹ لاہور
18۔رئيل اسٹيٹ راولپنڈی
19۔رئيل اسٹيٹ کراچی
20۔رئيل اسٹيٹ پشاور
21۔آرمی ويلفيرٹرسٹ پلازه راولپنڈی
22۔الغازی ٹريول
23۔سروسزٹريولزراولپنڈی
24۔ ليزن آفس کراچی
25۔ليزن آفس لاہور
26۔آرمی ويلفيرٹرسٹ کمرشل مارکیٹ پروجيکٹ
‏27۔ عسکری انفارميشن سروس

فوجی فاونڈيشن کے پروجيکٹس:

1۔فوجی شوگرملز ٹنڈومحمدخان
2۔فوجی شوگرملز بدين
3۔فوجی شوگرملز سانگلہ
4۔فوجی شوگرملز کين اينڈيس فارم
5۔فوجی سيريلز
6۔ فوجی کارن فليکس
7۔ فوجی پولی پروپائلين پروڈکٹس
8۔ فاونڈيشن گیس کمپنی
9۔ فوجی فرٹیلائيزر کمپنی صادق آباد ڈہرکی
‏10۔فوجی فرٹیلائيزر انسٹیٹیوٹ
11۔نيشنل آئڈنٹٹی کارڈ پروجيکٹ
12۔فاونڈيشن ميڈيک کالج
13۔فوجی کبيروالا پاورکمپنی
14۔فوجی گارڈن فرٹیلائيزر گھگھر پھاٹک کراچی
15۔فوجی سکيورٹی کمپنی لميٹڈ

شاہين فاونڈيشن کے پروجيکٹس:

1۔شاہين انٹرنيشنل
2۔شاہين کارگو
3۔شاہين ائیرپورٹ سروسز
4۔شاہين ائیرویز
‏5۔شاہين کمپليکس
6۔شاہينPTV
7۔شاہين انفارميشن اور ٹيکنالوجی سسٹم

بحريہ فاونڈيشن کے پروجيکٹس:

1۔بحريہ يونيورسٹی
2۔فلاحی ٹريڈنگ ايجنسی
3۔بحريہ ٹريول ايجنسی
4۔بحريہ کنسٹرکشن
5۔بحريہ پينٹس
6۔بحريہ ڈيپ سی فشنگ
7۔بحريہ کمپليکس
8۔بحريہ ہاؤسنگ
9۔بحريہ ڈريجنگ
10-بحریہ بیکری
11-بحریہ شپنگ
‏12۔بحريہ کوسٹل سروس
13۔بحريہ کيٹرنگ اينڈ ڈيکوريشن سروس
14۔بحريہ فارمنگ
15۔بحريہ ہولڈنگ
16۔بحريہ شپ بريکنگ
17۔بحريه هاربر سروسز
18۔بحريہ ڈائيونگ اينڈ سالويج انٹرنيشنل
19۔بحريہ فاونڈيشن کالج بہاولپور

ملک کےتمام بڑےشہروں میں موجود
کنٹونمنٹ ایریاز
ڈیفینس ہاؤسنگ
عسکری ہاؤسنگ پراجیکٹس
‏اور زرعی اراضی اسکےعلاوہ ہیں

کسی کوحقیقت معلوم نہیں کہ فوج کےتحت چلنےوالے کاروباری ادارےخسارےکرپشن اور بدانتظامی میں سٹیل مل اور PIA سمیت کسی ادارے سے پیچھےنہیں

اِن کا خسارہ کم دکھانے کا طریقہ اندرون ملک اور بیرون ملک سےلئےہوئے قرضوں کو ایکوئیٹی دکھا کر بیلینس شیٹ بہتر دکھانےکا ہے
‏لیکن اسکےباوجود یہ آج کی تاریخ میں بھی خسارےمیں ہیں

یہ ایک ٹرینڈ ہےجو پچھلے30سال میں بار بار رپیٹ ہوتاہے
اور ہر آڈٹ سےپہلےگورنمنٹ سےبیل آؤٹ پیکج نہ لیاجائے یا اندرونی و بیرونی قرضےنہ ہوں تو خسارہ ہر سال اربوں تک پہنچاکرے
لیکِن ہرگورنمنٹ خود انکو بیل آؤٹ پیکج دینےپر مجبور پاتی ہے۔
‏اور جو حکومت بیل آوٹ پیکج دینے میں تامل کرے تو وہ حکومت گرنے کے اسباب ایسے پیدا ہوتے ہیں
جیسے بارش سے پہلے بادل آتے ہیں۔

سول حکومتوں کو دفاعی بجٹ کے بعد آرمی کے کاروباروں کو ملینز آف ڈالرز کے بیل آؤٹ پیکج بھی دینے پڑتے ہیں۔
ریٹائرڈ فوجیوں کی پنشنز بھی سول بجٹ سے ادا کی جاتی ہیں۔
اسکے علاوہ ملک بھر میں کہیں بھی کوئی آپریشن کرنا تو جیسے دہشتگردی کے خلاف آپریشن راہ نجات،ضرب عضب وغیری وغیرہ تو اسکی مد میں دو سے تین سو ارب روپے الگ سے لئیے جاتے ہیں۔
امدادی کاروائیاں کرنی پڑیں جیسا کہ سیلاب زدگان یا زلزلہ زدگان کو ریسکیو کرنا ہو تو اسکا بِل سویلئین حکومتیں الگ سے ادا کرتی ہیں۔
‏پھر بیرونی قرضے اور ان کا سود وغیرہ ادا کرکے حکومت کےپاس GDP کا کم وبیش %40 بچتا ہے

پھر خسارہ پورا کرنے، ملک چلانے اور اگلےسال کے اخراجات کیلئے نیا قرض لیاجاتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے