جمعہ , 6 دسمبر 2019

یہ وطن تمہارا ہے!! تحریر:محمد امان اللہ

آئیے ایک بار پھر سیاست دانوں کو ملکی حالات اور یہاں ہونے والی لوٹ مارکا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ اس لوٹ مار کا ذمہ دار، جو جس نے بھی کی ہے لیکن نقصان ملک کا ہوا ہے۔ ان مراعات کا ذمہ دار جن کے بل ایوان سے منظور کروائے جاتے ہیں، ان فنڈز کی بھرمار کا ذمہ دار جن کی منظوری میں رکاوٹ بننے والے ملک دشمن عناصر کی حکومتیں گرا دی جاتی ہیں۔ اس بات پر ہر پاکستانی کو یقین ہے کہ ملک لوٹنے میں سیاست دان ملوث ہیں لیکن اس بات کا بھی ہر مورخ کو یقین ہے کہ اس ملک پر زیادہ عرصہ حکمرانی کرنے والے سیاست دان نہیں تھے۔ یہ وطن ان کا ہے جو یہاں کے بے تاج بادشاہ سمجھے جاتے ہیں۔ حب الوطنی کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنے تمام تر مسائل کا ذمہ دار انہی سیاست دانوں کو قرار دیں جو عمر کے کسی نہ کسی حصہ میں جیل میں پھینکے گئے، جن کے بچوں نے اپنے والدین کے شرم ناک کارٹون ٹی وی سکرینز پر مزاح کے نام پر برداشت کئے۔ جن کے خاندانوں نے سڑکوں پر کتا کتا کے نعرے سنے، جن کو کبھی غداری کے مقدمے میں قید کیا گیا تو کبھی بھینس چوری کا مقدمہ درج کیا گیا۔ یہ وطن ان کا ہرگز نہیں تھا، ان کا ہوتا تو وہ یوں ذلیل نہ کئے جاتے۔ یہ وطن ان مہاجروں کا بھی نہیں جو پہلے 1947 میں پوری ایک نسل ذیبحہ کروا کر پاکستان پہنچے اور پھر 1971 میں دوسری نسل کٹوا کر اس نئے پاکستان آئے۔ یہ وطن تو تمہارا ہے، تم کہ جس کے پاس ملک کی بہترین ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں، تم جس کو 15 سال بعد یاد آ گیا کہ پرفضا مقام پر قائم مہنگا ریسٹورنٹ تمہارا ہے۔ تم کہ جس کے لئے ٹول پلازوں پر کوئی ٹیکس نہیں، تم کہ جس کو سب سے زیادہ سہولیات ملتی ہیں، تم کہ جس نے بزنس میں قدم رکھا تو کامیاب کہلائے، تم کہ جس کے شادی ہالوں، شاپنگ پلازوں اور فارم ہائسز کی دھوم ہے، تم کہ جس کی حب الوطنی کے سامنے سارے ملک کی حب الوطنی ہیچ ہے، تم کہ جس نے جو چاہا اسے ہم نے دل و جان سے درست قرار دیا، تم کہ جسے امریکی جنگ کو جہاد کا رنگ دینے کا ہنر آتا ہے، تم کہ جو ایک جملہ میں ماضی کے اقدامات کو غلطی قرار دے کر بری الذمہ ہو سکتے ہو، تم کہ جس کے سامنے صدر پاکستان ہاتھ باندھ کر بیٹھتا ہے، تم کہ جواپنے سوا کسی کو جوابدہ نہیں ہو، تم کہ جس پر ملک دو ٹکرے کرنے کا الزام نہیں لگایا جا سکتا، تم کہ جس نے اپنے ہی 90 ہزار ساتھیوں کو دشمن سے رہائی دلوانے والے سیاست دان کو اس گستاخی پرپھانسی دے دی تھی۔ تم کہ جو کسی معاملے میں دخل اندازی نہیں کرتے لیکن پھر بھی کوئی فیصلہ تمہاری منشا کے خلاف نہیں ہوتا۔ تم کہ جسے پہلے سے ہی یقین ہو جاتا ہے کہ کونسا سیاست دان حکومت کے لئے ٹھیک نہیں ہے، تم کہ جو سیاست میں دخل نہیں دیتے لیکن حکومت گرانے کے لئے بنائے گئے سیاسی اتحاد کو نوٹوں سے بھرے بریف کیس ضرور دیتے ہو۔ تم کہ جس کا کہا ہو مستند مانا جاتا ہے، تم کہ جس کے گھر کبھی فاقہ نہیں ہوتا، تم کہ جس کو غربت کا مطلب نہیں معلوم، تم کہ جس کے ہر فیصلہ پر درست ہے کہ مہر نہ لگانا غدری کہلاتی ہے۔ تم کہ جو ملکی مفادات کے نام پر حکومتیں بناتے اور گراتے رہے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ اس کا ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ یہ وطن تمہارا ہے کیونکہ اس وطن میں تمہارے علاوہ کسی کو تمہاری مرضی کے بنا سانس لینے کی اجازت نہیں ہے۔ تم کہ جو اتنے خوش قسمت ہو کہ کسی کو کچھ نہیں کہتے لیکن تمہارے خلاف لکھنے والا کسی نہ کسی سانحے کا شکار ہو جاتا ہے۔ تم کہ جوا س قدر باخبر ہے کہ پہلے سے پتا ہوتا ہے اینکر کسی ٹرک کے نیچے بھی آ سکتا ہے۔ تم کہ جس کے بجٹ پر ٹیکس دینے والا سوال نہیں کر سکتا، تم کہ جو اپنے ہی سپریم کمانڈر یعنی صدر کو جوابدہ ہونے کے باوجود جوابدہ نہیں ہوتے۔ تم کہ جس کے نزدیک یہ آئین کاغذ کے ایک پلندے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ تم کہ جس کے پاس ہر دور میں ایسے جیتنے والے پریشر گروپ موجود رہتے ہیں جو ایوان کا نقشہ بدل دیں، تم کہ جس کی برکت سے کم سیٹیوں والے بھی سینٹ میں زیادہ ووٹ لے کر چیئرمین بن جاتا ہے۔ تم کہ جسے ہم یقین دلاتے ہیں کہ نہ تمہاری حب الوطنی پر ہمیں کوئی شک ہے اور نہ ہی بادشاہت پر۔ تم سیاہ کرو یا سفید ہم تمہارے ساتھ ہیں کیونکہ یہ وطن تمہارا ہے۔بس اتنی سی درخواست ہے کہ تین دہائیاں اس قوم کی حفاظت کر کے ریٹائرمنٹ کے بعد اچانک بیرون ملک منتقل نہ ہو جایا کرو، خدارا اپنے بچوں کو بھی اسی ملک میں میرے بچوں کے ساتھ تعلیم دلایا کرو، دل دکھتا ہے کہ وہ ملک جس کو تم نے اسلام کا قلعہ بنا دیا ہے وہی ملک تمہارے لئے غیر محفوظ کیسے ہو سکتا ہے۔ تم یہیں رہا کرو کیونکہ یہ وطن تمہارا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے