ہفتہ , 18 جنوری 2020

جنید حفیظ کو انصاف دو!! تحریر:محمد امان اللہ

جنید حفیظ کو انصاف دو
تحریر: محمد امان اللہ

‏یہ بدنصیب انسان جنید حفیظ ہے جو بہاءالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان میں لیکچرر تھا۔ انتہائی ذہین اور تعلیمی کوالیفیکیشن نہایت شاندار۔ تقریبًا ساڑھے پانچ سال قبل اس بدقسمت نے یونیورسٹی میں ایک سیمینار کروایا جس کے بعد چند طلباء نے اس پر گستاخئِ رسول ﷺ کا الزام لگایا اور گرفتار ہو گیا۔

‏جنید کا تعلق راجن پور سے ہے اور ایف ایس سی میں امتیازی پوزیشن حاصل کرنے کے بعد اسے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور میں داخلہ مل گیا، لیکن اسے انگلش لٹریچر سے دلچسپی تھی لہٰذا اس نے میڈیکل کے فرسٹ پروفیشنل کے بعد کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج چھوڑ کر بہاءالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان میں ‏انگلش لٹریچر میں داخلہ لے لیا اور بی اے آنرز میں 38 سالہ ریکارڈ توڑتے ہوئے 3.99 GPA سکور کیا۔ جنید پاکستان بھر کے ان 5 طلباء میں شامل تھا جنکو شاندار کارکردگی کی بنیاد پر prestigious فل برایئٹ سکالرشپ پر امریکہ میں ماسٹرز کی ڈگری کیلیۓ منتخب کیا گیا۔
جنید نے امریکہ کی ‏جیکسن سٹیٹ یونیورسٹی سے امریکی لٹریچر، فوٹوگرافی اور تھیٹر میں ماسٹرز ڈگری امتیازی نمبروں سے حاصل کی اور اپنا ایم فِل کرنے پاکستان واپس آ گیا، گویا اس نے لاعلمی میں بدقسمتی کی جانب سفر اختیار کر لیا۔ پاکستان پہنچ کر اسے بہاءالدین ذکریا یونیورسٹی میں لیکچررمنتخب کر لیا گیا۔

یونیورسٹی میں بحیثیت مجموعی کنزرویٹیو ماحول تھا تاھم انگلش ڈیپارٹمینٹ کی سربراہ شیریں زبیر کی بدولت ڈیپارٹمینٹ کا ماحول خاصا ریلیکسڈ اور پرسکون تھا۔ جنید عمومًا خواتین کے حقوق کے activists کو لیکچر کیلیۓ بلا کر سیمینار کرواتا تھا تاکہ انکا طلباء کے ساتھ interaction بھی ہو سکے۔

‏پھر وہ دن آن پہنچا جس دن بدقسمتی نے جنید حفیظ کے در پر دستک دی۔ جنید نے وائس چانسلر سے اجازت لے کر ایک سیمینار کروایا جسمیں معروف ویمن ایکٹیوسٹ قیصرہ شاھراز کو مدعو کیا۔ قیصرہ PTV کیلیۓ ایک ایوارڈ یافتہ سیریل بعنوان "دل ہی تو ہے” بھی لکھ چکی تھیں۔ قیصرہ کے لیکچر کے اختتام پر ‏چند طلباء نے قیصرہ اور جنید پر چندگستاخانہ کلمات کی ادایئگی کا الزام لگایا۔ ان الزامات پر جنید حفیظ کو فوری گرفتار کر لیا گیا جبکہ ڈیپارٹمینٹ کی سربراہ شیریں زبیر اورقیصرہ شاھراز کی قسمت اچھی نکلی اور وہ فوری طور پر بیرون پاکستان منتقل ہو گیئں
ابتدائی سماعت میں استغاثہ نے ایک گواہ پیش کیا، ‏اس گواہ نے سیمینار کے حوالہ سے تو کچھ نہیں کہا البتہ جنید کی بعض تحریروں میں گستاخانہ مواد کا الزام لگایا۔ ان تحریروں میں ردوبدل کیا گیا تھا کیونکہ جنید نے چند کلمات کی خود سے منسوب ہونے کی سختی سے تردید کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب گواہ سے کہا گیا کہ وہ تحریریں پڑھ کر سناۓ تو ‏اور گستاخانہ مواد کی نشاندہی کرے تو گواہ نے اعتراف کیا کہ تحریریں چونکہ انگریزی میں ہیں اور وہ انگریزی نہ تو پڑھ سکتا ہے اور نہ سمجھ سکتا ہے ۔ بہرحال پولیس نے جنید کو لاہور سے گرفتار کیا اور ملتان لے آئے اور پھر اسے ساہیوال جیل منتقل کر دیا گیا۔ اسکا کمپیوٹر ضبط کر لیا گیا اور اس سے
‏بغیر کسی عدالتی حکم کے، زبردستی اس کا پاس ورڈ اگلوایا گیا اور اسکے خلاف پہلے ذکرکردہ doctored دستاویزات کی روشنی میں پینل کوڈ کی دفعہ 295 سی کے تحت بلاسفیمی کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ یہ مارچ 2013 کا احوال ہے۔

انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس اور معروف وکلاء کی رائے میں
‏جنید کے خلاف پیش کردہ مواد کی روشنی میں بلاسفیمی کا مقدمہ بنتا ہی نہیں۔ بہرحال اصل بدقسمتی کا آغاز جنید کی گرفتاری کے بعد ہوا ۔ جنید کو ساہیوال جیل میں گزشتہ قریب ساڑھے پانچ سال سے رکھا گیا ہے۔ اسے بستر وغیرہ کی کوئی سہولت نہیں اور سنگلاخ فرش پر سوتا ہے۔ گرمیوں میں شدید گرمی اور
‏سردیوں میں سخت سردی کا سامنا کرتا ہے ۔سب سے اذیت ناک بات یہ ہے کہ اس کے کیس میں تاریخوں پر تاریخیں پڑتی جا رہی ہیں اور بحث کی نوبت نہیں آتی۔ اسکی فیملی اور والدہ بیٹے کی گرفتاری سے تاحال گھر سے باھر نہیں نکل سکتیں، کسی شادی بیاہ یا تقریب میں نہیں جا سکتیں جبکہ اس کے ‏ضعیف والد ہر ہفتتے 200 میل کا سفر کر کے بیٹے سے ملنے جاتے ہیں جن سے جیل سٹاف نہایت بدتمیزی سے پیش آتا ہے اور کبھی انہیں بیٹے سے ملنے دیا جاتا ہے اور کبھی بنا ملے واپس بھیج دیا جاتا ہے۔بوڑھا آدمی کہتا ہے اب میں تھکتا جا رہا ہوں لیکن کیا کروں بیٹے کو بے یارو مددگار تو نہیں چھوڑ سکتا-

‏جیل میں جنید کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ اب وکلاء کی صورتحال بھی دیکھ لیں۔ جنید کا مقدمہ کوئی وکیل لیتا ہی نہ تھا اور اس کے والد نے بڑی تگ و دو کر کے ایک وکیل مدثر کو اسکے کیس کی پیروی کیلئے آمادہ کیا لیکن پہلے ہی دن تقریبًا 200 وکلاء نے اسکا محاصرہ کر لیا اور اسے ‏ڈرا دھمکا کر کیس کی پیروی سے دستبردار کروا دیا۔ ایسی زیادتی دیکھ کر ہیومن رایئٹس کمیشن کے سربراہ آئی اے رحمان نے کہہ سن کر کمیشن کے ملتان کے آرگنایئزر راشد رحمان کو جنید کی پیروی کیلئے آمادہ کیا۔

راشد نہایت کامپیٹینٹ وکیل تھے، انہوں نے کیس کا مکمل مطالعہ کیا، ‏یونیورسٹی کیمپس جا کر چھان بین کی اور کیس مکمل سمجھ لیا۔راشد وہی وکیل تھے جنہوں نے ملتان میں سینیٹرشیری رحمان کے خلاف درج بلاسفیمی کیس کی پیروی کر کے انکی گلوخلاصی کروائی تھی جس پر دوسرے وکلاء نے انہیں مارا پیٹا بھی تھا لیکن بہادر آدمی تھا، تمام خدشات کے باوجود جنید کا کیس پکڑ لیا،
‏راشد کی پہلی پیشی پر ہی وکیل استغاثہ نے چند دوسرے وکلاء کے ہمراہ جج کے سامنے عدالت میں راشد کو دھمکی دی کہ کیس کی پیروی چھوڑ دو، ورنہ اگلی پیشی پر حاضر نہ ہو پاؤ گے، واقعی وہ اگلی پیشی پر نہ آ سکے،چند دن بعد7مئی 2014 کو راشدکو نامعلوم افراد نےدفتر میں گھس کر گولی مار کرراہئ عدم کر دیا-

‏انتہا تو یہ ہے کہ دھمکیوں کے پیش نظر HRCP نے پنجاب حکومت سے تحریرًا راشد رحمان کی حفاظت کی استدعا کی تھی لیکن خادم اعلٰی سمیت کسی نے توجہ نہ دی۔ راشد کے انتقال کے بعد مسلسل دربدر ھونے کے بعد لاھور کے ایک بہادر وکیل نے ستمبر 2014 میں کیس لے لیا، تاہم اسکی استدعا ہے کہ ‏اول تو اسکا نام میڈیا میں نہ لیا جائے، دوئم کیس کی سماعت لاہور میں ہو۔ اب کیس مسلسل رواں ہے، تاریخوں پر تاریخیں پڑتی رہتی ہیں لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوتی اور جنید آنکھوں میں اس دن کے خواب بسائے
منتظر ہے جب اسکے کیس میں بحث ہو گی اور وہ اپنی بے گناھی ثابت کرے گا۔

ایک تصحیح کر دوں:
‏جنید اس وقت سینٹرل جیل ملتان کے ھائی سیکیوریٹی وارڈ نمبر 2 میں مقید ہے۔اسکا نام آج بھی جیکسن سٹیٹ یونیورسٹی Mississippy امریکہ کے honor بورڈ پر ہے اور وہ خود ملتان جیل کے فرش پر بیٹھا رہتا ہے۔ ہے کوئی اللہ کا بندہ جو اسکی مدد کو آ سکے؟۔۔ اگر وہ مجرم ثابت ہوتا ہے تو اسے سزا دیں لیکن
‏لیکن اللہ کے بندو، جنید حفیظ کے کیس میں بحث تو مکمل کرو، قانونی تقاضے تو پورے کرو، اسے امید و مایوسی کے بیچ لٹکا کر تو نہ رکھو۔

میری جناب چیف جسٹس پاکستان، جناب وزیراعظم پاکستان اور جناب آرمی چیف سے مؤدبانہ درخواست ہے اس سلسلے میں ایک بدقسمت انسان کی مدد کو آیئں، اللہ جزا دے گا۔

‏ریکارڈ کی درستگی کی ضمن میں یہ ذکر کر دوں کہ جنید کے خلاف بہاء الدین ذکریا یونیورسٹی میں ابتeدائی محاذ بنانے والے اسلامی جمیت طلباء کے طالب علم تھے اور بعد میں انکے ساتھ تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے طلباء بھی مل گئے۔ انہی لوگوں نے جنید حفیظ پر بلاسفیمی کا الزام لگایا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے