جمعہ , 29 مئی 2020

چیف جسٹس صاحب .. جنید حفیظ کو انصاف دیں

تحریر: محمد امان اللہ
maniptv@gmail.com 

چیف جسٹس صاحب .. جنید حفیظ کو انصاف دیں-


جنید حفیظ کو عدالت نے سزائے موت سنا دی ہے۔ عدالت کا حکم سر آنکھوں پرہے کیونکہ ہم جیسے بے بس شہری اگر عدالت کے حکم پر اعتراض کریں تو توہین عدالت لگ جاتی ہے۔ یہ جرات صرف ایک ہی ادارے کے ترجمان میں ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کے خلاف پریس کانفرنس کرے اور دھمکی آمیز لہجے میں بات کرے تو بھی عدالت خاموش رہتی ہے۔میں عدالت کا احترام کرتا ہوں لیکن اس کے باوجود جنید حفیظ کا فیصلہ سن کر ذہن میں کئی سوال جنم لے رہے ہیں۔ ذہن میں اٹھنے والے یہ سوال نہ توہین عدلت سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی انہیں کسی وحشی ہجوم کے ہاتھوں مارے جانے کا خوف لاحق ہوتا ہے۔ سچا سوال ذہن کے بند دریچوں پر دستک دیتا رہتا ہے۔سوال اٹھانے والوں پر البتہ اس ریاست خداداد میں باقی سب دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔ شاید جنید کے ذہن میں بھی ایسے ہی سوال تھے جو اس کی وحشت میں اضافہ کرتے تھے۔ ہر وہ شخص جو اپنے علم میں اضافہ کرنا چاہتا ہے اس کے ذہن میں اٹھنے والے سوال جواب نہ ملنے پر اس کی وحشت میں اضافہ کرتے ہیں اور وہ ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔  جنید حفیظ کی سزائے موت سے کسی کو فرق نہ پڑتا اگر یہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر دی جاتی۔ اگر میرے ملک میں انصاف برابری کا قائل ہوتا تو پھر جنید حفیظ کے مجرم ثابت ہونے پر نہ تو اس کے ساتھ ہمدردی ہوتی اور نہ ہی اس کی سزا پر کوئی سوال اٹھتا۔ بدقسمتی سے جنید حفیظ پر جس طرح توہین مذہب عائد کی گئی یہ بذات خود مذہب کی توہین ہے۔ کیا اسلام انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے ملزم کو اپنے دفاع کا پورا حق نہیں دیتا؟ کیا آقا دو جہان ﷺ نے انصاف کی اہمیت کو اجاگر نہیں کیا تھا۔ کیا اسلام میں جھوٹے الزام کی کوئی سزا مقرر نہیں ہے؟ 

ہم اسی تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں۔ مذہب کا آغاز انکار سے ہوتا ہے۔ انسان پہلے سب کا انکار کرتا ہے اور پھر کسی ایک کا اقرار کرتا ہے۔ یہ اقرار اس کے مذہب کی بنیاد بنتا ہے۔ اسلام کا پہلا کلمہ بھی انکار سے شروع ہوتا ہے، یعنی نہیں ہے کوئی معبود، اس کے بعد اقرار کی جانب قدم بڑھتا ہے کہ سوائے اللہ کے۔ جب عرب میں اسلام آیا تو بھی صحابہ نے پہلے انکار کیا ان تمام بتوں کی خدائی سے، جن کو وہ پہلے مانتے تھے اور پھر  اس کے بعد ایک رب کا اقرار کیا۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ سب کو تسلیم کرتے ہوئے ایک رب کو بھی مان لیا جاتا۔ اس کے باوجود موجودہ مسلمان سب سے پہلے ملحد کے قتل کا فتوی دیتے ہیں جبکہ خود ایسے بت تراش رکھے ہیں جن کے لئے مذہب کا معیار بدل دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب اسلام پھیلا کیا تب مکہ مدینہ میں کفار اور یہود نہیں تھے؟یقینا ان میں سے کئی لوگوں کے ذہن میں سوال جنم لیتے ہوں  گے، کئی لوگوں کے سوال گستاخانہ ہوں گے لیکن اس وقت یہ نہیں کہا گیا کہ جو سوال کرے اس کی گردن اڑا دو، جس کے ذہن میں شکوک ہوں اسے جان سے مار دو، اس کے برعکس ان سوالات کے جواب دیئے گئے، ان شکوک کو دور کیا گیا اور پھر لوگوں کی اکثریت ایمان لے آئی۔  یہ ممکن ہے کہ جنید حفیظ کے ذہن میں سوال جنم لیتے ہوں، ممکن ہے اس کا مطالعہ کم ہو، ممکن ہے اس کو درست طور پر آگاہ ہی نہ کیا گیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ آگہی کے در ہم پر بند کئے گئے ہوں اور تجسس کے شکار جنید کا علم ہم سے زیادہ ہو۔ اس پر الزام اسلام پسندوں نے لگایا، وہ اسلام پسند جنہوں نے حقیقت کھلنے کے خوف سے اس کے وکیل کو قتل کر دیا، وہ اسلام پسند جنہوں نے کسی کو اس کا کیس لڑنے نہ دیا، وہ اسلام پسند جنہوں نے عدالتوں پر دباؤ ڈالا، وہ اسلام پسند جن کے نزدیک ان کا فرمایا ہوا رب کے حکم سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، وہ اسلام پسند جو جنید پر الزام لگا کر رات گئے تک فحش فلموں سے محظوظ ہوتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ جس ملزم کا وکیل قتل کر دیا جائے، جس ملزم کے خلاف عدالت میں دھمکیاں دی جائیں، جس ملزم کو اپنی صفائی میں کچھ کہنے کی اجازت نہ دی جائے وہ ملزم نہیں مظلوم ہوتا ہے۔ 

جنید کو پھانسی پر لٹکا دیں لیکن اپنی اسلام پسندی کے گریبان میں جھانک کر وہ دلیلیں بھی دیکھیں جو ختم النبین نہ کہہ پانے پر وزیر اعظم پاکستان کے حق میں دی گئی تھیں۔ اپنے مذہب پرستی کا ثبوت اپنے ضمیر سے مانگیں جو وزیر اعظم کے گستاخانہ جملوں پر خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ کیا وہ توہین مذہب نہیں تھی جو وزیر اعظم کی زبان کے مسلسل پھسلنے سے ہوتی ہے۔ اس پر کوئی عدالت سوموٹو کیوں نہیں لیتی؟ اس پر مذہب فروش  ملا کیوں نہیں اٹھ پاتے، اس پر طلبا تنظیموں کی زبان بند کیوں ہوتی ہے؟اسلام تو برابری کا قائل ہے، وزیر اعظم نے تو دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگایا تھا،۔ پھر اسی پاکستان میں طاقتور اور دانشور کے لئے توہین مذہب کا قانون الگ الگ کیوں ہے؟ جنید حفیظ کو پھانسی لگائیں لیکن کیا اسی جرم میں وزیر اعظم عمران خان کو بھی پھانسی دی جائے گی؟ کیا کبھی  اسی قانون کے تحت ان لوگوں کو پھانسی دی گئی جنہوں نے محض اپنے مخالفین کو سزا دینے کے لئے ان پر جھوٹا الزام لگایا؟ جب تک پاکستان میں توہین مذہب کا الزام لگنے کے بعد فیصلہ عدالت سے پہلے ہوتا رہے گا تب تک یہ قانون بذات خود مذہب کی توہین ہو گا۔ جب تک ملزم کو اپنی صفائی میں بات نہیں کرنے دی جائے گی، جب تک ملزم کے وکیل کو قتل کیا جاتا رہے گا، جب تک عدالت میں الزام لگانے والوں کو ہار پہنائے جاتے رہیں گے تب تک اس قانون کا استعمال ذاتی دشمنی میں ہوتا رہے گا۔ جنید حفیظ وہ پہلا شخص نہیں جس کا فیئر ٹرائل نہیں ہو سکا۔ وہ پہلا شخص نہیں جس کے لئے کوئی وکیل نہیں ملتا، وہ پہلا شخص نہیں جس کے کیس میں کسی نے نہیں سوچا کہ کہیں یہ یونیورسٹی کی ڈیپارٹمنٹل سیاست تو نہیں؟ کیا اتنا ہی آسان ہے کہ کوئی الزام لگائے اور دوسرا جان سے مار دے۔ تقریبا پانچ سال سے جنید ایک ایسے جرم کی سزا کاٹ رہا ہے جس کا وہ انکار کرتا ہے کہ اس نے توہین نہیں کی لیکن باقی سب چاہتے ہیں کہ بزور طاقت اس سے منوایا جائے کہ وہ توہین کا مرتکب ہے۔ پہلے اسلام پسند تبلیغ کرتے تھے تاکہ لوگ جرم سے نیکی کی طرف آئیں،  اب  جبر کرتے ہیں کہ نیکی کا انکار کر کے برائی کا اقرار کریں۔ جنید حفیظ اگر مجرم ہے تو اتنا ہی مجرم ریاست پاکستان کا وزیر اعظم بھی ہے۔ شاید جنید سے زیادہ کہ اس پر جو الزام لگایا اس کے گواہ ہی موجود نہیں لیکن وزیر اعظم نے جو گفتگو کی اس کے گواہ اور ریکارڈنگ موجود ہے۔ کیا ہماری عدلیہ اور ہمارے اسلام پرست  جنید اور عمران دونوں کے ساتھ ایک سا سلوک کر رہے ہیں۔ اگر یہ مذہب کی محبت ہے تو پھر کہنے دیجئے کہ آپ کی محبت اور عقیدت کا معیار اب طاقت، دولت اور سٹیٹ کو دیکھ کر قائم ہوتا ہے۔ جنید کو پھانسی دیجئے لیکن اس سے پہلے وزیر اعظم کو بھی یہی سزا دیجئے۔ جنید اگر مجرم ہے، اگر وہ توہین مذہب کا مرتکب ہوا ہے تو اسے ضرور پھانسی دیں لیکن ایک لمحہ کے لئے دل پر ہاتھ رکھ کر خود سے سوال کریں کہ اگروہ مجرم نہ ہوا تو؟؟؟؟؟ تو یقین مانیئے پھر یہ پورا سماج توہین مذہب کا مجرم ہو گا کہ مذہب کی اس سے بڑی توہین اور کچھ نہیں ہو سکتی کہ اس کے نام پر کسی بے گناہ کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا جائے اور شاید آپ ایک بار پھر ایسا ہی کرنے جا رہے ہیں۔ مذہب کے نام پر سماج کو توہین مذہب کا مجرم بنانے پر خود کو میڈل ضرور دیجئے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے