جمعہ , 24 جنوری 2020

پاکستان کی ماتا ہری

تحریر: محمد امان اللہ
maniptv@gmail.com 

پاکستان کی ماتا ہری


جاسوسی کی دنیا میں وہ واحد خاتون تھی جس نے عالمی سطح پر اس قدر شہرت پائی۔ اس کے بعد جاسوس بننے والی لڑکیوں کو اس کا کردار بطور ٹیسٹ کیس پڑھایا جانے لگا۔ یہ پہلی جنگ عظیم کا دور تھا۔ ماتا ہری جرمنی کے لیے جاسوسی کرتی تھی اور فرانس کے فوجی راز جرمنی تک پہنچاتی تھی جس کے بدلے میں دولت کی دیوی اس پر مہربان رہنے لگی تھی۔ ایک وقت آیا جب ایک لڑکی کی اس قدر جرمن فوجیوں سے قربت فرانسیسی حکومت کی آنکھوں میں کھٹکنے لگی اور انہوں نے ماتا ہری کی خفیہ نگرانی شروع کر دی۔ فرانس کے فوجی افسران نے اس کے بے حد اہم ریڈیائی پیغامات پکڑ لیے جو جرمنی کو دیے جا رہے تھے ا سے 13 فروری 1917ء کو پیرس کے ایک ہوٹل سے گرفتار کر لیا گیا اور 24 جولائی 1917ء کو اس پر فرد جرم عائد کر دی گئی کہ وہ جرمن جاسوس ہے۔ جس کی جاسوسی کی وجہ سے کم ازکم پچاس ہزار فرانسیسی سپاہیوں کی زندگی ختم ہو گئی۔ اس نے جرم سے انکار کیا لیکن فرانس نے اس کی بات پہ یقین نہیں کیا اور 15 اکتوبر 1917ء کو صرف اکتالیس سال کی عمر میں اسے فائرنگ اسکواڈ نے ہلاک کیا۔ یوں ماتا ہری اپنے انجام کو پہنچی۔ وہ پیشہ ور رقاصہ تھی لیکن اس سے بھی زیاد طاقتور، با اثر اور باکمال جاسوسہ تھی۔ ماتا ہری کے بعد اس پایہ کی جاسوسہ منظر عام پر نہیں آئی۔ اب لگ بھگ ایک صدی بعد ایک ایسی لڑکی سامنے آئی ہے جس نے ایک پورے ملک کی سیاسی قیادت کو یرغمال بنا لیا ہے۔ وہ بظاہرکسی ملک کی جاسوس نہیں ہے۔ وہ کسی ایجنڈے پر بھی نہیں ہے۔ اس کا تعلق کسی بہت امیر گھرانے سے بھی نہیں ہے۔ وہ کسی معروف خاندان سے بھی نہیں ہے۔ دو برس قبل اسے کوئی جانتا تک نہ تھا۔ اس کے باوجود وہ کسی فلمی کردار کی طرح اچانک منظر نامے پر نمودار ہوئی، اس نے دیکھا اور اس نے فتح کر لیا۔ ایک کے بعد ایک منزل طے کرنے والی یہ لڑکی اب اپنے ملک کے وزیر اعظم کو دھمکی دے رہے ہے۔ اس نے کئی وزرا کے چہرے بے نقاب کئے۔ اس نے حساس عمارتوں کو کھیل تماشے کے طور پر پیش کیا۔ اس کے باوجود اسے حکومتی اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ اس نے ثابت کیا کہ اہم اور حساس عمارتوں، دفاتر اور رہائش گاہوں کی سکیورٹی اس کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایک جاسوس ہے۔ ایسی جاسوس جسے اس کے مددگار ہر اہم اور حساس جگہ تک پہنچنے میں غیبی مدد فراہم کرتے ہیں۔ کیا اس کے ذریعے پیار محبت کے نام پر جال بچھا کر یا ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کر کے اہم شخصیات کی معلومات، ڈیٹا اور اندرونی منصوبے حاصل کئے جاتے ہیں؟ کیا اس وقت پورے ملک کی اشرافیہ بشمول وزیر اعظم اس کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے ہیں؟ کیا حریم شاہ وہ لڑکی ہے جو کسی اہم عہدے پر نہ ہونے کے باجود اس وقت ملک کا نظام چلا رہی ہے؟ حریم شاہ کے ویڈیو اسکینڈلز نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک دو برس قبل جس لڑکی کو اس کے محلے دار نہ جانتے تھے وہ اچانک برسر اقتدار گروپ کے قریب آئی اور پھر اس حد تک قریب آ گئی کہ ایک کے بعد ایک اہم شخصیت اس کا ذکر کرنے پر مجبور ہو گیا۔ ایک کے بعد ایک وزیر اس کی ویڈیو سکینڈلز کا شکار ہونے لگا۔وہ ان افراد سے ملنے لگی جس کی سکیورٹی عام لوگوں کو ان تک پہنچنے نہیں دیتے۔ وہ ان دفاتر تک بھی پہنچ گئی جہاں اجازت کے بنا چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس کی ایسی ہر ویڈیو کا دفاع کرے والوں میں حکومتی جماعت کے لوگ شامل ہیں۔ سوال کئی ہیں؟ کیا ہر ایسے شخص کے سکینڈل پر مبنی ویڈیو موجود ہے جس کی وجہ سے یہ اس لڑکی کے دفاع پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایک عام سی لڑکی کسی سپورٹ کے بنا دنوں میں اس سطح پر پہنچ سکتی ہے؟کیا کوئی عام سی لڑکی محض ایک سال میں ریاست کے وزرا کی نجی محفلوں کی زینت بن سکتی ہے؟ کیا کوئی لڑکی وزیر اعظم ہاؤس کے میٹنگ روم تک جا سکتی ہے؟ کیا کوئی عام لڑکی اس طرح سیلفیاں اور ویڈیو بنا سکتی ہے کہ پوری سیاسی قیادت ہی برھنہ ہو جائے۔ حریم شاہ کی سیلفیوں سے لے کر عرب امارات کے عہدے داروں تک رسائی کا سفر اتنا تیز ہے کہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا وہ ایک وزیر کی ویڈیو کال کسی کے بھی اشارے کے بغیر اس طرح جاری کرنے کی ہمت کر سکتی تھی؟ کیا وہ وزیر اعظم کے حوالے سے کوئی ایسی بات کسی بھی تیسری طاقت کے اشارے کے بنا کر سکتی ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں معمولی بات پر لوگ مارے جائیں، یا ان پر مقدمات بن جائیں یا پھر وہ اچانک منظر نامے سے ہی غائنب کر دیئے جائیں۔ اسی ملک میں ایک لڑکی وقت کے وزیر اعظم سمیت دیگر سیاسی قیادت کے سکینڈلز سامنے لانے لگے اور کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے۔ یہ کہانی اتنی سادہ نہیں ہے۔ حریم شاہ کون ہے یہ کوئی نہیں جانتا۔ وہ کہاں سے آئی ہے یہ بھی لوگوں کی اکثریت نہیں جانتی لیکن وہ ایک ایسی سٹار بن گئی ہے جس کا ایک ایک جملہ لوگوں کو متوجہ کرنے لگا ہے۔ جو ایک لمحے میں ریاست کے شہریوں کو اپنی جانب متوجہ کر سکتی ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس کی ایک ویڈیو لوگوں میں ریاست کے منتخب نمائندوں کے خلاف منفی جذبات ابھار سکتی ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جس کی مدد سے حکومتیں بنائی اور گرائی جاتی ہیں۔ یہ طاقت نہ تو از خود حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی اسے استعمال کیا جاتا ہے۔اگر دیکھا جائے تو حریم خان نے انتہائی مختصر وقت میں ریاست کے اہم عہدے داروں بشمول وزیر اعظم تک رسائی حاصل کی، ان میں سے کئی ایک کی ویڈیوز بنائیں یا ایسا ڈیٹا اپنے پاس محفوظ کیا، ریاست کے اہم اور حساس دفاتر تک رسائی حاصل کی، ہنستے کھیلتے جانے کتنا ڈیٹا محفوظ کیا اور پھر وہ اتنی طاقتور ہو گئی کہ اس نے دھڑلے سے وزرا سمیت اہم عہدے داروں کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ یہ سب بتاتا ہے کہ کہانی اتنی سادہ نہیں جتنی نظر آتی ہے۔ کیاایک اور ماتا ہری ہمارے درمیان موجود ہے؟ حریم شاہ کس کا ”ہتھیار“ ہے اور اسے کون چلا رہا ہے؟ یہ وہ سوال ہیں جن کے جوابات تحریر نہیں کئے جا سکتے۔ اس کے پیچھے موجود اصل ماسٹر مائنڈ کیا گیم کھیل رہا ہے یہ بھی نہیں لکھا جا سکتا۔ ابھی حریم شاہ کے پاس کس کس اہم شخصیت کی ویڈیو موجود ہے اور کون کونسا سا سکینڈل ابھی منظر عام پر آنا ہے۔ بہرحال یہ طے ہے کہ حریم شاہ کی وجہ سے ملک کے اونچے ایوانوں میں بھونچال آ چکا ہے لیکن کوئی بھی اس کا بال تک بیکا نہیں کر پایا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے