ہفتہ , 18 جنوری 2020

شیطانی تنظیموں نے انتہائی معروف خاتون’’ کرنجیت کور‘‘ کو خدانخواستہ پاکستان کو تباہ کرنے کیلئے ایکٹو کر دیا،

پاکستان میں ان دنوں ایلیومناتی تنظیموں کے چرچے ہیں ۔ کس طرح یہ لوگ لوگوں کے اذہان کو ہائی جیک کر رہے ہیں ، کس طرح سے دجال کی آمد کے حوالے سے سب کے ذہنوں کو تیار کیا جا رہا ہے یہ سب کچھ اب واضح ہو چکا ہے ۔
دجالی تنظیموں کا سب سے بڑا ہتھیار فحش فلمیں ہیں ۔ جن کی مدد سے یہ لوگ انسان کی روحانی طاقت کو بالکل ختم کر دیتے ہیں جس کے بعداگر انسان کو مردہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ آپ سب کیلئے بے حد حیران کن بات ہوگی کہ کس طرح ایک اداکارہ کرنجیت کور المعروف سنی لیون کے ذریعے پاکستان اور بھارت کے لوگوں کو بہکایا جارہا ہے۔ قارئین آپ سب بھارتی پروگرام بگ باس بے حد شوق سے دیکھتے ہیں مگر کیا آپ کو اس کا نقصان معلوم ہوسکا ؟ اگر نہیں آج کی یہ تحریر آپ سب پاکستانیوں کیلئے بے حد ضروری ہے ۔ قارئین ٹی وی چینل اور ان پر چلنے والے پروگرامز ہمارے ذہنوں پر اثر ڈالتے ہیں۔ بگ باس ، بھارتی ڈرامے ، بالی ووڈ فلمیں اور ان جیسے کئی پروگرامز نے محبت کےنام پر زنا ، ایڈنچر کے نام پر ڈاکہ زنی ، ٹک ٹاک کےنام پر قتل و غارت اور بے حیائی کا ننگا ناچ دکھایا ۔پہلے لوگوں کو معلوم بھی نہ تھا کہ فحش فلمیں کیا ہوتی ہیں مگر اب چھوٹے چھوٹے بچے جانہ صرف فحش فلمیں دیکھتے ہیں بلکہ ان کی الگ الگ اقسام سے بھی بخوبی واقف ہیں ۔ الیومناتی تنظیموںنے بگ باس جیسے پروگرام کے ذریعے ایسا سحر انگیز پروگرام مرتب کیا کہ جو اسے ایک بار دیکھے وہ بار بار دیکھنے پر مجبور ہو جائے اور اس پروگرام میں ایک شخص کے احکامات پر عملدرآمد یہ سب الیومناتی ہتھکنڈے ہیں ۔ پھر اس پروگرام میں ایک فحش اداکارہ آتی ہے جسے سب سنی لیونی کے نام سے جانتے ہیں ۔ اس عورت کے بالی ووڈ کے اس پروگرام میں آتے ہی پورن سرچنگ میں اضافہ ہوتا ہے اورآئی ٹی ایکسپرٹس نے تو یہاں تک بھی کہہ دیا کہ پاکستان اور بھارت میں سنی لیونی کی آمد کے بعد رگوگل پر فحش فلموں کی سرچنگ میں ریکارڈ اضافہ ہوا جو اس پہلے تاریخ میں کبھی نہیں ہواتھا ۔یہ سب اس سحر انگیز پروگرام بگ باس میں ایک سنی لیونی کی آمد کا نتیجہ تھا کہ بھارت میں ہلچل مچ گئی ، خواتین نے اس پر بے پناہ احتجاج کیا کہ یہ بھارت میں فحش فلموں کو پروموٹ کرنے کی ایک سازش ہے جس کے بعد بھارت میں طلاق کی شرح میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے