جمعہ , 24 جنوری 2020

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی !!!

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی !!!
Mujtabaexpress@gmail.com

آرمی ایکٹ میں ترمیم پر طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا، حکومت کی غلطیاں تو جاری ہیں، وہیں اپوزیشن کی مزاحمتی سیاست کا پردہ چاک ہو رہا ہے، جنرل باجوہ ہی کیوں؟ لوگ ایسے سوال بھی کرنے لگ گئے ہیں۔۔۔۔۔
تین جنوری کو حکومت نے خوشی خوشی قومی اسمبلی کی دفاعی پارلیمانی کمیٹی سے ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دلائی، لیکن،،، اتوار کو پتا چلا کہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہی غیر قانونی تھا،،، حکومت کو پیر کو اجلاس دوبارہ طلب کرنا پڑا،،
قوم وزیراعظم عمران خان کے یوٹرن پر بھی حیران ہے، عمران خان ماضی میں ایک نہیں کئی بار ایکسٹینشن کی مخالفت کر چکے ہیں،،، اب جنرل باجوہ پر ہی اصرار کیوں ؟؟ کیا پاک فوج میں کوئی اور قابل جنرل نہیں؟ کیا پاک فوج کا مورال اتنا ہی کمزور ہے کہ ایک جنرل کے جانے سے گر جائے گا ؟؟؟ کہنے والوں کا کہنا ہے ایکسٹینشن کو لے کر کور کمانڈرز میں بھی خاصی بے چینی ہے اور چار سے پانچ جرنیل ہی ایکسٹینشن کو سپریم کورٹ میں لے جانے کے پیچھے تھے۔۔۔۔
اب زرا آئیے اپوزیشن کی طرف ،،، مسلم لیگ ن کی دو سال سے جاری مزاحمت تو بالکل ہی خاک ہو گئی،،، نواز شریف نے ماضی میں جنرل اسلم بیگ کو توسیع دینے کی مخالفت کی،، جنرل کیانی کی توسیع کے خلاف بولے،،، جنرل راحیل شریف کو چھوٹے بھائی کے اصرار کے باوجود توسیع نہیں دی ،، تو اب ایسا کیا ہوا کہ مسلم لیگ ن ووٹ دینے کے لیے لائن میں کھڑا ہو گئی،،، کیا بیٹی کو لندن بلانا ہے یا کوئی اور معاملہ ؟؟؟ پوچھنے والے تو اب یہ بھی پوچھتے ہیں ،،، خلائی مخلوق کون تھی۔۔۔ ایسا ہی کرنا تھا تو پہلے ہی چودھری نثار کا کہا مان لیتے۔۔۔
بلاول زرداری نے کچھ دن پہلے کسی بھی سرکاری افسر کو توسیع دینے کی مخالفت کی ،،، لیکن ،، اب وہ بھی ،، نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز،،، کا حصہ بنے دکھائی دے رہے ہیں۔۔۔ مزاحمت کا یہ نوجوان چہرہ بھی روایتی سیاست کا حصہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔۔۔۔
حکومت اور بڑی اپوزیشن جماعتوں نے اپنے ماضی کے مؤقف سے یوٹرن لیا،، لیکن ،، کیا اتنی زیادہ تنقید کے بعد جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن لینی چاہیے ،،، اس پر سپہ سالار کو تنہائی میں بیٹھ کر سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہے،، شاعر سے معذرت کے ساتھ۔۔۔۔
اے طائرِ لاہُوتی! اُس ’ایکسٹینشن‘سے ’ریٹائرمنٹ‘اچھّی
جس ’قانون‘ سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے