بدھ , 21 اکتوبر 2020

یہ وطن تمہارا ہے! Part 2

یہ وطن تمہارا ہے!
Part 2
تحریر: محمد امان اللہ
maniptv@gmail.com

آرمی کے پاس 2 فل جنرل, ‏29 لیفٹنٹ جنرل ‏اور ‏194 میجر جنرل ہیں. ‏اس وقت 9 کور فوج کے لیے 30 لیفٹننٹ جنرل ہیں۔ 18 ڈویژن کے لیے 166 میجر جنرل۔ باقی نیچے بریگیڈئر، کرنل،
لیفٹننٹ کرنل، میجر کا حساب لگا لیں۔ اس کے علاوہ ڈی جی آیی ایس پی آر جو کہ ایک کرنل رینک کی آسامی تھی اس پہ اب میجر جنرل لگایا جاتا ہے۔ یعنی ٹوئیٹر چلانے کے لیئے بھی فوج جرنیل استعمال کرتی ہے.

ایک جرنیل سے لے کر بریگیڈیئر، لیفٹننٹ کرنل، میجر تک ہر ایک فوجی، پاکستانی عوام کو کتنے میں پڑتا ہے، کبھی اس بارے میں آپ نے سوچا ہے ؟

اگر حقیقت آپ کے سامنے آجائے تو۔۔۔۔
‏ عوام کی آنکھیں کھل جائیں گی اور سیاستدان فرشتے لگنے لگیں گے.

تنخواہ کے علاوہ مراعات جن میں دوران ملازمت مفت رہائشی بنگلہ، مفت بجلی، مفت پانی، مفت گیس، سی ۱۳۰ طیارے میں پورے ملک میں مفت سفری سہولت، پی آئ اے اور ریلوے سے رعایئتی ٹکٹ پر سفر کی سہولت، نوکر (bat man) کی سہولت، بریگیڈیئر اور اس سے اوپر والوں کے لیئے سٹاف کار (یعنی سرکاری گاڑی), بچوں کی آرمی پبلک اسکول، FWO اسکول، PAF انٹر کالجز، بحریہ اسکول و کالج، NUSTکایورسٹی، الیکٹرکل اینڈ مکینکل انجنیئرنگ یونیورسٹی (EME) میں مفت پیشہ ورانہ تعلیم، آرمی میڈیکل کالج میں مفت ڈاکٹری کی تعلیم، آرمی, ایئرفورس اور نیوی اسپتالوں میں فوجیوں کا اپنا، ان کے بچوں، بیوی اور والدین کا تا حیات مفت علاج، ریٹائیرمنٹ کے بعد تمام جائداد ویلتھ ٹیکس سے مستثنی، فلیٹ، ولاز، دکانیں، پلاٹ، مربعے اور نہ جانے کیا کیا ان فوجیوں کو دیا جاتا ہے۔۔۔
اس کے علاوہ ریٹائرمنٹ کے بعد کسی سرکاری ادارے کا سربراہ لگا دیا جاتا ہے.

ریٹائرڈ فوجیوں اوران کے بچوں کی فلاح کے نام پر ٹرسٹ اور فلاحی ادارے کی آڑ میں بینک, انشورنس کمپنیاں, فرٹیلائزر, سیمنٹ, سریئے کی فیکٹریاں, ڈیری فارمز, شوگر اور ٹیکسٹائل ملیں, مرچ مسالحے کی فیکٹریاں اور یہاں تک کہ پیٹرول پمپ اور شادی ہال تک چلائے جا رہے ہیں. ملک کی معیشت مسلسل زوال پزیر ہے, لوگوں کے کاروبار بند ہو رہے ہیں, سرمایہ ڈوب رہا ہے لیکن 1953 میں ملنے والے 18 لاکھ ڈالر سے چیرٹی کے نام پر شروع کیا جانے والا کاروبار ترقی کرتے آج اربوں ڈالر کا سرمایہ بن گیا ہے. وجہ صرف یہ کہ جن لائسنسوں اور پرمٹوں کے لیئے عام سرمایہ کار سالوں دفتروں کے چکر کاٹتے ہیں اور ذلیل و خوار ہوتے ہیں وہ ان فوجیوں کو بغیر چوں چراں کیئے دے دیئے جاتے ہیں. مزید یہ کہ اگر کسی کاروبار میں نقصان ہوتا ہے تو سرکاری بجٹ سے بھرپائی ہو جاتی ہے.

شہدا کے ورثاء کے نام پر لی جانے والی قیمتی شہری زمینوں پر ہاوسنگ سوسائٹیاں بنا ڈالیں اور شہریوں کو مہنگے داموں اربوں کما لیئے لیکن کسی کی جرات نہیں کہ سوال کر سکے. اگر عام شہری کوئی فلاحی این جی او کھولنا چاہے تو فوج والے فنڈنگ کے زرائع کو غیر تسلی بخش قرار دے کر پابندی لگا دیتے ہیں اور خود ریٹائرڈ فوجیوں کی فلاح بہبود کے نام پر ادارے بنا کر کاروبار کر رہے ہیں.

دنیا پھر میں ریاست کا قیام اپنے عوام کی فلاح بہبود اور سماجی معاشی ترقی کے لئے کیا جاتا ہے – لیکن اس ملک میں فلاح بہبود صرف فوجی ملازمین کے لیئےہے. فوج پچھلے ستر سال سے پاکستان کی غریب عوام کے منہ کا نوالہ چھین کر اپنا پیٹ بھر رہی ہے اور ساتھ میں آپ پر یہ احسان بھی جتا رہی ہے کہ آپ کو رات کو سکون کی نیند فوج کی وجہ سے آتی ہے۔ کوئ قوم بھی بھلا اتنی کم عقل اور نادان ہو سکتی ہے، جتنی کہ پاکستانی قوم ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے