اتوار , 29 مارچ 2020

ویلنٹائین ڈے کی ابتدا

تحریر. چودھری حماد رضا
اسلام دینِ فطرت ہے محبت انسانی فطرت کا تقاضا ہے اسی لیے اسلام نے محبت کرنے سے نہیں روکا بلکہ اللہ تعالی کی رضا کے واسطے محبت کرنے والوں کو قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سائے کے نیچے جگہ کا وعدہ فرمایا ہے البتہ محبت کی حدود و قیود بتائی ہیں محبت اللہ اور اس کے رسول سے ہو اور ان کے ارشادات کے تحت والدین بھائیوں بہنوں بیوی اولاد اور نیک لوگوں سے ہو اسلامی تعلیمات کے ہوتے ہوۓ غیروں کی نقل کرنا مسلمان کو زیب نہیں دیتا مغربی تہذیب میں چودہ فروری کو ایک شدید گندی اور بے حیائ والی رسم منائ جاتی ہے اور اب اس بے حیاء رسم کے گندے جراثیم ہمارے معاشرے میں سرائیت کر چکے ہیں یہ رسم ہماری سوسائیٹی کا حصہ بن چکی ہے جس میں امت مسلمہ کے بیٹے بیٹیاں ذوق و شوق سے حصہ لیتے ہیں حالانکہ یہ سب کافروں کی نقالی ہے جس کی حقیقت یہ ہے کہ اس دن کا تعلق قدیم رومیوں کے ایک دیوتا کے مشرکانہ تہوار سے ہے یہ تہوار ہر سال فروری کے وسط میں منایا جاتا تھا اس تہوار میں کنواری لڑکیاں محبت کے خطوط لکھ کر ایک بہت بڑے گلدان میں ڈال دیتی تھیں اس کے بعد نوجوان لڑکے اس میں سے انتخاب کرتے تھے پھر وہ نوجوان لڑکے لڑکیاں شادی سے پہلے ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ملاقاتیں کرتے ایک دوسرے کو پھول اور دوسرے تحائف دیتے افسوس آج ہمارے معاشرے میں اس قبیح رسم کو اس قدر فروغ دیا گیا کہ پڑھے لکھے لوگوں کی اولادیں بھی اس کا شکار ہو گئ اور حیا اور پاکدامنی جو گناہوں سے بچنے کا ایک مسلمان کے پاس موئثر ہتھیار تھا اس کا جنازہ نکلنے لگا کاش کہ یہ نو جوان اپنی ماں سے محبت کرتا جس پر اسکو ثواب ملتا کاش یہ اپنی حقیقی بہن سے محبت کرتا جس کی کفالت پے اللہ کے نبی نے جنت کی بشارت دی کیا ایک با حیا بیٹی کو ایسی بات زیب دیتی ہے کہ وہ غیر محرم سے تعلق قائم کر کے اللہ اور اس کے رسول کو نا راض کریں یہ کہاں کا انصاف ہے ؟چاہیے تو یہ تھا ہم نبی اکرم کی تہذیب اور ثقافت کو اس قدر غالب کرتے کے غیر اقوام ہماری نقالی پر مجبور ہو جاتیں لیکن ابھی بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا ہمیں چاہیے کے اس قبیح رسم سے کنارہ کشی کر کے اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی پابندی کریں .

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے