منگل , 25 فروری 2020

پاکستان کے اہم شہر میں کچرا جمع کرنے والے بچے نے ایمانداری کی مثال قائم کردی، کوڑے دان سے ملنے والی 3 لاکھ 50 ہزار کی رقم اصل مالک کو واپس کردی

کچرا جمع کرنے والے بچنے نے ایمان داری کی اعلیٰ مثال قائم کردی ‘ کچرے سے ملی ساڑھے تین لاکھ 50 ہزار روپے کی رقم اصل مالک کو واپس لوٹا دی ۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں ایک منفرد واقعہ دیکھنے میں آیا ، جہاں ایک فیملی کے گھر شادی کے دوران پیسوں سے بھرا لفافہ گم ہو گیا ۔ لفافے میں 3 لاکھ پچاس لاکھ روپے تھے۔ گھر کے تمام افراد نے پیسے تلاش کرنے کی کوشش کی تاہم نہ کام رہے۔ بعدازاں گھر کے افراد کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ پیسوں سے بھرا لفافہ لاعلمی
کے باعث کچرے میں پھینک دیا تھا ۔ رقم کوڑے دان میں تلاش کی گئی تو معلوم ہوا کچرا پھینک دیا گیا تھا ۔ 10 فروری کی صبح کو اس خاندان کا ایک فرد کچرا جمع کرنے والے بچے سے ملا اور بتایا کہ ایک لفافہ کچرے میں چلا گیا ہے جس میں لاکھوں روپے ہیں۔ بچہ اس شخص کو اپنے گھر والد کے پاس لے گیا ، پشتون فیملی سے تعلق رکھنے والے کچرا جمع کرنے والے شخص نے یقین دہانی کرائی کہ آپ کے پیسے ڈھونڈ نکلالیں گے۔ بچے کی نشاندہی پر اس کے والد نے مالک کو دیا گیا 9 فروری کا کچرا نکلا تاہم لفافہ نہ مل سکا۔ کچھ دن بعد متاثرہ گھر کی گھنٹی بجتی ہے، اور کچرا جمع کرنے والے دو بچے اپنے والد کے ساتھ ہاتھ میں پیسوں سے بھرا لفافہ اصل مالک کے حوالے کر دیتے ہیں۔ جس کے بعد انہیں پیسے دینے کی آفر کی گئی تاہم انہوں نے ایمانداری کے بدلے کسی قسم کی رقم لینے سے انکار کر دیا، تاہم بہت زیاد اصرار کرنے کے بعد کچھ رقم بچے اور اس کے والد کو تحفے کے طور پر دے دی گئی۔ جس پر لوگوں نے پشتون فیملی کی ایمانداری کو سراہا اور کہا کہ ایمانداری کی اس طرح کی مثالیں انسانیت پر اعتماد بڑھا دیتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے