منگل , 25 فروری 2020

ترک صدر کے ساتھ ترکی سرمایہ کار بھی صدر کے ساتھ ہیں

ترک صدر رجب طیب اردوان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ترکی کے لیے وہی ہے جو پاکستان کے لیے ہے۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس دونوں ممالک کے قومی ترانوں سے ہوا جس کے بعد اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ترک صدر کے ساتھ ترکی سرمایہ کار بھی صدر کے ساتھ ہیں ، جس کی بدولت پاکستان میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا ہونگے، ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ طیب اردگان نے اپنے ساتھ آنے والی ٹیم کو پاکستان میں دل کھول کر انسوٹمینٹ کرنے کا کہا ہے
اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں اس بات کی یقین دہانی بھی کروائی گئی ہے کہ وہ پاکستان میں بغیر کسی شک و شبہات کے سرمایہ کاری کر سکتے ہیں کیونکہ اب عمران خان کی حکومت ہے وہ میرا بہت اچھا دوست ہے۔دفتر خارجہ کے مطابق صدر طیب اردوان کے ساتھ کابینہ ارکان، سینئر حکام اور ترک کارپوریشنز کے سربراہان پر مشتمل وفد بھی ہوگا۔ ترک صدر کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوگی جبکہ دونوں رہنما پاک ترک اعلیٰ سطح سٹریٹجک مشترکہ سیشن کی صدارت بھی کریں گے۔ترک صدر کے دورے کے دوران اہم معاہدوں اور مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط بھی کیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر مشترکہ پریس کانفرنس بھی کریں گے۔ترک صدر طیب اردوان پاکستانی ہم منصب سے ملاقات جبکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب بھی کریں گے۔ اس کے علاوہ طیب اردوان اور عمران خان پاک ترک بزنس اینڈ انوسٹمنٹ فورم سے خطاب کریں گے۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون پر مبنی گہرے تعلقات ہیں۔ ترکی کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ سائپرس کے معاملے پر پاکستان ترکی کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاکستان ترکی کیساتھ سٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا اور وسیع کرنے میں کردار ادا کرے گا۔دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ترکی اقتصادی تعلقات کو مزید بہتر بنانے پر زور دیتے ہیں۔ پاکستان اور ترکی اسلامو فوبیا سے نمٹنے اور اسلامی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ عزم رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے