منگل , 25 فروری 2020

شوہر کو زندگی کی جمع پونجی 10لاکھ دے کر بیرون ملک بھیجنے والی خاتون کو خاوند نے طلاق بھجوا دی

مشرقی خواتین بہت وفا شعار ہوتی ہیں، وہ اپنے خاوند پر جان چھڑکتی ہیں اور اُنہیں زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھنا دیکھنا چاہتی ہیں۔ تاہم کئی بار اپنے خاوند کے لیے بڑی بڑی قربانیاں دینا بھی اُن کے کسی کام نہیں آتا ۔ کچھ ایسا معاملہ ہی ایک سعودی خاتون کے ساتھ ہوا ہے۔ جس نے اپنے خاوند کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لیے 10 لاکھ ریال خرچ کر ڈالے۔ تاہم اس ہرجائی خاوند نے بیوی کی اس مہربانی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے انتہا درجے کی احسان فراموشی کر ڈالی۔ جب خاوند کو اعلیٰ تعلیم کے بعد اچھا روزگار میسر ہو گیا
تو اس نے اپنی بیوی کو طلاق نامہ تھما دیا۔ اُردو نیوز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مظلوم خاتون نے داد رسی کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا ہے ۔ خاتون کا کہنا ہے کہ ’ شادی کے بعد شوہر کی خواہش پر اسے اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لیے 10 لاکھ ریال کے اخراجات برداشت کیے تاکہ ہماری بعد کی زندگی پرسکون گزرے مگرمیں نہیں جانتی تھی کہ جس شخص پر میں اپنی زندگی بھر کی جمع پونچی خرچ کر رہی ہوں اس کا منصوبہ ہی کچھ اور ہے۔ عدالت نے مقدمے کے تمام پہلووٴں کا جائزہ لینے کے بعد شوہر کو پابند کیا کہ وہ مطلقہ سے لی گئی تمام رقم واپس کرے جو اس کی تعلیم پر خرچ کی گئی تھی۔متاثرہ خاتون کے وکیل نے کہا کہ ’ میری موکلہ نے اپنے شوہر کی تعلیم پر اس لیے خرچ کیا تھا کہ وہ واپس آکر اچھی جگہ نوکری کرے گا جس سے اُن کی آئندہ زندگی بہتر گزرے گی مگر میری موکلہ کو یہ علم نہیں تھا کہ وہ جس پر احسان کر رہی ہے وہ احسان کے معنی ہی سے واقف نہیں‘۔ شوہر نے عدالت میں اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ’ یہ درست ہے کہ میری بیوی نے مجھے 10 لاکھ ریال دیے تھے تاکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکوں تاہم دی گئی رقم تحفہ تھی اور تحفہ لوٹایا نہیں جاتا۔‘بیوی نے جواب میں کہا کہ ’ میں نے اپنی جمع پونچی اس لیے نہیں دی تھی کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد مجھے اپنی زندگی سے ہی نکال باہر کرے گا۔ بیوی نے کہا کہ ’ میری خواہش تھی کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اچھی ملازمت حاصل کرے گا اور ہماری زندگی بہتر انداز میں گزرے گی مگر اس نے میری کسی قربانی کا خیال ہی نہیں کیا۔ رقم لینے سے قبل میرے سابقہ شوہر نے اس بات کا بھی یقین دلایا تھا کہ وہ اچھی نوکری ملتے ہی تمام رقم لوٹا دے گا مگر رقم واپس کرنا تو دور کی بات اس نے تو تعلق ہی ختم کر دیا۔عدالت کی جانب سے شوہر کو پابند کیا گیا کہ وہ حاصل کی جانے والی رقم فوری طور پر واپس کرے کیونکہ خاتون نے اپنی جمع پونچی اس لیے نہیں دی تھی کہ وہ اپنا مقصد حاصل کر کے اسے نقصان پہنچائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے